شِیعہ مذہَب میں امامَت کا عقیدہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شِیعہ مذہَب میں امامَت کا عقیدہ

  مولانا غلام محمد

صفحہ 13 از 18

1-شیعوں کے ہاں ان کے اماموں کی جو حیثیت ہے وہ آپ پہلے پڑھ کر آئے ہیں اگر نہیں تو اِس عنوان سے پہلے بیان کردہ تفصیل کو مطالعہ کر لیں. باقی اہلِ سنت والجماعت کے ہاں آئمہ اربعہ کی کیا حیثیت ہے؟ اِس کے لیے معلوم ہونا چاہیےکہ اہلِ سنّت والجماعت کے ہاں آئمہ اربعہ کی یہ حیثیت ہے کہ یہ حضرات قرآن و سنت کے مطابِق مُتَبَحِّر عالِم باعَمَل اور اِنتہائی درجے کے مُتّقی اور پرہَیزگار تھے.اسلام اور مسلمانوں کے سچّے ہمدرد اور اشاعتِ دینِ اسلام میں ہَمہ وقت کوشاں اور شب و روز مصروف تھے ،اِسی خیر خواہی کے جذبے سے اُنہوں نے فِقہى مسائل كو عِلْم کی صورت میں مرتَّب و مدوَّن کیا،اُن کا یہ کام اتنا مُہتم بالشّان اور اہم تھا اور امتِ محمديہ عَلىٰ صاحبھا الصلوةُ والسلام كو اُن سے اِتنا فائده اور علمِ دين ميں آسانى حاصل ہوئى اور اُنكى اِس اَہم خدمت كى وجہ سے، جس سے قیامت تک امّت روشنی حاصل كرتى رہے گی، اُنکی شخصيَّت اِتنى اہم ،باوقار اور قابلِ احترام ہو كر سامنے آئى كہ اُمّت نے خود اُن حضرات كو اپنى طرف سے خراجِ تحسين پيش كرنے کے لیے امام کا لقب دیا. یہ لقب اُن کے رتبہ، عزّت اور قدردانى كے اظہار کے لیۓ ، اُن کے فقہ کے فن میں پیشوا اور رَہبر ہونے کے اِظہار کی عکّاسی کرتا ہے. ان حضرات کے لئے اس استِعمال کردہ امام کے لفظ میں کسی بھی وقت میں اور کہیں بھی ایسا مطلب تو درکنار کوئی معمولی تصوُّر کی بھی گنجائش نہیں سمجھی گئی جو کہ شیعوں کے ہاں اماموں کے لیے ہوتا ہے. یعنی شیعوں کے ہاں تو ہر امام کی حیثیت رسولُ اللّٰہﷺ جیسی ہے وغیرہ. لیکن اہلِ سنت کے اِمام صرف قرآن وسنت کی تشریح کرنے والے اور اُس کی روشنی میں پیش آنے والے مسائل کے حل کرنے کے اصول اور طریقے مرتّب کرتے تھے اور اُن کے ساتھ بحث و مُباحثہ اور اِختلاف کرنے میں کوئی حرج نہ تھا.

2- یہ بات بھی ذہن میں ہونی چاہیے کہ سُنّیوں کے فِقہ کے چاروں مسالک میں جن مسائل میں اختلاف ہے، وہ بھی بنیادی نوعیت کی نہیں ہیں. قارِئین کی آسانی کے لیے ان اِختلافات کے کچھ پہلو کا اِجمالی جائزہ پیش کیا جاتا ہے جس سے یہ حقیقت ظاہر ہو جائے گی کہ ایسے جزوی اختلافات ناگزیر تھے اسی لئے ہوئے ہیں، یہ اختلافات فطری ہیں ان میں کسی قسم کی قباحت نہیں ہے. 

الف) قرآن وسنت کے اولین راوی حضورﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں ان کے بارے میں جو بھی اَحکامات واضِح لفظوں میں بیان ہوئے ہیں اُن میں فِقّہ کے چار اماموں میں بال کے برابر بھی کوئی اختلاف نہیں ہے یا مثلاً اسلام کے بنیادی عقائد اِیمانیات میں چاروں آئمہ اور اہلِ حدیث حضرات سب متفق ہیں اور ان میں کوئی اختلاف نہیں ہے برخلاف اس کے شیعوں اور سُنّیوں کے عقائِد میں ہی زمین و آسمان کا فرق ہے اور اَرکانِ اسلام یعنی نماز ،روزہ، زکوٰة اور حج کے بارے میں ان کے بنیادی مسائل اور هيئت وغیرہ کے بارے میں بھی آئمہ اربعہ کا کوئی اختلاف نہیں ہے،اگر کچھ اختلاف ہے تو وہ جُزْوی اختلاف ہے مثلاً نماز میں رکوع میں جانے اور رکوع سے اُٹھنے والے وقت رَفعُ الیَدَین کرنا چاہیے یا نہیں، ہاتھ سینے پر باندھنے چاہئیں یا ناف کے نیچے باندھنے چاہیئں، آمین بالجَہر کرنا چاہیے یا بالسِّر کرنا چاہئے ،امام کے پیچھے فاتِحةُ الکتاب پڑھنا چاہیے یا نہیں وغیرہ .یہ جزوی اختلافات ہیں.ان کا سبب یہ ہے کہ جب بھی کسی صحابی نے حضورﷺ کو جو بھی عمل کرتے ہوئے دیکھا یا حضورﷺ نے جس طرح اُس کو کسی عمل کے کرنے کی تعلیم دی تو اُس صحابی نے اُسی طرح عمل کیا اور یہ عمل اور طریقہ بھی دوسروں کے لئے بیان کیا.چنانچہ صحاح ستّہ یعنی حدیث کی ان 6 معتبر ترین کُتُب میں ان اعمال کے بارے میں دونوں طرح سے صحيح احادیث موجود ہیں پھر ان چار فقہاء کرام میں سے جس کو بھی جس طریقے پر حضورﷺ کی آخری عمر میں عمل کا طریقہ معلوم ہوا تو اُس نے اس کو زیادہ اہمیت دی لیکن دوسرے طریقے کا بھی انکار نہ کیا بخلاف اس کے شیعوں اور سنّیوں کی فرضی عبادتوں میں بھی زمین و آسمان کا فرق ہے.

ب) انسانی معاملات میں، معاشرت کے بارے میں سنّیوں کے چار فَقِیہوں میں مَندرجہ ذَیل دو قِسموں کے اختلاف نظر آتے ہیں:-

1-وہ اختلاف جو کہ قرآن کریم اور احادیثِ نبوی کی تشریح میں ہیں.

2-اُن مسائل اور معاملات میں اختلافات،جو کہ وسیع تر انسانی معاملات، رسم و رواج، تہذیب و ثقافت، تعزیرات، نظام حکومت، جدید ایجادات، حالات کا تغیُّر اور حالات کی تبدیلیوں وغیرہ کے بارے میں شروع سے ہی ظہور پذیر رہتے ہیں اور قیامت تک ہر زمانے میں ہر جگہ پیدا ہوتے رہیں گے.(1) 

صفحہ 13 از 18