شِیعہ مذہَب میں امامَت کا عقیدہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شِیعہ مذہَب میں امامَت کا عقیدہ

  مولانا غلام محمد

صفحہ 7 از 18

سمعتُ ابا عبداللہ (ع) ما أجد احدًا احیا ذکرنا واحادیث ابی الا زرارۃ و ابو بصیر لیث المرادی و محمد بن مسلم و برید بن معاویة العجلی ۔

(رجال کشی (کربلاء) صفحہ 124-125)

ترجمہ:روای کہتا ہے کہ میں نے ابو عبداللہ جعفر صادقؒ سے سنا کہ آپ نے فرمایا مجھے ایسا کوئی دوسرا شخص نہیں ملتا جس نے ہمارے ذکر اور میرے والد کی حدیثوں کو زندہ کیا ہو سوائے زرارہ، ابو بصیر، محمد بن مسلم اور برید بن معاویہ کے ۔

یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ جب بھی اماموں کو کسی شیعہ راوی کے بارے میں یہ خبر پہنچی کہ وہ ہمارے بارے میں ایسی باتیں کہتا ہے جو کہ ہم نے نہیں کہیں تو آپ نے اسی وقت اس راوی پر لعنت بھیجی ہے چنانچہ اِن چار معتبر راویوں کے بارے میں مندرجہ ذیل معتبر ترین روایات دیکھیں۔

(1) ابو سیار نے سَیِّدُنَا جعفر صادقؒ کے یہ الفاظ سنائے:-

قال سمعت ابا عبداللہ یقول لعن اللّٰه بریدًا، لعن الله زرارۃَ

ترجمہ :میں نے سَیِّدُنَا جعفر سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا بریدہ پر اللہ تعالی لعنت کرے اور زرارہ پر بھی اللہ لعنت کرے ۔

(رجال کشی (کربلاء) 134)

(2)سَیِّدُنَا جعفر کے بارے میں خود ابو بصیر کی رائے اور اس کو اس کی گستاخی کی سزا:-

قال جلس ابو بصیر على باب ابی عبداللہ علیه السلام لیطلب الاذن فلم یؤذن له فقال لو کان معنا طبق الأذن. فجاء کلب فشغر فی وجه ابی بصیر۔

(رجال کشی، صفحہ 155)

ترجمہ:راوی کا بیان ہے کہ ابو بصیر سَیِّدُنَا جعفرؒ کے دروازے پر بیٹھا تھا اور اندر آنے کی اجازت طلب کی لیکن وہ اس کو اجازت نہیں دے رہے تھے تو کہنے لگا کہ اگر میرے ساتھ کوئی پیسے کا طبق ہوتا تو مجھے اجازت مل جاتی پھر ایک کتا آیا اور اس کے منہ میں پیشاب کر گیا ۔

ابو بصیر کوفہ کا تھا اور اندھا تھا زیادہ وقت دروازے پر بیٹھنے کی وجہ سے وہاں سو گیا تو ایک کتا آیا اور اس نے اس کے منہ میں پیشاب کر دیا بظاہر اس کو قدرت سے یہ سزا ملی ہے کہ وہ منہ کھول کر سویا ہوا تھا اور کتے نے اپنا کام پورا کر دیا ۔

(3)عن مفضل بن عمر قال سمعت ابا عبدالله یقول لعن اللّٰه محمد بن مسلم کان یقول أن الله لا یعلم شیئا حتی یکون ۔

(رجال کشی، صفحہ 151)

مفضل بن عمر کا بیان ہے کہ میں نے سَیِّدُنَا جعفر صادقؒ سے سنا آپ نے فرمایا کہ محمد بن مسلم پر اللّٰہ تعالیٰ لعنت کرے کہ وہ کہتا ہے کہ جب تک کوئی چیز وجود میں نہیں آتی تب تک اللّٰہ تعالیٰ کو اس کا علم نہیں ہوتا۔

مندرجہ بالا عنوانات سے اپ کو یہ باتیں معلوم ہوئیں:

1-شیعوں نے رسول اللّٰہﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین کو جھوٹا، مکار، مُرتَد وغیرہ کہہ کر قران و سنّت کی صحت اور سلامیت کا انکار کیا۔

2_ شیعوں نے قران و سنت کے انکار سے ختمِ نبوت کا مَنصَب خالی کر کے یہ جگہ اِمامت کے عہدے سے پُر کی ہے اور ہزاروں روایات اپنی طرف سے بنا کر اماموں کے ناموں سے لکھی ہیں اور ان کے پاس سنت اور حدیث سے مراد یہی خود تراشیدہ روایات ہیں۔

