شِیعہ مذہَب میں امامَت کا عقیدہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شِیعہ مذہَب میں امامَت کا عقیدہ

  مولانا غلام محمد

صفحہ 11 از 18

ترجمہ: محمد بن سنان روایت کرتا ہے کہ سَیِّدُنَا نقیؒ سے شیعوں کے اختلاف کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اے محمد! اللہ تعالی ازل سے اپنی وَحدت میں تنہا رہے پھر اس نے محمدﷺ ، سَیِّدُنَا علیؓ اور سیِّدَہ فاطمہؓ کو پیدا کیا پھر یہ ہزاروں قَرن اپنی حالت میں اِس طرح رہے، اس کے بعد اللّٰہ تعالیٰ نے دنیا کی تمام چیزوں کو پیدا کیا اور ان کو اسی مخلوق کے پیدا کرنے کے اوپر گواہ بنایا اور اُن کی اطاعت اور فرمانبرداری تمام مخلوقات پر فرض کی اور مخلوق کے تمام معاملات کو اُن کے سپرد کیا، پھر جس چیز کو یہ چاہتے ہیں اُس کو حلال کرتے ہیں اور جس چیز کو چاہتے ہیں اُس کو حرام کرتے ہیں اور یہ نہیں چاہتے مگر وہ چاہتے ہیں جو اللہ چاہتا ہے ۔

علامہ قزوینی اس روایت کی وضاحت میں لکھتے ہیں کہ اس روایت میں محمدﷺ، سَیِّدُنَا علیؓ اور سيده فاطمہؓ سے مراد یہ تینوں اور ان کی نسل سے پیدا ہونے والے تمام آئمہ ہیں۔

 (الصافی شرح اصولِ کافی، جزء سوم ،حصہ دوم صفحہ 149)

اس روایت سے شیعہ مذہب کی مندرجہ ذیل باتوں پر روشنی پڑتی ہے. شیعہ میں اختلاف کا سبب یہ بتایا گیا ہے کہ:

1- جیسا کہ تمام بندوں کے معاملات اِماموں کے سپرد تھے اور اُن کو حلال چیزوں کو حرام کرنے اور حرام اشیاء کو حلال کرنے کے اختیارات حاصل تھے لہذا ہوا یوں ہے کہ مثلاً حضورﷺ کی موجودگی میں کوئی چیز حرام تھی تو سَیِّدُنَا علیؓ(پہلے امام) نے اس کو حلال کیا اس طرح تمام امام اپنے اپنے دورِ امامت میں فوت شدہ اماموں کی حلال کردہ اشیاء کو حرام اور حرام کردہ اشیاء کو حلال کرتے رہے اَب نتیجہ یہ نکلا کہ شیعوں کے پاس اکثر چیزوں کے حلال اور حرام ہونے میں اختلاف رُونُما ہو گیا ہے ۔

2-دوسری یہ اَہم بات معلوم ہوتی ہے کہ جیسا کہ آئمہ کرام کو حلال اَشیاء کو حرام اور حرام اَشیاء کو حلال کرنے کے اختیارات حاصِل تھے لہذا اُن کے اوپر قرآن و سنت کی پابندی لازم نہ تھی اور اُنہوں نے خود اپنی طرف سے ہی جیسے اُن کو آیا ویسے حلال و حرام کے احکام جاری کیے. نتیجہ میں شیعوں کی رِوایات کی آخری سَنَد اِمام ہیں اور اُن کی سند کا سلسِلہ ہمارے رسول خاتَمُ النبیّینﷺ تک نہیں پہنچتا اور شیعہ مذہب کی خصوصیات میں سے یہ چیز خاص طور پر قابل ذکر ہے۔

3-تیسری یہ بات معلوم ہوئی کہ اِماموں کی حیثیت خاتم النبیین حضرت محمدﷺ سے بھی زیادہ اَفضَل، بَرتَر وبالا اور اعلیٰ ہے اِس لیے اُن کو حلال اَشیاء کو حرام اور حَرام کو حَلال کرنے کے اِختیارات حاصل تھے اور اللّٰہ ربُّ العِزَّت نے اِبتدائے عالَم سے لے کر تمام مخلوق جس میں ہر جاندار اور بےجان آ جاتا ہے ان سب کے تمام معاملات کو اُن کے حوالے کیا ہے اور آج تک جو کچھ ہوا اور جو آئندہ ہوگا وہ سب اُن کی مرضی سے ہوا ہے جیسا وہ چاہتے ہیں ویسا ہوتا ہے وغیرہ (اِنَّا للّٰه وانا الیه راجعون).

