شِیعہ مذہَب میں امامَت کا عقیدہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شِیعہ مذہَب میں امامَت کا عقیدہ

  مولانا غلام محمد

صفحہ 16 از 18

اِس کو قِیاس کا نام دیا گیا اور یہ بھی ایک دلیل تسلیم کی گئی. پھر اگر ان دلائل سے بھی مسئلہ حل نہیں ہوا پھر اس کے لیے یہ طریقہ اختیار کیا گیا کہ قرآن و سنت اور شریعت کے مقاصِد اور خلقِ خدا کی فلاح و بہبود کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے وہ مسائل اِس طرح حل کیے گئے کہ وہ شریعت کے بنیادی روح اور مقاصد کے خلاف نہ ہو. خلقِ خدا کے اخلاق، صالح معاشرہ کے قیام اور ترقی میں مدد ملے اور مجموعی طور پر انسانیت کی فلاح و بہبود کا مقصد بھی حاصل ہو جائے. ظاہر بات ہے کہ ایسے معاملات میں ایک دائِمی عالَمگیر مذہب کے لئے سب سے بہترین طریقہ یہی ہو سکتا ہے جو اہلِ سنت والجماعت کا تجویز کردہ ہے اس میں فُروعی اور جُزْوی اِختلافات کا موجود ہونا فطری ہے اور اسلام دینِ فطرت ہے اس کی اَساس اور بنیاد قرآن و سنّت ہے اس کی تشریح میں خود فطری اختلافات کی گنجائش کی تعلیم ملتی ہے اور اس کی مثالیں پہلے ذکر ہو چکی ہیں. اِن جُزوی اِختلافات کو آج کل کے اعلیٰ معیاری عدالتوں اور کورٹوں کے تسلیم شدہ ماہر، ایماندار منصفوں اور ججوں کے اختلافی فیصلوں کو سامنے رکھ کر نہایت آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے جن کے فیصلے باوجود اختلاف کے ملک کے آئین کے بالکل موافق، آئین کے تسلیم شدہ اصولوں، عوام کی بھلائی اور بہبود کے خاطر درست اور صحیح سمجھے جاتے ہیں ان پر کوئی بھی اعتراض نہیں کرتا اور نہ ہی کیا جا سکتا ہے۔

جیسا کہ اِس باب میں تفصیل سے بیان ہو چکا ہے کہ شیعو‌ں کے ہاں ہر ایک امام صاحبِ شریعت ہوتا ہے، اُس پر وحی کا نُزُول ہوتا ہے اور اُسکا ہر حکم نبیوں کے حکم اور قول کی طرح خُدائی حکم اور حجّت ہوتا ہے. جبکہ اہلسنت کے لیے چار تسلیم شدہ فقیہ آئمہ اَربَعہ نے کبھی بھی ایسا دعویٰ نہیں کیا اور نہ اُن کے کسی مُستَند عالِم یا عام مسلمان نے یہ سوچا ہے کہ انکا قول آخری سَنَد ہے یا وہ معصوم عَنِ الخطاء اور لَغزِش سے پاک ہیں بلکہ اُن میں سے ہر ایک امام نے یہ بات کہی کہ اُس نے قرآن اور سنتِ رسولﷺ کے صُحبت یافتہ، اِسلام کی روح اور مزاج شناس صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے قول اور عمل کی روشنی میں اور اِن تینوں اَشیاء کو مدِّنظر رکھتے ہوئے تَحقیق اور جُستُجُو کی ہے. اور اُمّت کی آسانی کے لیے پَیچیدہ مسائل کی تفصیل طے کی ہیں اور آئندہ ایسے مسائل کے حل کے لیے بنیادی اصول مُرتب کئے ہیں. اِس بات کے علاوہ ہر ایک کی طرف سے یہ بھی واضِح اَلفاظ میں اِعلان کیا گیا ہے کہ ہم نے پوری ذمہ داری سے قرآن وسنت اور اس کے بنیادی مخاطِبین اور عامِلین یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تشریح اور عمل کو سمجھنے نیز شریعت کی بنیادی روح اور اَغراض کو سامنے رکھتے ہوئے یہ اصول وَضع کیے ہیں. اور یہ ہماری تحقیق اور راۓ ہے جس پر چلنا لازمی نہیں ہے. 

