شِیعہ مذہَب میں امامَت کا عقیدہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شِیعہ مذہَب میں امامَت کا عقیدہ

  مولانا غلام محمد

صفحہ 1 از 18

شِیعہ مذہَب میں امامَت کا عقیدہ

(شیعہ مذہب کا بنیادی عقیدۂ امامت گویا ختمِ نبوت کے عقیدہ کا انکار ہے۔ اس کے دلائل اور اس کے ثبوت)

اسلام میں نبوت اور ختمِ نبوت کا مفہوم، ختمِ نبوت کی اہمیت اور حقیقت

اسلام کے بنیادی عقائِد میں ختمِ نبوت اور رسالت کا عقیدہ اہم عقیدہ ہے۔توحید کے عقیدہ کے بعد نبوت اور رسالت کا عقیدہ ہے جس کی اسلامی کلمہ لا الہ الا اللہ محمدْ رَّسولُ اللہ کے الفاظ میں صحیح عکاسی ہوتی ہے ۔ دَرحقیقت ایمان بِالرَّسول ہی ایمان باللہ کا ذریعہ ہے۔ لہذا رسول پر ایمان کے بغیر اللہ پر ایمان ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا۔

نبوت اور رسالت صرف الفاظ نہیں ہیں بلکہ ان کے ایک متعین شدہ معنی ہیں۔ ہر نبی اور رسول اللہ تعالیٰ کی طرف سے نامزد ہو کر اللہ تعالیٰ کے بندوں کے سامنے اللہ تعالیٰ کی حُجّت بن کر آتا تھا۔ ان کو پہچاننا اور ماننا نجات کے لئے شرط تھا۔ ان کو وحی کے ذریعہ احکاماتِ الٰہی ملتے تھے اور ہر نبی معصوم اور مُفتَرِضُ الطاعة ہوتا تھا، وہ اور اس کی مقدس تعلیم اسکی اُمت کے لئے سرچشمۂ ہدایت ہوتی تھی۔ اسی طرح ختمِ نبوت یا ختمِ رسالت کے معنی مقرَّر اور معیَّن ہیں ایسا کونسا مسلمان ہو گا جس کو ان الفاظ کے معنی نہ آتے ہوں اور ان کی حقیقت و ماہیت سے ناواقف ہو۔ ختمِ نبوت اور ختمِ رسالت کی مکمل حقیقت سے اکثر مسلمانوں کی ناواقفیت کے سبب اسلام دشمن عبد اللہ بن سباء یہودی کی یہودی ذہنیت نے عام مسلمانوں کی اس کمزوری سے ناجائز فائدہ اٹھا کر امامت کے عقیدہ کو ایجاد کیا جس میں فی الحقیقت ختمِ نبوت اور ختمِ رسالت کے عقیدہ کے خاتمہ کا سو فیصد بارود بھرا ہوا ہے۔

مفکَّرِ اسلام مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ نے دو متضاد تصویریں نامی کتاب میں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؓ کا ایک مکاشفہ نقل کیا ہے ۔

شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ تحریر فرماتے ہیں کہ :

میں نے آنحضرتﷺ سے روحانی طور پر فرقہ شیعہ کے متعلق دریافت کیا مجھے جواب ملا کہ ان کا مذہب باطل ہے اور ان کے مذہب کا بطلان لفظ امام سے سمجھا جا سکتا ہے. شاہ صاحبؒ فرماتے ہیں کہ اس روحانی مراقبہ کی کیفیت ختم ہوئی تو مجھے خیال آیا کہ واقعی امام ان حضرات کے نزدیک وہ معصوم ہستی ہے جس کی اطاعت فرض ہے اور جس پر باطنی وحی آتی ہے اور حقیقت میں یہی نبی کی تعریف ہے اس لئے ان کا مذہب ختمِ نبوت کے انکار کا مُستَلْزِم ہے۔ (بروایت دو متضاد تصویریں ص77)

