شِیعہ مذہَب میں امامَت کا عقیدہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شِیعہ مذہَب میں امامَت کا عقیدہ

  مولانا غلام محمد

صفحہ 14 از 18

(1)(نماز میں لاؤڈ اسپیکر کا استعمال، ریڈیو پر تلاوتِ قرآن پاک، مریض کو خون کی فراہمی، اَعضائے انسانی کی پیوندکاری، مَصنوعی آنکھ لگانا، ٹرین، بَحری جہازوں اور ہوائی جہاز میں نماز کی ادائیگی، روزے کی حالت میں اِنجکشن، بيمۂ زندگی، سِٹّہ ،ضبطِ تولید، مانعِ حمل اَدویات کا اِستعمال، پرائیویٹ فَنڈز، جَدید اَسلِحہ اور آلاتِ حرب کا جہاد میں استعمال، مِسواک کے عوض ٹوتھ برش ،بندوق کی گولی سے شکار وغیرہ. یہ سب ہمارے دَور کے ایسے جدید مسائل ہیں جن کے بارے میں موجودہ دَور کے ہمارے جَيِّد سُنّی عُلَماء کرام نے اِن چار فُقَہاءِ عِظام اِمام ابو حنیفہؒ ،امام شافعیؒ، امام مالكؒ اور امام احمد بن حنبلؒ کے وضع کردہ اصولوں کی مدد سے اور اِن اماموں کے کئے ہوئے فیصلوں کو سامنے رکھ کر اُن کی روشنی میں بڑی محنت اور کاوِش سے ان مسائل کے جائز یا ناجائز ہونے کے بارے میں فیصلے دیتے ہیں۔ پھر اللہ کی کروڑوں رحمت میں ہوں اِن بزرگوں پر جِنہوں نے قِیامت تک آنے والی انسانیت کے لئے وہ سب کچھ پہلے ہی کردیا ہے اور اِن اماموں کا یہ جُزوی اختلاف آج بھی امت کے لئے رحمت ظاہر ہو رہا ہے کہ ایک مَسلک کا عالِم اگر کسی مسئلہ کا حل اپنے امام کی فقہ میں نہیں دیکھتا تو دوسرے کسی امام کی فقہ سے روشنی حاصل کر کے اپنے مسئلے کا حَل پیش کر رہا ہے۔ یہی ہے نیک نیتی سے اللّٰہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے، دین میں کی ہوئی محنت کے نتیجہ میں کچھ فُروعی اختلافات پیدا ہو جانے کے باوجود امّت کے لئے رحمت ہونے کا مَقصَد جس کی مُختصر جَھلَک آپ نے دیکھی۔)

1- اب ہم پہلی قسم کے اُن انسانی مُعاملات اور مُعاشرت کے بارے میں اختلافات کا جائزہ لیتے ہیں جو کہ قرآن اور سنّت کی تشریح میں ہیں ۔

پہلی مثال:

آنحضرتﷺ کی ایک حدیث ہے کہ 

"لاتبيعوا الثمر حتیّٰ یبدو صلاحه"

یعنی میوہ کو درختوں پر اس وقت تک مت بیچو جب تک ان کی اصلاح اور درستی ظاہر نہ ہو جائے.

اِس حدیث کا مطلب کچھ فُقَہاء کرام نے یہ لیا ہے کہ صلاح سے مراد میوے کا پکنا اور اس کے ذائقے کا ظاھر ہونا ہے۔لہذا میوے کے پکنے سے پہلے بیچنا جائز نہیں ہو گا لیکن دوسرے فقہاء کرام نے یہ مطلب لیا ہے کہ صلاح سے مراد یہ ہے کہ جب درختوں کا میوہ کیڑوں وغیرہ کے خطرات سے محفوظ نہ ہو جائے اس وقت تک اس کی بَیع درست نہیں ہے ۔ اب آپ خود بتائیں کہ یہ اختلاف فطری ہے یا نہیں؟

دوسری مثال:

