شِیعہ مذہَب میں امامَت کا عقیدہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شِیعہ مذہَب میں امامَت کا عقیدہ

  مولانا غلام محمد

صفحہ 8 از 18

"عن محمد بن مسلم قال سمعت ابا عبدالله علیه السلام یقول اَلائمة بمنزلة رسول اللّٰه صلی الله علیه واله الا انھم لیسوا بانبیاء ولا یحل لھم النساء فاما ماخلا ذالک فھم بمنزلة رسول اللہ صل الله علیه واله ۔"

(اصولِ کافی صفحہ 165-166)

ترجمہ: محمد بن مسلم سے روایت ہے کہ میں نے سَیِّدُنَا جعفر صادقؒ سے سنا کہ آپ نے فرمایا کہ آئمہ رسول اللّٰہﷺ جیسے ہیں لیکن وہ نبی نہیں کیونکہ اُن کے لیے اتنی عورتیں حلال نہیں جتنی نبیوں کے لیے حلال ہیں اس کے علاوہ باقی جتنے فضائل اور خصوصیات ہیں ان میں آئمہ رسول اللّٰہﷺ کے برابر ہیں (نعوذ باللہ)

(2) اُصولِ کافی میں سَیِّدُنَا جعفر صادقؒ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:-

"عن ابی عبدالله قال ما جاء به علی اخذ به و ما نھی عنه انتھی عنه جری له من الفضل مثل ما جری لمحمد و لمحمد الفضل علی جمیع من خلق اللہ عزوجل المتعقب علیه فی شیٔ من احکامه کالمتعقب علی الله و علی رسوله والرادّ علیه فی صغیرۃ و کبیرۃ على حد الشرک باللہ ------ و کذالک یجری لائمة الھدی واحد بعد واحد ۔"

(اصولِ کافی، صفحہ 117)

ترجمہ :- کہ جو احکام علی نے لائے ہیں اُن پر عمل کرتا ہوں اور جس چیز سے اس نے منع کیا ہے ایسا نہیں کرتا اُس سے احتراز کرتا ہوں اس (علی) کی فضیلت محمد جیسی ہے اور محمد کو اللہ کی تمام مخلوق پر فضیلت حاصل ہے اور اس کے کسی حکم پر اعتراض کرنے والا ایسا ہے جیسے اللہ اور اس کے رسول پر اعتراض کرنے والا، اُس (علی) کی چھوٹی یا بڑی بات کی تردید کرنے والا اللہ سے شرک کرنے والے کے برابر ہے اور اسی طرح تمام آئمہ کے لیے جو کہ ہدایت کے سرچشمہ ہیں، ایسی فضیلت ہے ایک کے بعد ایک کے لیے. یعنی بارہ اماموں میں سے ہر ایک کا رتبہ نبی کریمﷺ کے برابر ہے( نعوذ باللہ)

اس روایت میں ہے کہ سَیِّدُنَا علیؓ نے جو احکام لائے ہیں اُن پر عمل کرتا ہوں. اس کے بارے میں آپ کو بخوبی علم ہے کہ شیعوں کے بارہ کے بارہ تمام امام صاحبِ وحی اور صاحبِ کتاب ہیں اور ہر ایک کا رتبہ نبی کریمﷺ کے برابر ہے اب آپ ہی بتائیں یہاں پر ختمِ نبوت کا عقیدہ تو دُور کی بات ہے یہاں تو آپ کو اس عقیدۂ ختمِ نبوت کا کوئی دُھندلا سا تصوُّر بھی ملتا ہے؟

تو پھر کیا عقیدۂ ختمِ نبوت کے انکار کو دوسرے کسی قسم کے سُرخاب کے پَر لگے ہوتے ہیں کیا؟

ان روایات پر کیا تبصرہ کریں انگریز گورنمنٹ کا ایک ایجنٹ اَزلی بدبخت غلام احمد قادیانی (علیه ما عليه) نبوت کا دعویٰ کرتا ہے تو یہ اور اِس کے تمام پیروکار یقینی طور پر کافر اور مُرتَد ہوتے ہیں اور یہاں شیعہ مذہب کے مصنفین بارہ بُزُرگ ہستیوں کو تمام پیغمبروں سے اعلیٰ اور حضورﷺ کے برابر کہتے ہیں اور ان کی طرف روایات منسوب کر کے ان روایات پر اپنا مکمَّل علیحدہ دین تصنیف کرتے ہیں جس کی دین اسلام سے علیحدگی پہلی چیز یعنی کلمہ سے ہی شروع ہوتی ہے اور شیعیت کا اسلام کے ساتھ کہیں بھی اِتحاد نہیں ہے تو پھر شیعیت اسلام کیسے بنا اور اس میں ختمِ نبوت کا تصور کہاں سے آیا۔ بس ختمِ نبوت کے عقیدے کا زبانی دعویٰ شیعوں کا تقیہ ہے جس کے بارے میں خود یہ لوگ کہتے ہیں کہ حضرت علیؓ نے 24 برس تک تقیہ کیا اور خلفائے ثلاثہ رضی اللہ عنھم کی بیعت میں رہے اور اپنی خلافت اور حکومت کے دور میں بھی اپنا جمع کردہ قرآن پاک ظاہر نہ کر سکے۔

