شِیعہ مذہَب میں امامَت کا عقیدہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شِیعہ مذہَب میں امامَت کا عقیدہ

  مولانا غلام محمد

صفحہ 3 از 18

واضح رہے کہ قرآن کریم آنحضرتﷺ پر تیس برس میں نازل ہو کر مکمل ہوا، نزولِ قرآن کے ساتھ اس کی قولی اور عملی تشریح خود حضورﷺ بیان فرماتے رہے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بیان کراتے رہے جس کے نتیجہ میں کلامِ پاک کے بے شمار حُفَّاظ وقُرَّاء حضرات بن گئے اور قرآن کریم کی دائمی حفاظت کا معجزانہ انتظام ہو گیا۔

مضامینِ قرآن حکیم جلد اول طبع 1980ء میں زاہد ملک لکھتے ہیں کہ :۔

گویا اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ کے سینوں کو دنیا میں لوحِ محفوظ کا نمونہ بنا دیا۔

اور آگے لکھتے ہیں کہ :۔

آپﷺ کے دور میں قرآن کے حافظوں اور قاریوں کی تعداد اس حد تک ہو گئی تھی کہ عام مسلمانوں کی تعلیم کے لئے حضورﷺ ایک ایک شہر اور بستی میں چالیس چالیس حافظ و قاری بھیجتے تھے۔

(مضامینِ قرآن صفحہ 56)

چنانچہ حضورﷺ سے ہر ایک صحابی فیض حاصل کرکے نمونۂ اسلام بن گیا۔ اب جبکہ قرآن مجید اللّٰہ تعالی کی طرف سے نازل ہونے والی آخری کتاب ہے اس کے بعد کوئی اور کتاب نازل ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لہذا آپﷺ پر نبوت اور رسالت کا سلسلہ تمام ہوا ۔ اب قیامت تک آپﷺ کے بعد کوئی شخص نبوت اور رسالت کا دعویٰ نہیں کر سکتا اگر کوئی دعویٰ کریگا تو وہ بلا شک و رَیب دجّال و کذّاب ہو گا۔ جسمانی معراج کا شرف بھی حضور انورﷺ کے ساتھ مخصوص تھا۔ قرآن مجید کے واضح الفاظ سے حضور انورﷺ کے خاتم النبیین ہونے کا اعلان کیا گیا ۔ وہ الفاظ مبارکہ یہ ہیں :۔

مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُم ولكن رسول الله وخاتم النبیین۔

( الاحزاب آیت40 - رکوع 5)

محمدﷺ تم مردوں میں سے کسی مرد کے باپ نہیں لیکن (آپﷺ) اللہ کے رسول اور سب سے آخر میں آنے والے نبی ہیں۔

مندرجہ بالا توضیحات سے معلوم ہوا کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اسلام اور اس کے دونوں طریقے یعنی قرآن و سنت کی حفاظت کے لئے اپنی طرف سے ایک غیبی انتظام کیا ہے کہ اب رہتی دنیا تک اسلام کی تعلیمات اور اس کے احکامات میں کوئی ترمیم یا تنسیخ نہیں ہوگی اسلام میں کوئی تحریف و تغیّر نہ ہو گا جیسے دوسرے مذاہب میں ہوا ہے۔ یہ غیبی انتظام کچھ اس طرح ہے کہ:

1_قرآن حکیم جو حضورﷺ پر نازل ہوا وہ شروع سے ہی محفوظ اور موجود ہے۔ اس کے ایک ایک حرف، حرکات و سکنات وغیرہ میں ذرہ برابر کوئی فرق نہیں آیا اور نہ ہی کسی فرق کے آنے کا امکان ہے کیونکہ اس کی حفاظت کی ذمہ داری ربُّ العالمین نے خود اپنے ذمہ لی ہے جیسا کہ سورہ حِجْر میں ارشاد خداوندی ہے کہ:

یعنی "بے شک ہم نے ہی قرآن پاک کو اتارا ہے اور ہم ہی اسکی ہر لحاظ سے حفاظت کرنیوالے ہیں"

اس کے علاوہ مزید معلومات کے لئے سورہ حٰمٓ سجدہ کی آیت 21٫22 قابل غور ہیں. آیات مبارکہ کا مفہوم یہ ہے کہ قرآن کو تحریف اور تبدیلی سے بچانے کے لئے ایسا غیبی انتظام کیا گیا ہے کہ اس میں سے کسی بھی حصہ کا ضائع یا غائب ہو جانا یا اس میں غیرِ قرآن کا داخل ہو جانا ناممکن ہے۔