سب فَقِیه اس بات پر متفق ہیں کہ اگر کسی کی کوئی شخص چیز غَصَب کرے تو اس شخص سے بِعینہ یہی چیز واپس دلانا ضروری ہے ۔۔ اگر غصب کرنے والے سے وصول کرنے کے وقت وہ چیز گم ہو گئی ہو تو اس پر لازِم ہے کہ حَتیَّ الاِمکان اُس جیسی چیز واپس کرے یا اُس کی قیمت ادا کرے لیکن جیسا کہ اَشیاء کی قیمتیں وقت اور حالات کی تبدیلی سے تبدیل ہوتی رہتی ہیں لہٰذا مختلف فقہاء کی آراء اس بات میں جدا جدا ہیں کہ کس وقت کی قیمت مقرر کی جائے. اَحناف کی رائے ہے کہ جس وقت وہ چیز غصب کی گئی تھی اُس وقت کی قیمت ادا کرنا مناسِب ہے. حَنابلہ اُس وقت کی قیمت مُناسِب سمجھتے ہیں جب چیز گُم یا ضائع ہوئی ہو مگر شَوافِع کے ہاں غاصِب کو وہ قیمت ادا کرنی ہے جو غصب کے وقت سے لے کر چیز کےگم ہونے کے وقت تک زِیادہ سے زیادہ رہی ہو اب آپ خود غور کریں کہ یہ اِختلاف فِطری ہے یا نہیں؟ 

 تیسری مثال:

 ایک مرتبہ رسولُ اللّٰہﷺ نے کچھ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بنو قُرَیظہ کی بستی میں پہنچنے کا حکم دے کر فرمایا "لا یصلین احدکم العصر الا فی بنی قریظہ" یعنی "تم میں سے کوئی بھی بنوقریظہ پہنچنے سے پہلے عصر کی نماز نہ پڑھے. " اتفاق سے وہاں پہنچنے میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو دیر ہو گئی اور عصر کا وقت ختم ہونے لگا چنانچہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے باہَم مشورہ کیا کہ اب ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ مشورے میں دو آراء ہوگئیں۔ ایک جماعت کی رائے تھی کہ آنحضرتﷺ نے صاف فرما دیا ہے کہ بنو قریظہ میں پہنچنے سے پہلے کوئی بھی عصر کی نماز نہ پڑھے تو پھر راستے میں نمازِ عصر پڑھنے کا کوئی جَواز نہیں ہے۔ پھر چاہے نماز قضاء ہی کیوں نہ ہو جائے مگر ہمیں تو حضورﷺ کے حکم کی تعمیل کرنی ہے۔ دوسری جماعت کی رائے یہ تھی کہ حضورﷺ کے اس حکم کا مطلب یہ تھا کہ ہمیں کوشش کرکے نمازِ عصر سے پہلے بنو قریظہ پہنچنا چاہیے لیکن اب چونکہ ہم سورج غروب ہونے سے پہلے کسی طرح نہیں پہنچ سکتے تو پھر نماز قضاء نہ کرنا چاہیے۔ چنانچہ دونوں جماعتوں نے اپنی اپنی رائے کے مطابِق عمل کیا واپسی پر جب حضورﷺ کے ہاں یہ واقعہ بیان ہوا تو آپﷺ نے کسی پر ناراض ہونے کا اِظہار نہیں کیا اور آپﷺ نے دونوں فریقَین کے عمل کو درست کہا کیونکہ فریقَین کا بنیادی مقصد ارشادِ نَبَوی کی تعمیل تھی۔

 اِس واقعے سے دوسری مثال کے واقعے کی تائید ہوتی ہے. اِس طرح کے دوسرے بھی بہت سارے واقعات ہیں مگر جیسا کہ یہ اختلاف فطرت کے مُوافِق ہے اسی لئے آنحضرتﷺ نے اِس اختلاف کو رحمت کہا۔

 2- دوسری قسم کے وہ اختلافات جو کہ وسیع تر انسانی معاملات، رسم و رواج، تہذیب و ثقافت، تعزیرات، نظام حکومت، نئی ایجادات، حالات کے تغیُّر و تبدُّل وغیرہ کے بارے شروع سے ہوتے رہے ہیں اور قیامت تک ہر دور میں ہوتے رہیں گے ان کا جائزہ:

صفحہ 14 از 18