شِیعہ مذہَب میں امامَت کا عقیدہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شِیعہ مذہَب میں امامَت کا عقیدہ

  مولانا غلام محمد

صفحہ 6 از 18

مذکورہ چارٹ کو دیکھیں گے تو معلوم ہو گا کہ صرف سَیِّدُنَا علیؓ پر حضورﷺ کی وفات کے بعد میں (30) کتابیں نازل ہوئی ہیں ۔ اب جبکہ ان سے ہم پوچھتے ہیں کہ یہ سب کتابیں کہاں گئیں؟ اور سَیِّدُنَا علیؓ نے جو قرآن جمع کیا تھا وہ گیارہ امام اپنے ساتھ 249 برس تک اپنے پاس صرف برکت کے بہانے رکھتے رہے وہ قرآن کہاں ہے؟ تو شیعہ حضرات ایک عجیب مُعَمّہ پیش کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ گیارہویں امام سَیِّدُنَا حسن عسکریؒ کو ایک کنیز نرگس سے ایک فرزند ہوا تھا جس کی دوسرے کسی کو بھی خبر تک نہیں دی گئی تھی۔ اس لڑکے کی عمر ابھی 4-5 برس ہی تھی تو سَیِّدُنَا حسن عسکریؒ کی وفات کا وقت قریب آیا، لہذا یہ صاحبزادہ اپنے والِد کی وفات (سنۃ 260 ہجری) سے آٹھ دس دن پہلے اس وقت کی حکومت کے خوف کی وجہ سے یہ مُکمل کتابیں اور دوسرے بھی بہت سارے تبرکات جن کا شمار کرنا نامُمکن ہے، وہ بھی اپنے ساتھ لے کر تَن تنہا بغداد شہر کے قریب ایک غار میں غائب ہوگیا اور وہاں اب جلاوطنی کی زندگی گزار رہا ہے اور جب اس کی جلا وطنی کا زمانہ ختم ہوگا تو پھر یہ صاحب، جن کو ہم اِمامُ العصر کہتے ہیں وہ باہر نکل آئے گا اور اپنے ساتھ سَیِّدُنَا علیؓ والا قرآن جو کہ موجودہ قرآن سے کم از کم تین گنا بڑا ہو گا اور اسمیں تمام اماموں کے نام اور ان کی امامت کا ذکر ہوگا اور اس کے ساتھ اماموں پر نازل شدہ کتابیں اور دوسرے بہت سارے تبرکات باہر نکال کر لائے گا اور اگر آپ اس وقت زندہ ہوں گے تو خود بھی دیکھ سکیں گے اور مزید فرماتے ہیں کہ ہم خود اس امام العصر کا 260 ہجری سے آج تک انتظار کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے شب و روز دعائیں کر رہے ہیں کہ اس کی جلا وطنی کا عرصہ ختم کر کے اسکو جلد باہر لائے وغیرہ وغیرہ۔ (مزید تفصیل کے لئے دیکھیں اس کتاب کا باب غائب امام مہدی اور رجعت)۔

اس چارٹ میں آپ کو ایک دوسری خاص چیز یہ بھی نظر آئے گی کہ شیعوں کے یہ تمام گیارہ آئِمّہ حجازِ مقدس اور اس میں بھی خاص کر مدینہ مُنوَّرہ میں پیدا ہوئے ہیں اور شعیوں نے اپنے مذہب کو زیادہ تر سَیِّدُنَا محمد باقرؒ اور سَیِّدُنَا جعفر صادقؒ کی طرف منسوب کیا ہے۔ یہ دونوں حضرات مدینہ منوّرہ میں پیدا ہوئے ہیں۔ وہاں ہی پوری عمر گزاری ہے اور وہیں جنّتُ البقیع کے قبرستان میں مدفون ہیں۔

تحذيرُ المسلمين عنْ كَيدِ الکاذِبین کا مصنّف لکھتا ہے کہ :۔ اس مذہب کا کوئی راوی ملک عرب بالخصوص مکہ اور مدینہ کا نہیں ہے، تمام راوی عراق اور ایران کے ہیں۔ خُلفائے ثلٰثہ کے عہد میں ان مَمَالک کی سیاسی برتری کو جو نقصان پہنچا وہ مَخفی نہیں اس لئے مذہب کو سیاسی انتقام کا ایک ذریعہ بنایا گیا.