2_حضورﷺ کی زندگی مبارکہ کے تمام حالات و واقعات ، اقوال و اعمال جن کو قرآن کی تشریح یا تفسیر کہا جاتا ہے وہ سب کے سب ایسے محفوظ و موجود ہیں کہ چودہ سو برس گزرنے کے بعد بھی حضورﷺ ہمیں دائمی زندہ تعلیمات میں یوں نظر آتے ہیں گویا کہ ہم آپﷺ کو دیکھ کر آپﷺ سے ہدایات حاصل کر رہے ہیں۔

یہ ہے اسلام کے مکمل دین اور اس کے محفوظ اور موجود ہونے کی حقیقت اور یہ ہے حضور اقدسﷺ کے خاتم النبیین ہونے کا مختصَر خاکہ اور ثبوت.

4- اسلام اور ختمِ نبوت کو مٹانے کے(نعوذُ باللہ) مؤثر طریقے:

گذشتہ صفحات سے معلوم ہوا کہ اگر اسلام دنیا میں باقی رہے اور حضورﷺ کو خاتمُ النبیین تسلیم کیا جائے تو ان باتوں کے لیے ضروری ہے کہ قرآن و سنت اپنی اصلی صورت میں محفوظ و موجود ہوں اور انکو اصلی صورت میں محفوظ اور موجود تسلیم کیا جائے۔

اگر اسلام کو (نعوذ باللہ) دنیا سے مٹانا ہو تو اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ دنیا کے اندر قرآن وسنت کے محفوظ اور موجود ہونے کا انکار کیا جائے اور یہ انکار قولی ہو یا عملی یا دونوں طریقوں سے ہو۔ تیسری صورت یہ بھی ہے کہ خود ختمِ نبوت کا انکار کیا جائے۔ چنانچہ اسلام کو مٹانے کے لئے شیعیت میں تینوں چیزوں یعنی قرآن، سنت، اور خود ختمِ نبوت کا سو فی صد انکار ثابت ہو جاتا ہے ۔

آپ اگر اسلام کی مکمل تاریخ پر نظر ڈالیں گے تومعلوم ہوگا کہ جب بھی کسی چالاک دشمنِ اسلام نے (معاذ اللہ) اسلام کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو اس نے ان تینوں حقائق میں سے کسی بھی ایک یا دو یا تینو کو غلط یا ناقص یا غیر یقینی ثابت کرنے کے لئے منصوبہ بنا کر اور اس کو عملی جامہ پہنانے کے لئے جدوجہد کی ہے. آپ کو دور جانے کی ضرورت نہیں ہے حال ہی کے فتنۂ قادیانیت پر نظر ڈالیں ۔ انگریزوں نے جب 1857ء کی جنگِ آزادی میں مسلمانوں کے عزم و استقلال کو دیکھا تو انہوں نے سوچا کہ اگر ہندوستان کے مسمانوں کے اس مضبوط قلعہ میں جب تک کوئی دراڑ نہیں ڈالی جائیگی اور تعلیماتِ اسلام کی بنیادوں کو کمزور نہیں کیا جائیگا تب تک انگریزوں کو اور ان کی حکومت کو استحکام نصیب نہیں ہوگا ۔ چنانچہ اس مقصد کے لئے انہوں نے منصوبہ بنایا اور جس مہرے کو آگے کیا تو اس نے یعنی غلام احمد قادیانی نے نہ قرآن کا انکار کیا اور نہ ہی احادیث رسولﷺ کا انکار کیا لیکن اس نے صرف حضورﷺ کی ختمِ نبوت کا انکار کیا. جس کا آگے چل کر یہ نتیجہ برآمد ہوا کہ وہ خود نبی بن بیٹھا اور اس نے نبوت کا دعویٰ کر دیا اور اپنے اوپر وحی کے نزول کا راگ آلاپنا شروع کیا، قرآن کی تشریح اپنی طرف سے کرنے لگا اور اپنی حدیثیں تراشنے لگا اَلغرض بہت سے قصے اور داستانیں بنا کر مرتد اور گمراہ ہو کر اسلام کے لئے ایک بڑا فتنہ بنا اور مسلمانوں کو بھی بڑے فتنہ میں مبتلا کر دیا۔

صفحہ 3 از 18