شِیعہ مذہَب میں امامَت کا عقیدہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شِیعہ مذہَب میں امامَت کا عقیدہ

  مولانا غلام محمد

صفحہ 2 از 18

یہ بات ذہن میں رہے کہ شروع سے جس طبقہ نے بھی اپنے آپ کو مسلمان یا اسلام کا پیروکار ظاہر کر کے بظاہر اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اور پسِ پردہ اسلام اور مسلمانوں کی مخالفت کی ہے اور اسلام کو مٹانے کی کوشش اور جدوجہد کی ہے تو ایسے طبقے یا طاقت کو شکست دینا مسلمانوں کے لئے انتہائی مشکل کام بن گیا ہے۔ کیونکہ جو قوم بظاہر اسلام اور مسلمانوں کا نام لے کر میدانِ عمل میں آئی ہے وہ اسلام کے نام سے ایسے حربے استعمال کرتی ہے جن سے کتنے ہی ایسے مسلمان جن کو دین کی بنیادی باتوں کا علم نہیں ہے اور وہ اس باطل قوت کے اصل نَصْبُ العین اور مقصد سے بھی واقِف نہیں ہیں تو وہ مسلمان ان باطل لوگوں کے چکر میں پھنس جاتے ہیں اور شروع سے باطل قوتیں ایسا ہی کرتی رہی ہیں ۔ لہذا ہمیں پہلے یہ دیکھنا ہے کہ اسلام کیا ہے؟ اسلام کی بنیاد کن چیزوں پر ہے اور مسلمان کس کو کہا جاتا ہے؟

لفظ اسلام کے معنی ہیں اطاعت اور فرمانبرداری ۔ مذہب اسلام کا نام اسلام اس لئے رکھا گیا ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری کرنی پڑتی ہے اور اللہ تعالی کے ہر حکم کے آگے سر تسلیم خم کرنا لازم ہے۔ اسلام اور مسلمان کی تعریف میں مولانا محمد منظور نعمانی صاحبؒ لکھتے ہیں کہ:

اسلام نام ہے اس دین کا اور اس طریقہ پر زندگی گزارنے کا جو اللہ کے رسولﷺ اللہ کی طرف سے لائے ہیں اور جو قرآن کریم اور رسول اللہ ﷺ کی حدیثوں میں بیان کیا گیا ہے ، پھر جو اس دین کو اختیار کرے، اس طریقہ پر چلے وہ ہی اصلی مسلمان ہے۔ : (اسلام کیا ہے صفحہ: 17٫18)

اس اقتباس سے معلوم ہوا کہ جو کچھ قرآن وسنت میں بیان کیا گیا ہے اس کا نام اسلام ہے اور جو شخص اسلام کی ان دو بنیادوں قرآن و سنت کو اختیار کرتا ہے اور قرآن وسنت کے شرعی احکامات کے مطابق زندگی گذارتا ہے وہی مسلمان ہے ۔

اسلام میں قرآن سے مراد موجودہ قرآن ہے جس پر نزولِ قرآن سے لے کر آج تک تمام مسلمانوں کا ایمان ہے ۔ فقہی اختلاف کی بناء پر حنفی، شافعی، حنبلی، مالکی، اہلِ حدیث ان تمام حق پرست جماعتوں کا اس قرآن پر ایمان ہے جو کہ کامل مکمل صورت میں موجود ہے اس میں کوئی تَغَیُّر و تبدیلی اور تحریف نہیں ہوئی اور اس قرآن کے کاتِب، مُفسِّر اور ہمارے پاس پہنچانے والے اَوَّلِین مُبَلِّغ اور راوی حضورﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں۔

اسلام میں سنت سے مراد حضورﷺ کی حیاتِ طیبہ اور آپﷺ کی وہ تمام قولی اور عملی ہدایات ہیں جو آپﷺ نے نبی، رسول، کتابُ اللّٰہ کے معلم اور اللّٰہ کی طرف سے بندوں پر آخری حجّت ہونے کی حیثیت سے دنیا کو سکھائی ہیں، اس پاکیزہ تعلیم کے بھی اولین راوی، اولین مخاطِب اور دنیا میں اولین مبلغ حضورﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تھے اور وہی ہو سکتے ہیں۔ ان صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے پیغمبرﷺ کی سنت اور تعلیمات کو انتہائی حفاظت سے بعد میں آنے والوں تک پہنچانے کا حق ادا کر دیا ہے ۔ اور یہ تعلیمات بعد میں آنے والے مُحَدِّثین کرام نے پوری سند کے ساتھ اپنی کتابوں میں درج کی ہیں اس طریقہ سے حضورﷺ کی سنت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے تَوَسُّط سے ہم تک پہنچی ہے۔

