شِیعہ مذہَب میں امامَت کا عقیدہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شِیعہ مذہَب میں امامَت کا عقیدہ

  مولانا غلام محمد

صفحہ 5 از 18

3_ اسلام اور ختمِ نبوت کے عقائد کی بقاء کے لئے قرآن وسنت کا محفوظ و موجود ہونا اشد ضروری ہے لیکن شیعہ مذہب کے بانیوں نے ان دونوں کا انکار کرنے کے بعد حضورﷺ کے خاتَمُ النبیین والے منصَب کو ، امامت کے عہدہ سے پُر کیا ہے اور انہوں نے اماموں کے نام سے ہزاروں روایات بنا ڈالیں جو کہ شیعہ مذہب کی بنیادیں ہیں چنانْچہ ہم شیعوں سے جو روایات اور احادیث کے الفاظ سنتے ہیں تو دراصل ان سے مراد وہی روایات ہوتی ہیں جو شیعوں کی کتابوں میں احادیث کے نام سے لکھی گئی ہیں۔ جن کی آخری سند حضورﷺ کی ذات گرامی نہیں ہے بلکہ آخری سند کوئی نہ کوئی امام بتایا گیا ہے۔ شیعوں کی ایسی کتابوں میں سے سب سے زیادہ مستند و معتبر ترین کتاب" اَلْجامعُ الٰکَافِی“ ہے ۔ اس کا مؤلّف ابو جعفر محمد بن یعقوب بن اسحق کلینی رازی متوفی 328ھ ہے۔ صرف اس کتاب میں روایات کی تعداد (16199) سولہ ہزار ایک سو ننانوے ہے۔ ان روایات میں تحریفِ قرآن اور تقیہ (جھوٹ بولنا ، دھوکہ سے کام لینا، ظاہر کا باطن کے خلاف ہونا) کو اماموں کا دین کہا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ کو بداء ہوتا ہے یعنی اللہ تعالٰی بھی نعوذ باللہ بھول جاتا ہے ، اس مسئلہ کا ذکر ہے ۔ اس کتاب میں امامت اور اماموں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی کی طرح ہر شئے میں حجّت ہونے کے بارے میں ایک سو ستائیس (127) اَبواب ہیں۔ جن میں ہے کہ امام معصوم اور گناہوں سے پاک ہیں جن سے غلطی اور لغزِش ہونے کا تصوُّر بھی نہیں کیا جاسکتا۔حضورﷺ کی اطاعت کی طرح اماموں کی اطاعت فرضِ عین ہے، ہر امام کا درجہ تمام انبیاء علیہم السلام سے اعلیٰ اور حضورﷺ کے برابر ہے ہر امام پر ہرسال قدر کی رات میں آسمان سے فرشتہ ایک کتاب لیکر نازل ہوتا تھا لہذا ہر امام صاحبِ کتاب ہے اور ہر امام جمعہ کی رات معراج پر جاتا تھا تاکہ اسکے علم میں اضافہ کیا جائے۔ لہذا ہر امام صاحبِ معراج ہے۔ اور اس کتاب میں ہے کہ ہر امام کو اپنے سے پہلے فوت شدّہ امام کیطرح حلال کردہ اشیاء کو حرام کرنے اور حرام کردہ اشیاء کو حلال کرنے کا اختیار حاصل تھا۔ لہذا ہر امام صاحبِ شریعت ہے. یہ جو کچھ لکھا گیا وہ صرف ڈھیر میں سے ایک مٹھی ہے جس سے شیعہ مذہب کی جنس کا تعارف کرانا مقصود ہے ۔ اس کے بارے میں آگے تفصیلی روایات آرہی ہیں۔