(3) شیعہ مُجتہِد و مُحَدِّث ملا باقر مجلسی کہتا ہے کہ:-

" مرتبہ امامت بالاتر از مرتبہ پیغمبر لیست"

ترجمہ: امامت کا درجہِ نبوت سے بالاتر ہے ۔

(حیاتُ القُلُوب جلد 3، صفحہ 2)

دوسری جگہ پر مجلسی صاحب فرماتے ہیں:-

"مرتبہ امامت نظیر مرتبہ نبوت و مثل آنست بلکہ چنانچہ نبوت رسالتی است از جانب خدا بوساطت ملک، امامت نیز فی الحقیقہ نبوتی است بوساطت نبی۔"

ترجمہ: کہ امامت نبوت کی طرح نہیں بلکہ حقیقت میں نبوت ہے، نبوت جبرائیل کے واسطے سے ہے اور امامت نبی کے واسطے سے ہے۔

(حیات القلوب جلد 3، صفحہ 81)

موجودہ دور کے مذہبی اور سیاسی رہنما خمینی صاحب نے اپنی تصنیف الحکومة الاسلامیة میں لکھا ہے کہ:-

فان للامام مقاما محمودا و درجة سامیة و خلافة تکوینیة تخضع لولایتھا و سیطرتھا جمیع ذرات ھذا الکون ۔

(الحکومۃ الاسلامیہ، صفحہ 82)

ترجمہ :-امام کو وہ مقامِ محمود اور وہ بلند مرتبہ اور ایسی تکوینی حکومت حاصل ہے جو کائنات کا ذرہ ذرہ اس کے حکم اور اقتدار کے آگے سر تسلیم خم کر کے تابع و فرمانبردار ہو کر کھڑا ہے۔

اور خمینی صاحب یہ بھی لکھتے ہیں کہ:

"وان من ضروریات مذھبنا ان لائمتنا مقاما لا یبلغه ملک مقرب ولا نبی مرسل"

(الحکومۃ الاسلامیہ، صفحہ 52)

ترجمہ :- ہمارے مذہب شیعہ( اثنا عشریہ) کے ضروری اور بنیادی عقائد میں سے یہ بھی عقیدہ ہے کہ ہمارے اماموں کو وہ مقام اور فضیلت حاصِل ہے جس تک کوئی مقرب فرشتہ یا نبی مرسل نہیں پہنچ سکتا.

مجلسی صاحب فرماتے ہیں کہ :-

"چوں قائم اٰل محمدﷺ بیرون آید خدا ادرا یاری کند بملائکہ و اول کسے با او بیعت کند محمد باشد و بعد ازان علی"

(حقُّ الیقین، صفحہ 347 )

ترجمہ :- جب قائم اٰل محمد (امام غائب زمان) باہر نکل آئے گا تو خدا فرشتوں کے ذریعے اس کی مدد کرے گا اور سب سے پہلے رسول اللّٰہﷺ اس کی بیعت کریں گے اور پھر علیؓ( نعوذ باللہ).

دیکھا آپ نے اماموں کا کیا رتبہ ہے اور بقول ملا باقر مجلسی کے حضورﷺ خود شیعوں کے مہدی کی بیعت کریں گے تو پھر عقیدۂ ختمِ نبوت کہاں باقی رہا ۔

اصولِ کافی میں قرآن مجید میں تحریف کے بارے میں کافی روایات ہیں بطورِ نمونہ ایک روایت پیش کی جاتی ہے :-

"عن عبدالله بن سنان عن ابی عبدالله علیه السلام فی قوله ولقد عھدنا الی آدم من قبل کلمات فی محمد وعلی و فاطمہ والحسن والحسین والائمة من ذریتھم فنسی ھکذا والله انزلت علی محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم-"

(اصولِ کافی ص 263)

صفحہ 8 از 18