Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ جنازہ میں حاضر ہوتے ہیں

  علی محمد الصلابی

ابو الاسود سے روایت ہے فرمایا کہ میں مدینہ گیا وہاں ایسے وقت پہنچا جب کہ وباء عام تھی، لوگ بہت تیزی سے مر رہے تھے میں حضرت عمر بن خطابؓ کے پاس بیٹھ گیا، اتنے میں اِدھر سے ایک جنازہ گزرا لوگوں نے میّت کا ذکر خیر کیا، تو سیدنا عمرؓ نے فرمایا: واجب ہو گئی، پھر دوسرا جنازہ گزرا، اس کا بھی ذکر خیر کیا گیا، حضرت عمر فاروقؓ نے پھر فرمایا: واجب ہو گئی۔ پھر تیسرا جنازہ گزرا، لوگوں نے اس کی برائیوں کا ذکر کیا، حضرت عمرؓ نے فرمایا: واجب ہو گئی، ابو الاسود نے پوچھا: اے امیر المؤمنین کیا چیز واجب ہو گئی؟ آپؓ نے جواب دیا: میں نے اسی طرح کہا ہے جس طرح رسول اللہﷺ نے کہا تھا، یعنی ارشادِ نبوی ہے:

 اَیُّمَا مُسْلِمٍ شَہِدَ لَہٗ اَرْبَعَۃٌ بِخَیْرٍ اَدْخَلَہُ اللّٰہُ الْجَنَّۃَ۔

ترجمہ: ’’جس مسلمان کے بارے میں چار مسلمان خیر کی گواہی دے دیں اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا۔‘‘

پھر ہم نے کہا: اور تین کی گواہی؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’وثلاثۃ‘‘ اور تین کی گواہی بھی۔ پھر ہم نے کہا: اور دو کی گواہی؟ تو آپﷺ نے فرمایا: ’’وَاثْنَانِ‘‘ اور دو کی گواہی بھی، آپؓ کا بیان ہے کہ پھر ہم نے ایک کے بارے میں نہیں پوچھا۔ 

(صحیح البخاری: حدیث 2643۔ مسند احمد: حدیث 139۔ الموسوعۃ الحدیثیۃ)