اب یہ بات ذہن میں رہے کہ رسولُ اللّٰہﷺ نے سن 11 ہجری میں رحلت فرمائی، شیعوں کے عقیدہ کے مطابق سیدنا علیؓ حضورﷺ کیطرح پہلے امام سن 11ہجری میں بنے اور گیارہویں امام سیدنا حسن عسکریؒ نے 260 ھجری میں وفات کی، تو اس حساب سے(11 - 260) = 249 برس کا عرصہ بنا۔ ہر ایک امام پر ہر سال شبِ قدر میں کتاب نازل ہوتی تھی تو پھر کہا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی پر آخری آسمانی کتاب قرآن مجید نازل ہونے کے بعد بھی اماموں پر 249 آسمانی کتابیں نازل ہوئی ہیں۔

اسوقت شیعہ ویلفیئر آرگنائزیشن نواب شاہ کی طرف سے مطبوعہ چارٹ میرے سامنے موجود ہے اسکی تصدیق شیعہ اثناء عشریہ علامہ علی احمد نَجفی نے کی ہے۔ اس میں سے چند باتیں ناظِرین کے لئے پیش کرتا ہوں۔

1_سَیِّدُنَا علیؓ: (مقامِ ولادت: مکہ معظمہ، وفات: 40 ہجری، امامت کی مدت: 30 سال

2_ سَیِّدُنَا حسنؓ: (مقامِ ولادت: مدینہ منورہ وفات: 50 ھجری، امامت کی مدت: 10 سال)

3_ سَیِّدُنَا حسینؓ: (مقامِ ولادت: مدینہ منورہ وفات:61 ھجری، امامت کی مدت: 10 سال)

4_ سَیِّدُنَا زین العابدینؒ: (مقامِ ولادت: مدینہ منورہ، وفات: 95 ھجری، امامت کی مدت: 34 سال)

5_ سَیِّدُنَا محمد باقرؒ: (مقامِ ولادت: مدینہ منورہ وفات: 114ھجری، امامت کی مدت: 19 سال)

6_ سَیِّدُنَا جعفر صادقؒ: (مقامِ ولادت: مدینہ منورہ وفات: 148ہجری، امامت کی مدت: 34 سال)

7_ سَیِّدُنَا موسیٰ کاظمؒ: (مقامِ ولادت: مکہ اور مدینہ کے درمیان منزل، وفات: 183 ہجری، امامت کی مدت: 35سال)

8_ سَیِّدُنَا علی رضاؒ: (مقامِ ولادت: مدینہ منورہ، وفات: 203 ہجری، امامت کی مدت: 20 سال)

9_ سَیِّدُنَا محمد تقیؒ: (مقامِ ولادت: مدینہ منورہ، وفات: 220 ہجری، امامت کی مدت: 17سال)

10_ سَیِّدُنَا علی نقیؒ: (مقامِ ولادت: مدینہ منورہ کے قریب گاؤں میں، وفات: 254 ہجری، امامت کی مدت: 34 سال)

11_ سَیِّدُنَا حسن عسکریؒ: (مقامِ ولادت: مدینہ منورہ، وفات: 240 ہجری، امامت کی مدت: 4 سال)

12_ محمد مہدیؒ: (مقامِ ولادت: سامرہ،بغداد وفات:(ـــــ)، امامت کی مدت: 259)

کل مدت2( اماموں پر نازل شدہ آسمانی کتابوں کی مجموعی تعداد): 249

اس چارٹ سے گیارہ اماموں کی امامت کا عرصہ 249 برس بنتا ہے شیعوں کے عقیدہ کے مطابق ہر امام پر، ہر سال شبِ قدر میں آسمان سے فرشتے ایک کتاب لیکر نازل ہوتے تھے۔ تو اس حساب سے قرآن مجید کے نازل ہونے کے بعد بھی ان اماموں پر 249 آسمانی کتابیں نازل ہوئی ہیں اور شیعوں کا کہنا ہے کہ محمد مہدی (امامُ العصر غائب مہدی) اصلی قرآن کے ساتھ یہ تمام کتابیں اپنے ساتھ لے گیا ہے اور وہ صاحب تقریباً ساڑھے گیارہ سو (1150) برسوں سے ایک غار میں غائب ہو گیا ہے (اَستغفرُ اللّٰہ).

صفحہ 5 از 18