Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

معاشرہ کی بعض عظیم شخصیتوں کی تربیت

  علی محمد الصلابی

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں عظیم سے عظیم شخصیتوں کو یہ موقع نہیں دیا کہ معاشرہ کے عام افراد پر ان کا تسلط ہو سکے، یا وہ ان پر کسی طرح کی دست درازی کر سکیں، یا لوگوں پر کسی طرح اپنی برتری دکھا سکیں۔ اس سلسلہ میں چند واقعات اس طرح ہیں:

ابوسفیان رضی اللہ عنہ اور مکہ میں ان کا گھر:

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ مکہ آئے، اہلِ مکہ سیدنا عمرؓ کے پاس دوڑتے ہوئے آئے اور کہا: امیر المؤمنین! ابوسفیان نے گھر بنایا ہے اور ہمارے گھروں کے پانی نکلنے کی نالیوں کو بند کر دیا ہے تاکہ ہمارے گھر گر جائیں عمر دُرّہ لے کر موقع پر آئے، دیکھا تو ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے پتھر گاڑ رکھے ہیں۔ آپؓ نے فرمایا: اس کو اکھاڑو، انہوں نے اسے اکھاڑ دیا، پھر آپؓ نے کہا: اس کو اکھاڑو، اور اس کو اکھاڑو۔ یہاں تک کہ کئی پتھروں کو بلکہ تقریباً پانچ یا چھ پتھروں کو اکھڑوا دیا۔ پھر حضرت عمرؓ کعبہ کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: شکر ہے اس اللہ کا جس نے عمر کو اس لائق بنایا کہ ابوسفیان کو مکہ میں حکم دے اور وہ عمر کی اطاعت کرے۔ 

(اخبار عمر: صفحہ 321۔ مناقب أمیر المومنین، ابن الجوزی: صفحہ 128)