شِیعہ مذہَب میں امامَت کا عقیدہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شِیعہ مذہَب میں امامَت کا عقیدہ

  مولانا غلام محمد

صفحہ 18 از 18

" سنی اور شیعہ مکاتب فکر میں زمین و آسمان کا فرق ہے ان میں جیسا کہ پہلے بھی عرض کیا جا چکا کہ بعد مشرقین ہے ان میں (co-existence) اور مطابقت ہو ہی نہیں سکتی۔ اس لیے میں اس فرق کو بنیادی اور اساسی فرق کہتا ہوں اور اسی لیے میں نے ابتداء ہی میں ان کو رد اسلام سے تعبیر کیا ہے۔ سنی اسلام خالصتا کتاب و سنت پر مبنی ہے جبکہ شیعہ اسلام محض توہمات اور تخیلات پر مبنی ہے۔ جس کی کوئی معمولی سی بنیاد نہ قرآن مجید میں ہے اور نہ احادیث صحیحہ ہثابتہ میں۔ لہٰذا اسلام کے نام اگر کوئی انقلاب آئے گا یا ظہور پذیر ہو گا تو وہ سنی انقلاب ہوگانہ "شیعہ انقلاب"۔

( ماہنامہ میثاق اردو میں 1985 صحفہ70)

8۔۔۔ لفظ حجت کے معنی اور اس کو آسانی سے سمجھنے کے لئے مثال۔

 دھیان میں رہے کہ اس کتاب میں لفظ حجت بہت سے مقامات پر استعمال کیا گیا ہے ۔ لہذا یہ ضروری سمجھا گیا کہ اس لفظ کو کھول کر سمجھایا جائے۔ تاکہ اس لفظ کی اہمیت اور وزن عام مسلمانوں پر ظاہر ہو جائے۔ لفظ حجت کی اہمیت اور اس کا وزن اس بات سے ہی سمجھ لینا چاہیے کہ شیعوں کی صف اول کی مشہور ترین کتاب اصول کافی میں کتاب الحجۃ کے حصے میں 127 مستقل ابواب رکھے گئے ہیں۔ جس میں میرے خیال میں 1000 سے زیادہ روایات ذکر کی گئی ہیں۔ جن میں جملہ بارہ ائمہ کو حجۃ کی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے۔ العیاذ باللہ۔

  لفظ حجۃ کے معنی ہیں دلیل و برہان( بیان اللسان صحفہ۔۔۔۔۔۔۔۔) میں سمجھتا ہوں کہ عام آدمی کو یہ معنی بتانے سے اس لفظ کی اصلہ حقیقت اور وزن معلوم نہیں ہوگا۔اس لیے اس پر روشنی ڈالی جائے۔ شریعت میں لفظ حجۃ ایک اصطلاحی لفظ ہے۔ جو صرف اللہ تعالی کی کتابوں اور انبیاء کرام علیہم السلام کے لئے استعمال ہوتا رہا ہے۔ لیکن آپ نے جیسا کہ پہلے پڑھا ہے اور شیعیت میں ہر ایک امام کا درجہ انبیاء کرام علیہم السلام سے بالاتر اور خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰﷺ کے برابر ہے۔ اور ہر امام کو حلال اشیاء کو حرام اور حرام اشیاء کو حلال کرنے کے مکمل اختیارات حاصل تھے۔ لہذا شیعہ مذہب کے مصنفین نے ائمہ کرام کو حجت کہہ کر پکارا ہے یا بقول شیعہ ائمہ نے خود اپنے آپ کو خاتم الانبیاء محمدﷺ کے برابر کہا ہے اور اپنے آپ کو حجۃ کہا ہے۔

 اب جبکہ شیعوں کے عقیدے کے مطابق ہر ایک امام حجت ہے اور امام زمان سن 260 ہجری سے ہر وقت اور ہر دور کے لئے زندہ غائب امام) ان کا آخری فیصلہ کن حجۃ ہے۔ لہذا لفظ حجۃکی اہمیت اور وزن اس مثال سے سمجھ لیں:-

 اسلام میں سود کھانا،شراب خوری، جوا ،چوری، ناحق قتل کرنا ،ناجائز اور حرام ہیں۔ اب ایک آدمی ظاہر ہوتا ہے اور اپنے آپ کو امام زمان کہلاتا ہے۔ وہ کرامات اور معجزات کے نام پر بڑے بڑے کرتب دکھاتا ہے اور شیعہ جو کہ امام زمانہ کے ظہور کے انتظار میں شب و روز بسر کر رہے ہیں وہ اس کے پھندے میں آ جاتے ہیں اور وہ سود کھانے، شراب پینے، جوا کھیلنے، چوری کرنے، سنی مسلمانوں کو قتل کرنے وغیرہ کے نام تبدیل کر کے دوسرے نام تجویز کرتا ہے۔ اور پھر ان تمام امور کو جائز اور حلال کہتا ہے تو یہ سب چیزیں شیعوں کے لئے حلال جائز اور امام کی فرمانبرداری میں ثواب کے کام اور روحانی درجات میں بلندی کا باعث سمجھی جائینگی جیسا کہ ان کے ہاں متعہ (زنا) کتمان( اصلی مذہب چھپانا) تقیہ( دوسرے کو دھوکہ دینا) اس وقت بھی اماموں کی طرف منسوب کردہ روایتوں سے جائز اور حلال ہیں اور درجات کی انتہائی بلندی کے باعث ہیں۔ جیسا کہ ان کا جس طرح مستقل ابواب میں ذکر کیا گیا ہے۔ یہ ہے کسی شخص کو حجۃ یا حجۃ الله تسلیم کرنے کی مثال۔ جو مجھے یہاں سمجھانے کے لیے پیش کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی ہے۔

 برخلاف ان کے جمہور امت، حنفی، شافعی، مالکی ،حنبلی اور اہل حدیث ایسے شخص کو فورا جھوٹا اور دجال کہیں گے۔ اس سبب سے کہ ان کے نزدیک حضور اقدسﷺ جو کہ خاتم النبیین ہیں اور ان کے نزدیک قرآن پاک اور رسول اللّٰہﷺ کے بعد کوئی بھی شخص اللہ کے دین کی رو سے اللہ تعالی کی جانب سے حجت نہیں ہے۔ اور قرآن کریم اور نبی برحق نے جن اشیاء کو حلال فرمایا ہے ان کو کوئی بھی شخص حرام قرار نہیں دے سکتا اور جن چیزوں کو حرام قرار دیا ہے ان اشیاء کو کوئی بھی شخص حلال نہیں کر سکتا۔ اس مثال سے آپکے ذہن میں لفظ حجت کے معنی اور اس کا مفہوم پوری طرح آ گیا ہوگا۔

 دوستو۔ اب آپ خود غور فرمائیں کہ شیعہ مذہب اور ان کے عقیدہ امامت کے سبب قرآن میں تحریف کر کے حضور علیہ السلام کے 23 سالہ دور نبوت کی پاکیزہ زندگی کے ہر قول و عمل کو رد کر کے اماموں کے نام سے یہ روایتیں بنا کر اسی پر شیعیت کی بنیاد رکھی گئ ہے۔ اس میں خود حضورﷺ کی ختم نبوت کا انکار ہو گیا یا نہیں۔ اور یہ اسلام کو مٹانے کا منصوبہ ہے یا نہیں۔ ذرا غور فرمائیں۔

 اللّٰہ تعالیٰ مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت فرماے۔ آمین۔


صفحہ 18 از 18