شِیعہ مذہَب میں امامَت کا عقیدہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شِیعہ مذہَب میں امامَت کا عقیدہ

  مولانا غلام محمد

صفحہ 15 از 18

 ان کے بارے میں قرآن کریم میں کچھ معاملات کے متعلق قرآن وسنت میں صراحةً یا اشارۃً اَحکام موجود ہیں، اور کچھ معاملات کے بارے میں صِرف بنیادی اصول اور طریقے بیان کئے گئے ہیں، اور کچھ مسئلے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دور میں نظامِ حکومت کی وُسعت، تہذیب و ثقافت کی ترقی اور مفتوح مَمَالک میں مُروِّجہ رَسم و رواج سے واسطہ پڑنے کے بعد سامنے آئے جن کو حضورﷺ کے تربیت یافتہ اور اسلام کی روح اور اس کے مزاج کی پہچان رکھنے والے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے باہَمی مشوروں سے قرآن وسنت کی روشنی میں حل کیا۔کیونکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہی وحئ الہی کے مخاطبینِ اول تھے اور اُن کو براہِ راست حضورﷺ سے فَیض اور تربیت نصیب ہوئی تھی اور اُنکے قلوب اَنوارِ نبوت کے فیض سے منوّر تھے جس کی وجہ سے اُن میں اِنتہا کی لِلّٰہِیَّت, دین کا درد, تقوٰی اور دوسرے اعلٰی اخلاق کے جذبات بدرجۂ کمال موجود تھے اور مزید یہ کہ اُن میں دین کی فَہم اور فراست اور بصیرت کی صِفات بھی بدرجۂ اتم موجود تھیں۔چنانچہ اُن کی گواہی واضح الفاظ میں قرآن مجید میں مُتعَدَّد مقامات پر ملتی ہے۔ جیسا کہ قرآن پاک میں ہے:

 "وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُھٰجِرِیْنَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّذِیْنَ اتَّبَعُوْھُمْ بِاِحْسَانٍ رَضِیَ اللهُ عَنْھُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ۔" 

  ترجمہ: اور سَبقت کرنے والے اگلے مُہاجِرین اور اَنصار اور جن لوگوں نے نیکی میں ان کی پیروی کی, اللہ ان سے راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہیں۔

خود حضور ﷺ نے یہ فرمایا: 

اصحابی کالنّجوم بایّھم اقتدیتم اھتدیتم

 یعنی میرے صحابہ (رضوان اللہ علیہم اجمعین) روشن ستاروں کی مانند ہیں جس کی بھی تم پیروی اور اِقتداء کرو گے ہِدایت حاصِل کرو گے ۔اسی لیے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دور میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا جن جن مسائل اور باتوں پر اِتفاق اور اِجتِماع ہوا تو بعد میں آنے والے محقِّقین عُلَماء و فُقَہاء نے اُن کو ایک شرعی سَنَد تسلیم کیا سواۓ شیعوں کے جن کے مذہب کی بنیاد ہی حضورﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عداوت پر قائم ہے۔

یہاں پر یہ بات بالکل واضح طور پر ذہن میں رکھنی چاہئیے کہ حضورﷺ خاتَمُ النّبیّین ہیں اور آپﷺ کا لایا ہوا دین اسلام پوری دنیا کی تمام اَقوام اور مَمَالک کے لیے قِیامت تک باقی رہنے والا ہے۔

انسانی معاشرہ مقام اور زمانے کے لحاظ سے ہر وقت ترقی پذیر ہے تغیُّر پذیر بھی۔ اللّٰہ تعالیٰ علیم و خبیر ہے,جس نے دینِ اسلام کو قِیامت تک آنے والے ہر دور اور ہر ملک اور قوم کی ضروریات، خصوصی حالات اور دیگر مسائل کے حل کے لیے ایسے غیبی نظام سے مزّین کیا ہے جس میں انسان کے معاملات ,خُورد و نوش کی حلال و حرام اَشیاء، کاروبار و تِجارت کے اَہم اور بنیادی قسم کے معاملات، حکومت کے بنیادی اَغراض و مقاصد اور ذمہ داریوں، حاکِم ورِعایا کے حُقوق اور حُدود وغیرہ کے معاملات میں اُنکے اُصولی اور بنیادی قسم کے اَحکام قرآن وسنت میں بیان کیے گئے ہیں باقی انکی مزید وضاحت اور تفصیل یا ان سے مُشابہ پیدا ہونے والے مسائل کا حل نیز نئے پیدا ہونے والے مسائل اور ایجادات وغیرہ کو اسی طرح چھوڑ دیا گیا ہے کہ زمانے کے مخلص اور اسلام پر گہری نظر رکھنے والے عُلَماء کرام قرآن و سنت کے اصولوں، شریعت کے بنیادی مقاصد اور انسانوں کی فلاح اور بہبود کو مدنظر رکھتے ہوئے اُن کے مناسب حل خود تلاش کریں۔ چنانچہ یہ سلسلہ بھی مکمل طور پر غیبی نظام کے تحت جاری ہے۔ جس میں آج تک امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کبھی بھی تنگی اور خلا محسوس نہیں کرتی۔

 پھر ایسا ہوا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بعد والے زمانوں میں علَماء اور فقَہاء نے ایسے نئے نئے معاملات اور حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے نہایت غور و فکر سے اجتہادی کوشش شروع کی۔ اُن کے مدِّ نظر سب سے پہلے شریعت کی دو نصوص یا حُجَّتیں تھیں یعنی قرآن و سنت۔ اس کے بعد تیسری اَہم دلیل صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اجماع اور عمل تھا۔ اگر کوئی مسئلہ اِن تینوں دلائل کے دائرے سے باہر ہوتا تھا تو وہ ایسا کوئی مسئلہ تلاش کرتے تھے جو اِس مسئلہ کے ساتھ کسی جزیے، علّت یا کسی اور طریقے سے مشابہت رکھتا ہو اور وہ مسئلہ قرآن و سنّت سے پہلے ہی ثابت شدہ ہو مثلاً کوئی نئی نشہ آور چیز سامنے آئی یا تجارت کے نام پر کوئی غلط کاروبار شروع ہوا تو وہ شراب کی خاصیت، اس کی حرمت کے عِلَل و اَسباب اور قُمار اور جوئے کے حرام ہونے کے اَسباب وعِلَل سے اس نئی چیز کا تقابُل کرکے اُس کے مشابہ اَجزاء اور اَسباب کے تقابل کے ذریعے شرعی احکام صادر کرتے تھے۔

صفحہ 15 از 18