حدیث کرسی
مولانا ثناء اللہ شجاع آبادیحدیث کرسی
ملا باقر مجلسی، بحارالانوار میں یہ روایت لائے ہیں:
کتاب المحتضر للحسن بن سليمان مما رواه من الأربعين رواية سعد الاربلی یرفعه الى سلمان الفارسی رضی الله عنه قال : كناعند رسول الله صلى الله عليه واله اذ جاء اعرابی - الخامسة ان جبرئيل عليه السلام قال: اذا كان يوم القيامة نصب لک منبر عن يمين العرش والنبيون كلهم عن يسار العرش وبين یدیه. (في المصدر: والنبيون كلهم عن يساره) و نصب لعلی عليه السلام كرسي الى جانبك اكراما له. (بحارالانوار: 27/128،127)
"حسن بن سلیمان نے کتاب المحتضر میں اربعین کی روایت سے سعد اربلی کے واسطے سے سلمان فارسی کی یہ حدیث نقل کی ہے، سلمان کہتے ہیں کہ: ہم رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں موجود تھے، اتنے میں ایک اعرابی آیا
(طویل روایت ہے جس میں حضرت علی کے فضائل مذکور ہیں، اس سلسلے میں فرمایا) پانچویں بات حضرت جبریل علیہ السلام نے یہ فرمائی: قیامت کے روز آپ کی کرسی عرش کے دائیں جانب لگائی جائے گی اور باقی تمام انبیاء کرام علیہم السلام عرش کے بائیں جانب کی کرسیوں پر ہوں گے۔ (اصل کتاب میں یہ الفاظ ہیں کہ تمام انبیاء کرام علیہم السلام حضرت علی کے بائیں جانب ہوں گے۔ حاشیہ) اور علی رضی اللہ عنہ کی کرسی ان کے اکرام کی بناء پر آپ کے پہلو میں لگائی جائے گی۔ یہ روایت بالکل موضوع اورتمام انبیاء کرام علیهم السلام کی اہانت مبنی ہے۔