Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی نوازش و عطاء اور حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کا انکار

  علی محمد الصلابی

عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مانگا، آپﷺ نے مجھ کو دیا، میں نے آپﷺ سے دوبارہ مانگا، آپﷺ نے پھر دیا، میں نے آپﷺ سے تیسری بار مانگا، آپﷺ نے مجھے پھر دیا، اور کہا:

یَا حَکِیْمُ اِنَّ ہٰذَا الْمَالَ خَضِرَۃٌ حُلْوَۃٌ ، فَمَنْ اَخَذَہَا بِسَخاوَۃِ نَفْسٍ بُوْرِکَ لَہٗ فِیْہِ، وَمَنْ اَخَذَہٗ بِاِشْرَافِ نَفْسٍ لَمْ یُبَارَکْ لَہٗ فِیْہِ ، وَکَانَ کَالَّذِیْ یَاْکُلُ وَلَا یشْبَعُ الْیَدُ الْعُلْیَا خَیْرٌ مِّنَ الْیَدِ السُّفْلٰی۔

ترجمہ: ’’اے حکیم! یہ مال بہت سرسبز اور میٹھی چیز ہے، جس نے اس کو سخاوت نفس سے لیا، اس کے مال میں برکت دی گئی، اور جس نے اس میں (مزید سے مزید تر کے لیے) لالچ کیا اس کے مال میں برکت نہیں دی جائے گی۔ وہ اس آدمی کی طرح ہوگا جو کھاتا ہے، لیکن آسودہ نہیں ہوتا، اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔‘‘

حکیمؓ کا کہنا ہے کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسولﷺ! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا، میں اب آپﷺ کے بعد اپنی وفات تک کسی سے کچھ نہ مانگوں گا۔

بعد کے ادوار میں حضرت ابوبکرؓ نے حکیمؓ کو کچھ دینا چاہا لیکن آپ نے لینے سے انکار کر دیا پھر حضرت عمرؓ نے بلایا تاکہ کچھ دے دیں، لیکن آپ نے انکار ہی کیا۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: اے مسلمانو! میں نے ان حکیمؓ کے لیے مال فے کا حصہ لگایا اور ان کو دینا چاہا لیکن انہوں نے لینے سے انکار کر دیا۔ بہرحال نبی کریمﷺ کے بعد حکیمؓ نے پھر کسی سے کسی چیز کا مطالبہ نہیں کیا۔ 

(صحیح البخاری: حدیث 1472۔ صحیح مسلم: حدیث 1035)