شِیعہ مذہَب میں امامَت کا عقیدہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شِیعہ مذہَب میں امامَت کا عقیدہ

  مولانا غلام محمد

صفحہ 4 از 18

اس کے بعد مسٹر پرویز کو دیکھیں ۔ اس نے قرآن کا انکار نہیں کیا بلکہ اپنے آپ کو اہلِ قرآن کہلوایا، اس نے ختمِ نبوت کا بھی انکار نہیں کیا لیکن اس نے کمزور تاریخ کے حوالوں کا سہارا لے کر حضورﷺ کی احادیث یعنی قرآن کریم کی قولی اور عملی تشریح و تفسیر کو ناقص کہا جو کہ ہمیں حضورﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ذریعہ سے معلوم ہوئیں پھر اس مسٹر پرویز کا بھی اس دنیا میں جو حشر ہوا وہ ہوا ، علماء کرام سے یہ بات مخفی نہیں ہے۔

5_ اسلام اور ختمِ نبوت کو مٹانے کیلئے شیعوں کا اختیارکیا ہوا طریقہ، اصلی قرآن اور اماموں پر نازل شدہ 249 آسمانی کتابیں کہاں گئیں؟ شیعہ مذہب کہاں تصنیف ہوا ہے؟

اوپر بیان ہو چکا کہ ان تین حقائق میں سے کسی ایک کا انکار کرنے سے بھی حقیقت میں اسلام اور ختمِ نبوت کا انکار ہو جاتا ہے پر اب اگر آپ شیعوں کی مستنَد اور معتبَر کتابیں دیکھیں گے تومعلوم ہو گا کہ شیعہ مذہب کے موجدوں نے ان تینوں چیزوں کا انکار کیا ہے، اس کی تفصیل اس طرح ہے:

1_ نزولِ قرآن کے سب سے اولیّن عینی گواہ اور مخاطب ، پہلے عامِل ، حافظ و قاری اور کاتب و مبلغ حضورﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہی ہیں اور وہی تھے، ان معزَّز اور قُدسی ہستیوں کو شیعہ مصنفین و شیعہ مذہب کے موجدوں نے جھوٹے، مفاد پرست، غیر معتبر، غاصِب، منافِق اور مرتَد اور کافر کہہ کر قرآن کریم کے محفوظ ہونے کا انکار کیا ہے۔ اور دو ہزار سے زائد روایات اماموں کے نام منسوب کر کے اپنی کتابوں میں لکھی ہیں ان میں واضح الفاظ میں یوں لکھا گیا ہے کہ اس قرآن میں بڑے پیمانہ پر تبدیلی اور تحریف ہوئی ہے۔ اس کے بارے میں، اس کتاب کے باب دوئم میں کافی مواد پیش کیا گیا ہے وہ وہاں مطالعہ کیا جائے یہاں پر صرف دو اقتباس دوبارہ پیش کرتا ہوں :-

1_ دہماں عیبی را کہ مسلمانان بکتاب یہود و نصاری میگرفتند عینا برائے خود را اینها ثابت شود.

(كشف الأسرار صفحہ 114 عکس صفحہ 525 پر)

اور تحریف کا جو عیب مسلمان، یہود و انصاری پر لگاتے ہیں وہی عیب ان صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اوپر بھی ثابت ہوتا ہے (معاذ اللہ)۔

اس عبارت میں خمینی صاحب قرآن کریم کو تحریف شدہ کتاب اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو قرآن مجید میں تحریف کرنیوالا لکھتا ہے۔ (نعوذ باللہ)

2- شیعہ اثنا عشریہ کی مستند و معتبر ترین کتاب تفسیر صافی صفحہ 10 میں ہے کہ :

عن ابی عبد الله علیه السلام قال لو قولی القرآن كما انزل لَالفيتنا فيه مسمّين.

(تفسير صافي صفحہ 10 طبع تهران)

اگر قرآن اس طرح پڑھا جاتا جیسا کہ رسول اللّٰہﷺ پر نازل ہوا تھا تو تم اس میں ہمیں ہمارے ناموں سے پا لیتے۔ (عکس دیکھیں صفحہ 509 پر)

اس کے بارے میں مزید تفصیل باب دوم میں موجود ہے یہاں پر بطور نمونہ دو اِقتباسات پر اکتفا کیا گیا ہے۔

2_ اب آپ غور کریں کہ شیعہ مذہب کے مصنِّفین نے قرآن کریم کو مشکوک ثابت کرنے کیلئے قرآن کے اولین مخاطب اور مبلّغین حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو کفر و ارتداد، غاصب و ظالم ، مکار و مفاد پرست وغیرہ کی مذموم صفات سے مَطعون کیا ہے اور قرآن کریم کے بارے میں تحریف کا عقیدہ بنایا ہے تو پھر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین شیعہ دنیا کے لئے حضورﷺ کی سنت یعنی احادیث کے بارے میں کونسے فارمولے سے معتبر اور قابل اعتبار ہو سکیں گے؟ یہ ایسی حقیقت ہے کہ جس پر کچھ لکھنا بالکل غیر ضروری ہے چنانچہ شیعوں کے پاس نبیﷺ کی سنت یعنی اَحادیث کے لئے کوئی گنجائش نہیں ہے۔ شیعہ جس چیز کو سنّت اور حدیث کہتے ہیں ان سے ان کی اصل مراد وہ روایت ہوتی ہے جو کسی امام کے نام سے منسوب بتائی جائے مثلاً کوئی راوی کہے کہ سَیِّدُنا محمد باقر صاحب نے اس کے بارے میں یہ حکم دیا ہے یا سیدنا رضاؒ نے یوں کہا ہے، سیدنا حسن عَسکریؒ نے یوں فرمایا ہے وغیرہ وغیرہ۔ یہی ہے شیعہ مذہب میں سنّت اور حدیث کا اصلی چہرہ جس کو میں نے دوسرے مقامات پر تفصیل کے ساتھ بے نقاب کیا ہے تاکہ عام مسلمان اس زبردست دھوکے کو اچھی طرح دیکھ اور سمجھ سکیں۔

صفحہ 4 از 18