جس کو بھی شریعت کے بنیادی مآخذ یعنی قرآن وسنت کی دوسری کوئی بھی تشریح سمجھ میں آۓ اور اُس کے پاس ہم سے ذیادہ مضبوط دلائل ہوں اسکو چاہیے کہ وہ اپنی اس تحقیق اور راۓ کی اِتباع کرے اور واضِح طور پر اس کا اِظہارِ بھی کرے تاکہ خلقِ خدا اس سے مُستَفیض ہوسکے. اُنکی اِس وُسعتِ قَلبی اور اللہ کے دین کے بارے میں خلوص کا یہ نتیجہ برآمد ہوا کہ ہر اِمام صاحب کے خود اپنے شاگردوں نے اُن کے ساتھ کتنے ہی مسائل میں اختلاف کیا جیسے امام اعظمؒ کے دو مشہور و مُمتاز تلامِذہ امام ابو یوسفؒ اور امام محمّد بن حَسَن شیبانیؒ نے حنفی مذہب پر قائم رہتے ہوۓ بھی بہت سارے مسائل میں امام ابو حنیفہؒ سے انکی زندگی میں بھی اختلاف ظاہر کیا اور مباحثے کئے لیکن اس پر نہ تو اُنکے اُستاد محترم نے ناراضگی کا اظہار کیا اور نہ ہی متأخرین علماء نے اس کو برا سمجھا کیونکہ ہر ایک کو اپنے اَسلاف کے خلوصِ تقویٰ نیز امت کی خیر خواہی کے جَذبہ کا مکمّل احساس تھا اور اس کی قدر تھی. چاروں فقہوں کے مسلک کے آئمہ ایک دوسرے کے ساتھ اُستاد اور شاگرد کے ناتے میں اسطرح پَیوَستَہ نظر آتے ہیں کہ ناظِرین کی معلومات کے لیے لکھا جاتا ہے کہ فقہ کے پہلے تسلیم شدہ امام، امام ابو حنیفہؒ ہیں. آپکے جیّد شاگرد امام محمّد بن حَسَن شَیبانیؒ جنہوں نے حنفی فقہ کی تدوین میں بڑی خدمات انجام دیں ہیں وہ خود امام شافعی، امام مالِک کے شاگرد بھی رہے ہیں۔ امام محمّد کا یہ قول مشہور ہے کہ تابِعین کے بعد اللّٰه کے بندوں کے لئے اللّٰه کے بندوں میں سے امام مالِک اللّٰه تعالیٰ کی ایک بہت بڑی نشانی ہیں۔ وہ میرے استاذ ہیں اور جب بھی تمہارے پاس کوئی حدیث امام مالِک کے حوالہ سے پہنچے تو اُس کو مضبوطی سے تھام لو، کیونکہ وہ عِلمِ حدیث کے دَرَخْشاں ستارہ ہیں۔ چوتھے فقہی مسلک حنبلی کے بانی امام اَحمد بن حَنبل امام شافعی کے شاگرد رہے ہیں۔

یہاں پر کوئی اس غلط فہمی کا شکار نہ ہو کہ وہ ایک دوسرے کے استاذ اور شاگرد تو تھے لیکن بعد میں جزوی اختلافات کی بنیاد پر ان کے راستے الگ الگ تھے اور ایک دوسرے کی رائے علیحدہ ہو گئی، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہر ایک اپنے الگ مسلک پر اس لئے قائم رہا کہ تحقیق کے مطابق اس کی رائے زیادہ درست تھی، لیکن وہ دوسرے کی رائے کے بارے میں، اس کے اخلاص، تقویٰ، تبحّرِ علمی اور تحقیقی معیار کی بناء پر، ہر ایک کے دل میں آخر تک مکمل احترام قائم رہا۔ اس احترام کی انتہاء یہ ہے کہ حضرت امام شافعی ؒجب کوفہ میں امام اعظم ؒ کی قبر کی زیارت کے لئے گئے تو نماز میں رفع الیدین نہیں کیا حالانکہ آپ رفع الیدین کے قائل تھے۔ آپ احناف کی طرح نماز پڑھتے رہے، لوگوں کے سوال پر آپ نے فرمایا کہ "صاحبِ قبر کا احترام اور حیاء مجھے اس سے روکتی ہے۔" آپ کے اس ایک ہی جملے میں ان اماموں کے باہمی احترام کے بہت سارے پہلو اور دنیا کے لئے عدیم المثال اسباق موجود ہیں۔

صفحہ 16 از 18