شِیعہ مذہَب میں امامَت کا عقیدہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شِیعہ مذہَب میں امامَت کا عقیدہ

  مولانا غلام محمد

صفحہ 17 از 18

دوسری ایک اور مثال بھی پیش کی جا سکتی ہے کہ امام مالک کی عقیدت مندی میں آکر دو تین مرتبہ عباسی خلفاء نے اُن کو یہ رائے پیش کی کہ پوری سلطنت میں حکومت کی طرف سے زبردستی رعایا کو ملکی مسلک کا پابند بنایا جائے اور دوسرے مسالک کی اشاعت کو روک دیا جائے۔ لیکن امام صاحب نے ہر موقعہ پر اس بات کی مخالفت کی اور کہا کہ جہاں جہاں مسلمان جس مسلک کی پیروی کر رہے ہیں، اس پر اُن کو قائم رہنے دیا جائے۔ سبب ظاہر ہے کہ ان دیگر مسالک میں بھی امام صاحب کو، کوئی بھی مسئلہ قرآن و سنت اور حضور ﷺکے صحابہ رضوان علیھم اجمعین کے اجتماعی فیصلوں کے خلاف نظر نہیں آیا۔ یہ جزوی اختلافات ایسی ہی قسم کے تھے جن کی مثالیں اوپر پیش کی گئی ہیں اور یہ اختلافات فطری ہیں۔

 یہ حقیقت بھی ذہن میں ہونی چاہئے کہ باہمی عزت و احترام اور رواداری کے ایسے جذبے صرفاماموں ، ان کے شاگردوں یا بڑے بڑے علماء تک محدود نہیں ہیں۔بلکہ ساری دنیا کے ہر ایک سُنّی مسلمان کے دل میں موجود ہیں اور ان شاء الله آئندہ بھی باقی رہیں گے۔پوری دنیا کے کونے کونے میں رہنے والا ہر مسلمان دوسرے مسلک کے اماموں اور شیوخ کا نام نہایت احترام سے لیتا ہے یعنی امام رحمۃ اللّٰہ علیہ کے سوا نام نہیں لیتا۔اسلامی تاریخ کے جلیل القدر عُلماء اہل اللّٰہ اور صوفی بزرگانِ دین مختلف مسلک رکھنے کے باوجود پوری دنیا میں،سنّیوں کے ہاں ایک جیسے مقبول ہیں۔چنانچہ حضرت شیخ عبد القادر جیلانیؒ پوری اسلامی دنیا میں تسلیم شدہ ولی اللّٰہ ؒ اور صوفیوں کے سرتاج ہیں۔ یہ بزرگ حنبلی مسلک سے تعلق رکھتے تھے۔اسلامی تصوف اور علم کلام کے مشہور بزرگ امام غزالیؒ دنیا میں مشہور ہیں ، ان کی اسلامی تصوف اور اخلاق پر مبنی کتابیں احیاء علوم دین اور کیمیائے سعادت انتہائی مشہور اور تمام مسلمانوں کے ہاں مقبول کتابیں ہیں حالانکہ یہ بزرگ شافعی مسلک رکھتے تھے۔اسلام کے مشہور مفسرِقرآن امام فخرالدین رازیؒ بھی شافعی تھے لیکن تمام عالم اسلام آپ کو فخر الاسلام امام رازیؒ کے نام سے جانتا اور پہچانتا ہے اور ان کی تفسیر سے تمام عالم اسلام کے مسلمان حنفی، شافعی ، حنبلی اور مالکی مستفیض ہوتے ہیں۔ جلال الدین رومیؒ ، حنفی ہونے کے باوجود تمام اسلامی طبقوں میں ایک جیسے مقبول ہیں اور ہندوستان کے مشہور حنفی بزرگ امام ربانی مجدد الف ثانی رحمۃ الله نہ صرف برصغیر میں بلکہ تمام دنیائے اسلام میں شوافع، احناف ،حنابلہ اور مالکیوں کے ہاں دوسرے ہزار سال کے مجدد مانے جاتے ہیں اور ہر ایک ان کے مکتوبات پڑھ کر رہنمائی حاصل کرتا ہے۔ حاصلِ مطلب یہ کہ ایسے باہمی احترام اور اخلاص کی مثالوں سے تواریخ بھری پڑی ہیں کس قدر مثالیں پیش کی جائیں۔گزشتہ صفحات میں اپ پر یہ بات اچھی طرح واضح ہوگئ ہے کۂ اسلام کا بنیادی حد دوسری عبادت سنی مسلمانوں کی فقہ کے ائمہ اربعہ کی فقہ کا بنیادی ماخذ قرآن کریم اور حضورﷺ کی احادیث مبارک (سنت) ہیں اور ان اماموں کا کچھ اجتہادی مسائل کے نتیجہ پر پہنچنے میں جو کچھ جزوی اختلاف نظر اتا ہے وہ فطری اختلاف ہے جس کے بارے میں کافی روشنی ڈالی گئ ہے اور ایسے اختلاف کی کوئ اہمیت نہیں ہے۔ اسلیے تمام مسلمانوں حنفی ،شافعی ، مالکی ، حنبلی خود اہل حدیث حضرات سنی مسلمان کہلاتے ہیں۔ خود شیعہ بھی ان تمام مسلمانوں کے لئے سنی مسلمان کا نام استعمال کرتے ہیں- ان چاروں ائمہ کے اختلاف کو زیادہ سمجھنے کے لئے شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا رحمتہ اللّٰہ کی کتاب “اختلاف ائمہ” کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ 