رسولُ اللّٰہﷺ کے خاتمُ النبیین ہونے کا مطلب یہ ہے کہ نبوت، رسالت، معصومیت اور براہِ راست اللّٰہ تعالیٰ سے وحی کے ذریعہ احکامات حاصل کر کے بندوں تک پہنچانے کی جو حقیقت ہے وہ حقیقت حضورﷺ پر ختم کی گئی ہے۔ اب قیامت تک آپﷺ ہی اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے نامزد رسول اور بندوں پر مقرر کردہ حجّت ہیں اور اب آپ کو اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے آخری حجت تسلیم کرنا اور آخری معصوم و مفترضُ الطاعۃ سمجھ کر قبول کرنا اور ایمان لانا ہی نجات کا سبب ہے، اور صرف آپﷺ کی اطاعت ہی اللّٰہ تعالیٰ کی اطاعت ہے اور حضورﷺ پر نازل شدہ کتاب قرآن کریم جو کہ حضورﷺ کے ساتھیوں یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ذریعہ ہم تک پہنچا ہے اور سید الکونینﷺ کے ارشادات یعنی احادیثِ رسول، اور اعمال جو خود آپﷺ نے کئے اور اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو سکھلائے جو ہمیں صحابہ کرامؓ کے ذریعہ موصول ہوئے، وہ قیامت تک آنے والے انسانوں کے لئے دینِ اسلام کی ہدایت کا سرچشمہ، مرجع اور ماخذ رہیں گے۔ حضورﷺ کے بعد کوئی بھی دوسرا شخص معصوم اور مفترض الطاعۃ ہونے والا نہیں ہے، نہیں تھا اور نہ ہی ہو گا ۔ اور نہ ہی کوئی دوسرا شخص اللّٰہ کے بندوں پر اللّٰہ کی طرف سے حجّت بن کر آئے گا اور نہ آیا تھا۔

اس متعین اور تسلیم شدہ حقیقت کو تسلیم کرنے کے برعکس اسلام کے دشمن سبائی ٹولے نے اسلام کے نام میں سیدنا علیؓ اور آپ کی اولاد میں سے چند شخصیتوں کا انتخاب کر کے امام کے نام سے پکارا پھر وہ تمام فضائل جو حضورﷺ کے رسول اور خاتمُ النبیین ہونے کے لئے مخصوص ہیں وہ سب کے سب ہر ایک امام کے لئے مخصوص کر کے آخری بارہویں امام پر ان فضائل کی تکمیل دکھائی ہے یا بقولِ شیعہ یوں کہا جائے کہ شیعوں کے ہر ایک امام نے (مَعَاذَ اللہ) یہ تمام فضائل بلکہ ان سے بھی مزید اَرفَع و اعلیٰ درجات و فضائل انتہائی وضاحت کے ساتھ اپنے لئے بیان کئے ہیں اور ان فضائل کی تکمیل بارہویں امام پر اس طرح کی گئی ہے کہ اِمامُ الانبیاء خاتمُ النبیین حضرت محمدﷺ کو امامُ العصر (یعنی سنہ460ھ سے ہر وقت اور ہر دور کے زندہ غائب امام کے ظاہر ہونے کے بعد اس کی بیعت یعنی فرمانبرداری کا عہد کرنا پڑیگا (اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ)۔

اب آپ ہی بتائیں کہ جس مذہب میں حضورﷺ کا بارہویں امام یعنی امام العصر ہی (غائب مہدی) کے ہاتھ پر بیعت کرنے کا عقیدہ ہو، تو اس مذہب میں امام کی نبیﷺ پر بالا دستی تسلیم کی جائیگی یا نبیﷺ کو امام پر فضیلت اور بالادستی حاصل ہوگی۔ فیصلہ آپ خود کریں۔ اب یہ دیکھنا ہے کہ اسلام کیا ہے؟ اور شیعہ مذہب کے تصنیف کرنے والوں نے اسلام اور ختمِ نبوت کو مٹانے کے لئے کیا کچھ کیا ہے اور شیعہ مذہب کے اماموں اور عقیدۂ امامت میں اور اہلِ سنت والجماعة کی طرف سے امام ابوحنیفہؒ، امام شافعیؒ یا امام غزالیؒ کو امام کہنے میں کیسا نمایاں فرق ہے ۔ تاکہ عقیدۂ اِمامَت کے مُضمرات بآسانی سمجھ میں آ سکیں۔

2) اسلام کیا ہے؟ اسلام کی بنیاد کن چیزوں پر ہے؟ اور مسلمان کس کو کہا جاتا ہے؟

صفحہ 1 از 18