کاش! ناواقِف شیعہ اپنے مذہب کے اَصلی خَدوخال معلوم کرنے کی کوشش کریں۔

4-چوتھی خاص بات یہ معلوم ہوئی کہ قرآن مجید کے واضِح اَلفاظ میں حضرت آدمؑ کی پیدائش کے بارے میں ملائکہ اور اللّٰہ تعالیٰ کے درمیان بات چیت کا اس طرح ذکر ہے کہ: 

"اور وہ وقت یاد کر جب تیرے پروردگار نے فرشتوں سے کہا بے شک میں بناؤں گا ایک بشر کھنکھناتے گارے سے۔" 

(سورة الحجر، رکوع 3، آیت 28)

تو قرآن مجید کے ظاہِر اَلفاظ سے یہ ثابِت ہے کہ جِنّوں اور فرشتوں کی پیدائش حضرت آدمؑ سے بھی پہلے ہے اور تمام انسان حضرت آدمؑ کی اولاد میں سے ہیں جبکہ روایت 16 میں یوں کہا گیا ہے کہ محمدﷺ، سَیِّدُنَا علیؓ اور سیدہ فاطمہؓ کی پیدائش حضرت آدمؑ سے بھی پہلے کی ہے پھر اِسی طرح اِس جھوٹی روایت سے نَصِّ قَطعیّہ قرآن کے حقائق کو رد کیا گیا ہے ۔

آپ پہلے بھی پڑھ کر آئے ہیں کہ اسلام دو چیزوں قرآن و سنت کا نام ہے یا یوں کہا جائے کہ قرآن و سنت کی حفاظت، ختمِ نبوت کا دوسرا نام ہے اور ختمِ نبوت کا دوسرا نام قرآن و سنت کی حفاظت ہے۔

اسلام کو نَعوذُ باللہ مٹانے کے لیے شیعہ مذہب کے مُوجِدوں کو اسلام کی جگہ پر اسلام کے نام سے نیا مذہب لانا تھا جس طرح اِسلام کے خلاف قادیانیت لائی گئی ہے. اس لیے سَبائیوں نے حضور اَکرمﷺ کے خاندان سے چند حضرات کو امام کے نام سے مُنتَخَب کیا اور نُبوَّت کا مقابلہ کرنے کے لیے اِمامت کو میدان میں لایا گیا اور پھر امامت کو نبوت اور رسالت سے بالا اور بَرتَر عُہدہ کہا گیا اور اماموں کے نام سے امامت کے بارے میں ایسے اَوصاف اور اِختیارات کی رِوایات تیار کر دیں تاکہ آئمہ قرآن و سنت کی پابندیوں سے آزاد رہیں۔ مثلاً

1-اِمامت کو نُبوَّت کی طرح ایک عہدہ کہا جس پر حضورﷺ کے بعد اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے امام نامْزَد ہوتے رہے.

2-اماموں کو نبیوں کی طرح گناہوں سے پاک اور معصوم بتایا گیا۔

3- اماموں کو نبیوں کی طرح مخلوق پر اللّٰہ کی حُجّت کہا گیا.

4- اماموں کی اطاعت کو نبیوں کی اطاعت کی طرف فرض کہا گیا.

5- ہر امام کا درجہ تمام پیغمبروں سے اَرفَع و اَعلیٰ اور رسول اللّٰہﷺ کے برابر کہا گیا اور بارہویں غائب امام کے لیے کہا گیا کہ جب وہ اپنی خود ساختہ جلاوطنی والی زندگی ختم کر کے باہر نکل آئے گا تو رسولُ اللّٰہﷺ پہلے شخص ہوں گے جو نَعوذُ باللہ اس خود ساختہ مہدی کی بیعت کریں گے ۔

6-حضورﷺ نے تو زندگی مبارک میں ایک مرتبہ مِعراج کیا لیکن ان کے امام فوت ہونے کے بعد ہر جمعہ کی رات مِعراج پر جاتے ہیں. 

7-حضورﷺ کو آخری کتاب قرآن پاک ملا لیکن انہوں نے اپنے اماموں کے لیے کہا ہے کہ قرآن کے بعد بھی اماموں پر ہر سال شب قدر میں آسمان سے فرشتے وقت کے امام پر ایک کتاب نازل کرتے تھے اور اِس طرح قرآن کے بعد بھی 249 آسمانی کتابیں نازل ہوئیں. 

8-اللّٰہ کی مخلوق کے معاملات اماموں کے سپرد کیے ہوئے بتائے گئے.

9- ہر امام کو رسولُ اللّٰهﷺ کی طرح قیامت تک پوری مخلوق پر حجّت اور قیامت میں گواہ بنا کر بتایا گیا۔

10-خود قرآن مجید کو تحریف اور تبدیل شدہ کہا گیا۔

11- قرآن کو دنیا کے آگے مُعَمَّہ بنا کر پیش کیا گیا اور یہ کہا گیا کہ قرآن کریم کے ظاہر اور باطن کو اماموں کے علاوہ اور کوئی نہیں جانتا۔

صفحہ 11 از 18