نتیجہ۔ اب یہ بات ثابت ہوگئ کہ جس جھوٹ سے، شیعہ دنیا کے مسلمانوں کو دھوکا دیتے ہیں کہ شیعہ سنی اختلاف کی نوعیت کچھ ایسی ہے جیسی سنیوں کے ائمہ اربعہ کے فقہ کی ہے۔ یہ کہنا سراسر جھوٹ اور غلط ہے بلکہ ایک بہت بڑا دجل فریب ہے۔ ایسا دھوکا اس سے پہلے کبھی شیعوں نے نہیں دیا ہے جو لوگ مکر، فریب، دھوکے بازی کتمان اور تقیہ سے دوسروں کو اللّٰہ کے دین سے منحرف کرتے ہیں، ان کو اللّہ تعالیٰ نے اپنے ابدی کلام میں اس طرح خبردار کیا ہے؛

اما الذین مکرو السیئات ان یخسف بھم الارض او یأتیھم العذاب من حیث لا یشعرون۔( النحل رکوع 6 آیت 45)

 بس حقیقت یہی ہے کہ سنیوں کا مذہب اسلام ہے اور شیعوں کا مذہب دوسرا ہے۔ بالفاظ دیگر یہ دو مذہبوں کا اختلاف ہے۔ لہذا اس کو شیعہ سنی اختلاف کہنا ہی دھوکہ ہے۔

 شیعہ سنی اختلاف کی کیا نوعیت ہے اس کے بارے میں ڈاکٹر اسرار احمد صاحب اپنے مقالہ "کیا ایرانی انقلاب اسلامی انقلاب ہے "میں لکھتے ہیں کہ:

" چنانچہ سنی اسلام اور شیعی اسلام میں عقائد کا فرق کتنا واضح اور اتنا متضاد اور متصادم ہے کہ ان میں سرے سے کوئی مصالحت محال مطلق اور قطعی ناممکن ہے کوئی دور دراز کی تاویل بھی ان دونوں میں کوئی مطابقت پیدا نہیں کر سکتی۔ ایک طرف خلافت عامہ کا تصور عقیدہ ہے دوسری طرف امامت معصومہ کا تصور و عقیدہ ہے اور وہ بھی ایک مخصوص نسل میں۔ پھر یہ امامت معصومہ بھی بارہ ائمہ تک محدود ہے۔ جن میں سے بارہویں امام غائب ہیں لہٰذا قریبا تیرہ سو سال سے زندہ کسی غار میں پوشیدہ ہیں۔ اور ان کے ظہور تک انہیں کا عہد امامت جاری و ساری ہے۔ حکومت کا حق صرف ان کے لیے مخصوص ہے۔ اثنا عشری شیعہ کے عقائد کے مطابق ان کے علاوہ سیدنا علیؓ کے قبل تینوں خلفاء راشدین معاذ اللّہ غاصب تھے اور آنحضرتﷺ کے بعد تاحال دنیا میں جتنی بھی حکومتیں قائم رہی ہیں یا اب ہیں وہ غاصبانہ حکومتیں ہیں۔( ماہنامہ میثاق اردو میں 1950 صفحہ 69)

 پھر آگے دوسرے پیراگراف میں چل کر ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں کہ:

صفحہ 17 از 18