3- شیعوں کے راویوں میں سے کوئی بھی راوی حجازِ مقدس مکہ اور مدینہ منورہ کا باشندہ نہیں ہے بلکہ یہ سب عراق اور ایران کے باشندے ہیں جبکہ شیعوں کے کہنے کے مطابق خود آئمہ حضرات کا قیام مدینہ منورہ اور حجازِ مقدس میں رہا ہے۔ یہ راوی کبھی کبھی اماموں کے پاس چُھپ کر آتے تھے اور پھر اپنے حلقہ کے لوگوں کو کہتے تھے کہ سَیِّدُنَا محمد باقرؒ اور سَیِّدُنَا جعفر صادقؒ نے اس طرح فرمایا ہے وغیرہ وغیرہ بالفاظِ دیگر شیعہ مذہب کی تصنیف مخفی طرح سے ایران اور عراق میں ہو رہی تھی اور جن بُزرگوں کی طرف اس مذہب کو منسوب کیا جا رہا تھا وہ خود مدینہ منورہ میں رہتے تھے جن کو یہ خبر بھی نہیں تھی کہ ان کے بارے میں کیا کیا کہا جا رہا ہے اور کیا کیا لکھا جا رہا ہے۔

قارئین کرام! اب آپ شیعوں کے ایسے راویوں اور ان سے روایت کی ہوئی حدیثوں کا مقابلہ اہلِ سنت والجماعت کی احادیث کی کتابوں میں ذکر کی گئی حدیثوں اور ان کے راویوں سے کریں. اس بارے میں امامِ اہلِ سنت و الجماعت مولانا عبدالشکور لکھنویؒ فرماتے ہیں:-

"علمِ حدیث کی تکمیل کے لیے اہل سنت نے 65 فن مدون کیے، ایک لاکھ سے زائد راویوں کے حالات قلمبند کیے. آج جس طرح ہم ہر ایک حدیث کی سَنَد رسولِ خدا تک بیان کر دیں گے دنیا میں کوئی بھی شخص تورات، اِنجیل، زبور یا وید کی سند مُعلِّمِ اوّل تک بیان نہیں کر سکتا."

ایک اور جگہ مولانا فرماتے ہیں:-

"اہلِ سنت کے پاس قرآن ہے اور اُن کے تمام عقیدہ کی بنیاد اُسی پاک کتاب پر ہے. ان کے پاس متواتر احادیث کا بھی بہت اچھا ذخیرہ ہے. اُن کا مذہب متواتر ہے، جس کو قرنِ اول کے ایک لاکھ سے زائد انسانوں یعنی اہلِ بیتِ رسول اور اصحابِ رسول نے اپنے پاک نبی سے روایت کیا ہے۔ تدوینِ کتب کے بعد تو ہر قرن میں اس علم کے اتنے لوگ رہے ہیں کہ اُن کا شمار خداوند قدوس کے سوا اور کوئی نہیں جانتا مثلاً مؤطا امام مالک سے 90 ہزار آدمیوں نے پڑھا اور روایت کیا ہے۔

(خلاصہ مقدمہ تفسیر آیاتِ خلافت، صفحہ 39-47، مطبوعہ لکھنؤ 1942ء)

ایسے اعلیٰ معیار کے مقابلے میں آپ نے شیعوں کے معتبر ترین راویوں کا احوال پڑھا جن پر اماموں نے خود لعنت برسائی ہے اور یہ اماموں کے آگے بھی سخت گستاخ واقع ہوئے ہیں. ان کا اماموں سے روایت حاصل کرنے اور ان سے ملاقات کا طریقہ بھی آپ نے پڑھا حقیقت یہ ہے کہ رافضیوں کا مذہب تو ان کی معتبر کُتُب اُصولِ اربع یعنی اصولِ کافی، تہذیب، مَن لَّا یحضرہ الفقیه، اِستِبصار بھی اپنے مصنِّفین سے ہی متواتر نہیں، جس نے جو کتاب بنائی اس کو عَیب کی طرح صدیوں تک چھپائے رکھا اب بمشکل 200 برس ہوئے ہوں گے کہ وہ کتابیں صندوقِ تقیہ سے باہر نکلی ہیں۔

4- شیعہ مذہب کے بنیادی عقیدۂ امامت کو اسلام اور ختمِ نبوت کے عقیدے کو ختم کرنے کا سوفیصد طے شدہ پروگرام گرام کیوں کہا جاتا ہے؟

اس عنوان کے بارے میں ہم دیکھیں کہ شیعوں کے معتبر ترین کتابوں میں کیا کیا درج ہے، ان میں کس طرح نُبُوَّت والے تمام کام، مقصد، منصب اور اعزاز اماموں کے لیے ثابت کیے گئے ہیں.

(1) اصولِ کافی میں سَیِّدُنَا جعفر صادقؒ سے روایت ہے کہ:-

صفحہ 7 از 18