(تحذيرُ المسلمين، بار سوم، صفحہ 380)

مولانا محمد منظور نعمانی صاحبؒ ایرانی انقلاب میں لکھتے ہیں کہ:

"اس سلسلہ میں یہ بات خاص طور سے قابلِ لحاظ ہے کہ ابو بصیر اور زُرَارہ وغیرہ جو اس طرح کی روایتوں کے راوی ہیں اور ہمارے نزدیک فی الحقیقت شیعہ مذہب کے مصنّف ہیں. کوفہ میں رہتے تھے اور سَیِّدُنَا محمد باقرؒ اور سَیِّدُنَا جَعفَر صادِقؒ مدینہ منورہ میں۔ یہ لوگ کوفہ سے کبھی کبھی مدینہ منورہ آتے اور یہاں سے واپس جا کر کوفہ میں اپنے خاص حلقہ میں ان آئِمَّہ کی طرف منسوب کر کے اسطرح کی روایات بیان کرتے تھے انہی روایات پر شیعہ مذہب کی بنیاد ہے" (ایرانی انقلاب، صفحہ 141)

شیعہ مذہب کے تصنیف کرنیوالے کوفہ اور ایران کے باشندے تھے وہ جب مدینہ منورہ میں آتے تھے تو سَیِّدُنَا جعفر صادقؒ اور سَیِّدُنَا محمد باقرؒ سے ملاقات کرنے اور ان سے حدیثیں حاصل کرنے کا جن الفاظ میں اظہار کرتے تھے اس کا صحیح نقشہ مولانا محمد منظور نعمانیؒ نے شیعوں کی مُستند ترین معتبر کتاب اَلْجَامِعُ الکَافِی کی سند سے اس طرح بیان کیا ہے :-

اصولِ کافی میں ایک باب ہے جس کا عنوان ہے بابٌ فیہ ذِکرُ الصَّحیفةِ وَالجفرِ وَالجامعة و مُصْحَف فاطمةَ علیها السلام"( اس باب میں ذکر ہے صحیفہ کا، جفر، جامعہ اور مصحفِ فاطمہؒ کا). "اس باب کی پہلی رِوایت بہت طویل ہے اس لیے اس کو تَلخیص اور اختِصار ہی کے ساتھ نظرِ قارئین کیا جا رہا ہے۔"

" ابو بصیر( جو شیعی روایت کے مطابق سَیِّدُنَا جعفر صادق رحمہ اللہ کے خاص مَحرَمِ راز شیعوں میں سے تھا) بیان کرتے ہیں کہ ایک دن سَیِّدُنَا جعفر صادقؒ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا کہ مجھے ایک خاص بات دریافت کرنی ہے یہاں کوئی غیر آدمی تو نہیں ہے؟ تو انہوں نے وہ پردہ اٹھایا جو اس گھر اور دوسرے گھر کے درمیان پڑا ہوا تھا اور اندر دیکھ کر فرمایا کہ اس وقت یہاں کوئی نہیں ہے جو جی چاہے پوچھ سکتےہو۔"

(اصول کافی، مطبوعہ 1302 ہجری، صفحہ 146)

آگے چل کر حضرت مولانا لکھتے ہیں کہ:-

" شیعہ مذہب کی پوری حقیقت، روایت کے اس اِبتدائی حصے سے سمجھی جا سکتی ہے سَیِّدُنَا محمد باقرؒ اور سَیِّدُنَا جعفر صادقؒ وغیرہ آئمہ سے شیعہ مذہب کی تعلیمات اور روایات کرنے والے ابو بَصیر، زُرارہ وغیرہ مذہب شیعہ کے خاص راوی جو اپنے آپ کو سَیِّدُنَا جعفر صادقؒ اور سَیِّدُنَا باقرؒ کا خاص محرم راز بتلاتے تھے اور اپنے حلقے کے خاص لوگوں سے کہتے تھے کہ یہ آئمہ ہم کو شیعہ مذہب کی باتیں رازداری کے ساتھ تنہائی میں بتاتے تھے جب کوئی دوسرا آدمی نہیں ہوتا تھا اس طرح یہ لوگ جو چاہتے ان اماموں کی طرف منسوب کر کے کہہ سکتے تھے اور انہوں نے یہی کیا ہے. واقعہ یہ ہے کہ شیعہ مذہب کی اصل حقیقت بس یہی ہے ورنہ ہمارے اور جَمہور امتِ محمدیہ کے نزدیک یہ حضرات اللہ کے مقبول باصفا بندے اور اعلیٰ درجے کے صاحبِ علم و تقوی تھے. ان کا ظاہر و باطن ایک تھا اور وہ سب کو دین کی تعلیم اِعلانیہ دیتے تھے ان کی زندگی میں نفاق کا شبّہ بھی نہیں تھا جس کا نام شیعہ حضرات نے "تقیہ" رکھ لیا ہے۔ (ایرانی انقلاب صفحہ 138-139)

شیعہ مذہب کے تصنیف کرنے والے ایرانی اور عراقی راویوں میں زرارہ اور ابوبصیر تمام راویوں سے زیادہ معتبر ہیں اس بات کی تصدیق شیعوں کی بہت مشہور کتاب" رِجال کشی" کے ان الفاظ سے ہوتی ہے:-

صفحہ 6 از 18