شِیعہ مذہَب میں امامَت کا عقیدہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شِیعہ مذہَب میں امامَت کا عقیدہ

  مولانا غلام محمد

صفحہ 10 از 18

(اصولِ کافی، صفحہ: 122)

ترجمہ وہ یعنی امام معصوم ہوتا ہے اس کے ساتھ اللّٰہ تعالی کی خاص توفیق و تائید ہوتی ہے اس کو اللّٰہ تعالیٰ سیدھا رکھتا ہے وہ غلطی، بھول، لغزش سے بھی محفوظ اور امن میں ہوتا ہے اللّٰہ تعالیٰ اس کو اسی معصومیت کی صفت سے خاص کرتا ہے تاکہ یہ اس کے بندوں پر حجّت ثابت ہو اور اس کی مخلوق پر گواہ ہو ۔

8 -ابو الحسن عطار سے روایت ہے کہ :

قال سمعت ابا عبدالله یقول اشرک بین الاوصیاء والرسل فی الطاعة

(اصولِ کافی صفحہ: 110)

ترجمہ:-میں نے سَیِّدُنَا جعفر صادقؒ سے یہ بات کہتے ہوئے سنی ہے کہ اوصیا (یعنی اماموں) کو رسولوں کی پیروی کرنے میں شریک بناؤ( یعنی جس طرح رسولوں کی فرمانبرداری فرض ہے اس طرح اماموں کی فرمانبرداری بھی فرض ہے)۔

9- اصولِ کافی میں سَیِّدُنَا جعفر صادقؒ سے روایت ہے کہ :-

عن ابی حمزہ قال: قلت لابی عبدالله تبقی الارض بغیر امام؟ قال لو بقیت الارض بغیر امام لساخت۔

(اصولِ کافی: صفحہ 104)

ترجمہ: ابو حمزہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے سَیِّدُنَا جعفر صادقؒ سے پوچھا کہ کیا امام کے سوا زمین باقی اور قائم رہ سکتی ہے فرمایا اگر زمین امام کے بغیر باقی رہتی تو غرق ہو جاتی۔

10 - موجودہ دور کے شیعہ رہنما روح اللہ خمینی اپنی کتاب الحکومة الاسلامیة میں لکھتے ہیں کہ :

ان تعالیم الائمۃ کتعالیم القرآن لا تخص جیلا خاصا و انما ھی تعالیم للجمیع فی کل عصر و مصر و الی یوم القیامة یجب تنفیذھا و اتباعها ۔

(الحکومة الاسلامیۃ صفحہ 133)

ترجمہ:-ہمارے اماموں کی تعلیم قرآن کی تعلیم کی طرح ہے وہ کسی طبقہ اور خاص دَور کے انسانوں کے لیے مخصوص نہیں ہے بلکہ یہ ہر زمانہ، ہر خطہ کے تمام انسانوں کے لیے ہے اور قیامت تک اس کو نافذ کرنا اور اس کی تابعداری کرنا قرآن کی طرح واجب ہے.

11 - اصولِ کافی میں سَیِّدُنَا جعفر صادق نے فرمایا کہ:

 "عن احدھما أنه قال لا یکون العبد مومنا حتی یعرف الله ورسوله والائمة کلھم و امام زمان۔"

(اصول کافی صفحہ 105)

ترجمہ : سَیِّدُنَا جعفر صادقؒ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا کہ کوئی بھی بندہ مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اللّٰہ اور اس کے رسول اور تمام اماموں خاص كر اپنے زمانے کے امام کی معرفت حاصل نہ کر لے۔

 12 -سَیِّدُنَا کاظمؒ سے روایت ہے کہ:

 "عن ابی الحسن علیه السلام قال :ولایة علی مکتوبة فی جمیع صحف الانبیاء ولن یبعث الله رسولا الا بِنبوّة محمد صلی الله علیه واله ووصیّه علي علیه السلام" 

(اصولِ کافی، صفحہ 276)

ترجمہ : ابو الحسن یعنی سَیِّدُنَا موسیٰ کاظمؒ سے روایت ہے کہ آپؒ نے فرمایا کہ علیؓ کی وِلایت اور اِمامت تمام نبیوں کے صحیفوں میں لکھی ہوئی ہے اور اللّٰہ تعالیٰ نے جو بھی رسول اس دنیا میں بھیجا تو وہ محمدﷺ کی نبوت اور علیؓ کی وصیت یعنی امامت کی تعلیم سے بھیجا یعنی خدا کے ہر نبی نے اپنی امت کو اِن دونوں چیزوں پر ایمان لانے کی دعوت دی ۔