3) اسلام مکمل دین کیوں ہے؟ اور حضورﷺ خاتم النبیین کیوں ہیں؟

اسلام مکمل دین کیوں ہے اور حضورﷺ خاتم النبیین کیوں ہیں؟ اور ختمِ نبوت کے عقیدہ کو برقرار رکھنے کے لئے کن چیزوں کا محفوظ اور موجود ہونا لازمی ہے ۔ اسکے بارے میں قرآن مجید میں ہے کہ :

ارشاد باری تعالی:

كَانَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَۃً(قف)فبعث اللهُ النَّبِيِّينَ مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ ص وَاَنْزَلَ مَعَهُمُ الكِتَبَ بِالْحَقِّ لِيَحْکم بَينَ النَّاسِ فِيْمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ

( البقرة 2- رکوع 26 - آیت 213)

تھے سب لوگ ایک دین پر، بھیجے اللہ نے پیغمبر خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے اور اتاری ان کے ساتھ کتاب سچی کہ فیصلہ کرے لوگوں میں، جس بات میں وہ جھگڑا کریں۔

2_ قیامت تک آنے والے ہر دور اور ہر زمانے کے تمام انسانوں کی ہدایت اور رہنمائی قرآن میں موجود ہے اور رسول اللہﷺ ہر دور کے انسانوں کے لئے بشیر و نذیر یعنی خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے ہیں۔

إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ لِّلعَلَمِينَ۔۔

(یوسف 12- ع 11 - آیت 104)

یہ تو اور کچھ نہیں مگر نصیحت سارے عالم کو۔

وَمَآأَرْسَلْنٰكَ إِلَّا كَافَّةً لِلنَّاسِ بَشِيْرًا وَّنَذِيْرًا.

(سبا 34-رکوع 3- آیت 28)

اور تجھ کو جو ہم نے بھیجا سو سارے لوگوں کے واسطے خوشی اور ڈر سنانے کو۔

3_قرآن میں زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے کے لئے رہنمائی موجود ہے.

وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَبَ تِبْيَانًّا لِّكُلِّ شَيْءٍ وَّهُدًى وَّرَحْمَةً وَبُشْرٰی لِلْمُسْلِمِيْنَ.

(النحل 16- رکوع 13- آیت 89)

اور اتاری ہم نے تجھ پر کتاب، کھلا بیان ہر چیز کا اور ہدایت، رحمت اور خوشخبری حکم ماننے والوں کیلئے۔

4_ حق سبحانہ و تعالیٰ کی بارگاہ میں اسلام کے علاوہ دوسرا کوئی دین مقبول نہیں ہے۔

ومن يبتغ غیر الاسلام دینا فلن يُقبل منه۔

(ال عمران 3-رکوع 9 - آیت 85)

اور جو کوئی چاہے سوائے دین اسلام کے اور کوئی دین سو ان سے ہرگز قبول نہ ہوگا۔

5_ قرآن کریم میں اسلام کے کامل دین ہونے کا اعلان ۔ اليوم أكملت لكم دينكم واتممت عليکم نعمتي ورضيت لكم الإسلام دینا

(المائدة 5-رکوع 1- آیت 3)

آج میں پورا کر چکا تمہارے لئے دین تمہارا اور پورا کیا تم پر میں نے احسان اپنا اور پسند کیا میں نے تمہارے واسطے اسلام کے دین کو۔

6_ حضورﷺ مُطاع (اطاعت کیا ہوا) ہیں اور آپکی اِطاعت اہلِ ایمان کیلئے قیامت تک فرض ہے۔

اَطِيعُوا اللّٰهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُول

(النساء 4- رکوع 8 - آیت 59)

کہنا مانو اللہ کا اور کہنا مانو رسولُ اللّٰہﷺ کا۔

وما اٰتٰكم الرسولُ فَخُذُوہ، وما نهاكم عنه فانتهوا۔

(الحشر 59-رکوع 1- آیت 7)

اور جو دے تم کو رسول سو لے لو اور جس سے منع کرے سو چھوڑ دو۔

صفحہ 2 از 18