شِیعہ مذہَب میں امامَت کا عقیدہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شِیعہ مذہَب میں امامَت کا عقیدہ

  مولانا غلام محمد

صفحہ 12 از 18

۱۲- حضورﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو جو کہ حدیث و سنّت کے اَوّلین راوی اور قابلِ اِعتِماد شخصیات ہیں اُن کو مُرتَد اور کافِر کہہ کر حضورﷺ کی سنت و حدیث کو ناقابلِ اعتماد بنایا گیا۔

13- اماموں کو اللّٰه تعالیٰ کی طرف سے اَشیاء کو حلال اور حرام کرنے کے اختیار سپرد کئے گئے۔

14- قرآن و سنت کی پابندی سے آئمہ کو آزاد تصور کر کے اُن کے ناموں سے ہزاروں روایات بنا کر اور ان کو سنّت و حدیث کا نام دیکر اُن کی اطاعت کو قرآن کی اطاعت کی طرح قیامت تک واجِبُ الاطاعت کہا گیا اسطرح شیعہ مذہب کی پوری عمارت اِسی پر قائم ہے جس کا دینِ اسلام سے کوئی واسطہ نہیں۔ 

تو پھر دوستو! یہ یاد رکھیں کہ شِیعیَّت اور اِسلام دونوں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ یہ ایک دوسرے کی ضِد ہیں۔ اب اگر اسلام کو اختیار کریں گے تو شیعیت کو چھوڑنا پڑیگا اور اگر شیعیت کو پسند کریں گے تو اسلام سے دستبردار ہونا پڑیگا اور ختمِ نبوّت کا انکار کرنا پڑیگا کیونکہ شیعیت میں امامت کو قُبُول کرنا پڑتا ہے اور اسی پر شیعہ مذہب کی پوری عمارت کھڑی ہے۔ یہی سبب ہے کہ شیعہ مذہب کے بنیادی عقیدۂ امامت کو اسلام اور ختمِ نبوت کو نعوذ باللّٰه مٹانے اور ختم کرنے کا سو فیصد طَے شدہ انتظام کہا گیا ہے۔

8- اہل سنت والجماعت کے مشہور آئمہ اربعہ کے اختلاف اور شیعوں کے مذہب میں اماموں میں فرق اور شیعوں کے اس دھوکے کا جائزہ کہ شیعہ سنّی اختلاف ایسا ہی ہے جیسا کہ حنفی شافعی وغیرہ کا اختلاف ہے۔

 شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ متوفی 1239 ھجری کی شُہرَۂ آفاق تصنیف "تُحفۂ اِثنا عَشریّہ" (اردو ترجمہ) میں باب دوم کا عنوان ہے کہ: "شیعوں کے مکر و فریب، دھوکہ بازی اور لوگوں کو صحیح راستہ سے ہٹا کر اپنے مذہب کی طرف راغب کرنے کے مختلف طریقوں میں۔"

اِس باب میں شاہ صاحبؒ نے پوری تفصیل سے شیعوں کے 107 دھوکہ کے طریقوں کا ذکر کیا ہے۔ اِس کتاب کو تصنیف ہوئے پونے دو سو برس گزر چکے ہیں۔ اِس عرصہ میں شیعوں کے دھوکہ اور فریب کے طریقوں میں مزید کیا اضافہ ہوا ہوگا، اُس کو اللّٰه ہی بہتر جانتا ہے دوسرا کوئی بھی نہیں بتا سکتا۔

مذکورہ عُنوان ایسا ہے جس پر شاید ہی کسی سُنّی عالِم نے اِس سے پہلے کُچھ لکھا ہو کیونکہ اِس سے پہلے اَیسے فرق دکھانے کی کبھی کوئی ضرورت ہی محسوس نہیں کی گئی، یہ حالت شاید سات آٹھ برس سے ہوئی ہے کہ شیعہ مُبلِّغین نہ صرف یہ کہ پاکستان میں بلکہ جہاں بھی ہیں ہر جگہ وہ یہ تأثُر پیدا کر رہے ہیں اور بڑے زوروں پر یہ مہم چلا رہے ہیں کہ بھائی شیعہ اور سُنّی کے درمیان اِختلاف کی نوعیَّت ایسی ہے جیسی حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی اور اہلِ حدیث میں سے میں سے ہر ایک مکتبۂ فکر کے آپس میں اختلاف کی نوعیت ہے اور زیادہ کوئی اور فرق نہیں ہے۔ چنانچہ اس کے بارے میں مجھے بھی ایک آوارہ شیعہ نے ایسے دھوکہ دینے کی بَیجا کوشش کی۔ حال ہی میں ریڈیو زاھدان پر ایک شیعہ اُردو میں تقریر کر رہا تھا مجھے بھی اتفاق سے اُس تقریر کا ایک حصہ سننے کا موقع ملا جس میں اُس نے بھی یہی دھوکہ دیا کہ ہم شیعہ اور سُنّیوں کا مذہبی اختلاف ایسا ہی ہے جیسا کہ سنّیوں کے آئمہ اَربعہ کے مابین اختلاف ہے۔ ان باتوں سے میں اِس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اب شیعوں نے پوری دنیا کے ناواقِف مسلمانوں کو اپنے دین کی طرف راغِب کرنے کے لئے یہ دھوکہ بھی اپنے دین کی تبلیغ یا پروپیگنڈہ کے لئے عام طور پر اِستِعمال کرنا شروع کیا ہے جیسا کہ مولانا محمد منظور نعمانیؒ نے اپنی مقبولِ عام تصنیف "ایرانی انقِلاب" میں اِس بات کی طرف اشارہ کیا ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ شیعوں کے بےشمار فریبوں میں سے ایک بہت ہی بڑا فریب اور دھوکہ یہ بھی ہے۔ کیونکہ شیعوں کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ ہمارے یعنی اہلِ سنت والجماعت والوں کے ہاں، اِن فقہ کے اماموں اور ان کے فِقہی مَسائِل کی کیا حیثیت ہے اور دوسری شیعہ مذہب میں اُن کے بارہ اماموں اور اُن کی تعلیم کی کیا حیثیت ہے۔ ان دونوں کے درمیان آسمان و زمین کا فرق ہے کہ اِن میں کسی بھی قسم کی مُشابہَت تلاش کر کے نکالنا نامُمکِن ہے. باقی تقیّہ اور مکر و فریب کے ذریعہ اپنے مذہَب کی طرف راغِب کرنے کی بات اور ہے۔ جیسا کہ حضرت شاہ عبدالعزیزؒ نے اُن کے ایک سو سات (107) دھوکے بیان کر کے اُن کے مذہَب کو ظاہر کیا ہے۔

اب ہم اہلِ سُنّت والجماعت کے پاس فِقہی آئمہ کرام کی حیثیت اور شیعوں کے ہاں اُن کے اماموں کی حیثیت کے بنیادی فرق کو ظاہر کرنے کے لئے کچھ اہم بنیادی نکات بیان کرتے ہیں:

صفحہ 12 از 18