 13 -سَیِّدُنَا جعفر صادقؒ نے فرمایا:

 "عن ابی عبدالله عليه السلام قال: ولایتنا ولایة الله التی لم یبعث نبی قط الا بھا" ۔

(اصولِ کافی، صفحہ 276)

ترجمہ: سَیِّدُنَا جعفر صادقؒ سے روایت ہے کہ ہماری ولایت (اِمامت اور خِلافت) بِعَینه اللہ کی ولایت اور حکومت ہے اور ہر نبی اللّٰہ تعالیٰ سے یہی حکم لے کر مبعوث ہوا ہے ۔

 14 -سَیِّدُنَا جعفر صادقؒ نے فرمایا کہ:

(1)" وان عندنا علم التوراۃ والانجیل والزبور وتبیان ما فی الألواح۔" (اصولِ کافی صفحہ 137)

ترجمہ: ہمارے پاس تورات، انجیل اور زبور کا علم ہے اور الواح میں جو کچھ تھا اس کا ظاہر بیان ہے ۔

سَیِّدُنَا جعفر صادقؒ نے فرمایا کہ:

(2) "زبور داؤد علیه السلام و توراۃ موسیٰ و انجیل عیسیٰ و صحف ابراہیم ۔"

(اصولِ کافی صفحہ 147)

ترجمہ: ہمارے پاس داؤد کا زبور، موسی کا توریت، عیسی کا انجیل اور ابراہیم کے صحیفے ہیں۔

 15- زُرارہ راوی ہے کہ سَیِّدُنَا باقرؒ نے فرمایا کہ:

 "للامام عشر علامات: یولد مطہر مختونا، واذا وقع علی الارض وقع علی راحتییه رافعا صوتہ بالشھادتین، ولایجنب، وتنام عیناہ ولا ینام قلبه، ولا یتثاوب ولایتمطیٰ، و یریٰ من خلفه کما یری من أمامه، و نجوہ کرائحة المسك والارض مأمورۃ بسترہ وابتلاعه، و اذا لبس درع رسولﷺ کانت علیه وقفا و إذا لبسھا غیرہ من الناس طویلھم و قصیرھم زادت علیه شبرا ۔"

(اصولِ کافی صفحہ 276)

ترجمہ: امام کی خاص 10 نشانیاں ہیں وہ بالکل پاک اور صاف ہوتا ہے، اس کا ختنہ کیا ہوا ہوتا ہے، اور جب ماں کے پیٹ سے باہر آتا ہے تو اس طرح آتا ہے کہ اس کے دونوں ہاتھ زمین پر رکھے ہوئے ہوتے ہیں اور باآواز بلند کلمۂ شہادت پڑھتا ہے، اس کو کبھی بھی غسلِ جنابت کی حاجت نہیں ہوتی، نیند کی حالت میں اس کی آنکھ سوتی ہے اور اس کا دل بیدار ہوتا ہے، اس کو کبھی بھی ڈکار یا انگڑائی نہیں آتی، وہ آگے اور پیچھے دونوں طرف سے دیکھ سکتا ہے، اس کے پاخانہ میں مُشْک کی خوشبو ہوتی ہے اور زمین کو اللہ کا حکم ہے کہ اس کو چُھپا لے اور نگل جائے جب وہ رسولُ اللّٰہﷺ کی ذِرَه پہنتا ہے تو وہ اس کو بالکل فِٹ ہو جاتی ہے اور اگر کوئی دوسرا آدمی یہ ذره پہنے تو وہ چاہے کتنے لمبے قد کا ہو یا بالکل کوتاہ قد تو وہ زرہ اس سے ایک بالشت بڑی ہوتی ہے۔

 16- اصولِ کافی میں ہے کہ سَیِّدُنَا نقیؒ سے شیعوں کے اِختلاف کے اَسباب پوچھے گئے تو آپ نے جواب میں فرمایا کہ:

 "عن محمد بن سنان قال کنت عند أبی جعفر الثانی علیه السلام فاجریت اختلاف الشیعة فقال یا محمد ان الله تبارک و تعالیٰ لم یزل منفردا بوحدانیته ثم خلق محمدا و علیا و فاطمة فمکثوا الف دھر ثم خلق جمیع الأشياء فاشھدھم خلقها واجری طاعتھم علیھا و فوض امورھا الیھم فھم یحلون ما یشاءون و یحرمون ما یشاءون ولن یشاءوا الا ان یشاء الله تبارک و تعالےٰ ۔"

(اصولِ کافی صفحہ 678-679)

صفحہ 10 از 18