شِیعہ مذہَب میں امامَت کا عقیدہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شِیعہ مذہَب میں امامَت کا عقیدہ

  مولانا غلام محمد

صفحہ 9 از 18

ترجمہ:-عبداللہ بن سنان روایت کرتا ہے کہ سَیِّدُنَا جعفر صادق نے اللّٰہ تعالیٰ کے فرمان (قرآن) کو اس طرح پڑھا اور اس سے پہلے ہم نے حکم دیا آدم کو چند احکام کا جو کہ محمدﷺ، علیؓ، فاطمہؓ ، حسنؓ، حسینؓ اور ان اماموں کے بارے میں تھے جو ان کی اولاد میں سے ہونے والے تھے پھر آدم علیہ السلام نے ان کو بھلا دیا اور مزید فرمایا کہ اللہ کی قسم یہ آیت اس طرح محمدﷺ پر نازل کی گئی تھی ۔

قرآن کی آیت کے الفاظ صرف یہ ہیں

"ولقد عھدنا الی آدم من قبل فنسی ولم نجد له عزما"(سورۃ طٰہ آیت 11)

لیکن شیعوں کے ہاں یہ آیت اتنی لمبی ہے کہ اس میں حضرت محمدﷺ،علیؓ فاطمہؓ، حسنؓ، حسینؓ اور ان کی اولاد میں سے پیدا ہونے والے آئمہ کے بارے میں احکامات کا اجمالی ذکر ہے ۔

قرآن پاک جو کہ نصیحت کے مضامین سمجھانے میں اتنا آسان ہے کہ ولقد یسرنا القرآن للذکر فھل من مُّدَّکر

اس کا ذکر قرآن کریم میں واضِح الفاظ سے آیا ہے کہ یعنی بے شک ہم نے قرآن مجید کو نصیحت حاصل کرنے والوں کے لیے (خاص اماموں کے لیے نہیں ) آسان کر دیا ہے پھر کیا کوئی غور کرنے اور نصیحت حاصل کرنے والا ہے؟ (القمر: آیت 17)

اس بارے میں شیعوں نے قرآن مجید پر زبردست وار کیا ہے چنانچہ انہوں نے کہا ہے کہ قرآن کے ظاہر اور باطن کے معنی اماموں کے علاوہ کوئی اور نہیں جانتا جیسا کہ اصولِ کافی میں سَیِّدُنَا باقرؒ کی طرف منسوب ایک روایت اِن الفاظ میں موجود ہے:-

عن ابی جعفر علیه السلام انه قال : ما يستطيع احد أن یدعی أن عندہ جمیع القرآن کله ظاھرہ و باطنه غیر الاوصیاء (اصولِ کافی، صفحہ 139)

ترجمہ  سَیِّدُنَا باقرؒ نے فرمایا کہ کسی کو بھی یہ طاقت نہیں کہ جو یہ دعوی کرے کہ اس کے پاس قران کے ظاہر اور باطن کا پورا علم ہے سوائے اماموں کے۔

شیعہ مذہب کے مصنفین کا یہ کہنا ہے کہ قرآن کے ظاہر اور باطن کا علم سوائے اماموں کے اور کسی کو نہیں ہے اس سے ان کا مقصدِ وحید یہ ہے کہ یہ لوگ اماموں کے نام سے بنائی گئی روایات کی بنیاد پر پورے دینِ اسلام کی تحریف کریں اور انہوں نے ایسا ہی کیا۔ چنانچہ

1- اماموں کے نام سے روایتیں بنا کر ان لوگوں نے قرآن مجید میں تحریف کی ہے۔

2- موجودہ قرآن شیعوں کے مُتَّفق علیہ عقیدہ کے مطابق تحریف شدہ ہے اس میں اُنہوں نے اماموں کے ناموں سے خود بنائی ہوئی روایات کی مدد سے اپنی مرضی سے قرآن مجید کی معنوی تحریف کی ہے اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے ثبوت کے لیے باب دوم دیکھیں۔

3- رسول اللّٰہﷺ کی حدیث کو غیر معتبر اور ناقابلِ اعتماد بنا کر انہوں نے اماموں کے ناموں سے تراشی ہوئی روایات کو حدیثِ رسولﷺ کا درجہ دے کر حضورﷺ کی احادیث کے خال کو پُر کیا ہے ۔

اس وضاحت سے معلوم ہوا کہ شیعہ مذہب کی ہر بات نرالی ہے. اس کا اسلام سے دور کا واسطہ نہیں ہے تو پھر شیعیت کو اسلام کا حصہ کیوں کہا جاتا ہے اور شیعہ سنی بھائی بھائی اور اِتّحاد بین المسلِمِین کے نعرے کیوں لگاۓ جاتے ہیں؟

4- اصولِ کافی میں سَیِّدُنَا جعفر صادقؒ سے روایت ہے کہ:-

"عن یونس ابو الفضل عن ابی عبدالله علیه السلام قال ما من لیلة جمعة الا ولاولیاء الله فیھا سرور. قلت كيف ذٰلك جُعلت فداك قال اذا کان لیلة الجمعة وافٰی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم العرش و وافی الآئمة و وافیتُ معھم فما ارجع الا بعلم مستفاد ولولا ذلك لنفد ما عندی" (اصولِ کافی، صفحہ 156)

یونس ابو الفضل کہتا ہے کہ سَیِّدُنَا جعفر صادق نے فرمایا کہ جمعہ کی رات میں اولیاء کو سرور حاصل ہوتا ہے، میں نے پوچھا وہ کیسے؟ آپؒ نے فرمایا کہ جب جمعہ کی رات آتی ہے کہ تو رسولﷲﷺ عرش الہی تک پہنچتے ہیں اور آئمہ بھی اور میں بھی ان کے ساتھ ہوتا ہوں اور علم حاصل کر کے واپس آتا ہوں اگر ایسا نہ ہوتا تو میرے پاس جو کچھ علم ہے وہ ختم ہو چکا ہوتا.

قرآن کریم کی سورت الرعد میں ہے:-"اللّٰہ جو کچھ چاہتا ہے وہ مٹا دیتا ہے اور جو چاہتا ہے وہ باقی رکھتا ہے اور اس کے پاس ہی اصل کتاب (لوح محفوظ ) ہے-" اصولِ کافی بابُ البداء میں سَیِّدُنَا جعفر صادقؒ سے روایت ہے کہ آپ نے قرآن مجید کی اس آیت کی تشریح میں فرمایا کہ :-

"وھل یمحی الا ما کان ثابتًا وھل یثبت الا ما لم یکن" ( اصولِ کافی، صفحہ 75)

وہی چیز مٹائی اور محو کی جاتی ہے جو پہلے موجود تھی اور وہی شے ثابت کی جاتی ہے اور باقی رکھی جاتی ہے جو پہلے( لکھی ہوئی) نہیں تھی-

اصولِ کافی کے شیعہ شارح علامہ قزوینی نے اس روایت کی یوں تشریح کی ہے:-

" براۓ ہر سال کتاب علٰحیدہ است ،مراد کتاب است کہ دران تفسیر احکام حوادث کہ محتاج الیہ امام است تا سال دیگر نازل شوند بہ آن کتاب ملائکہ و روح در شب قدر برامام زمان"۔

(الصافی شرح اصولِ کافی جلد 2 ،صفحہ 229)

ترجمہ :- ہر سال کے لیے ایک علٰیحدہ کتاب ہوتی ہے اس سے مراد وہ کتاب ہے جس میں اُن احکامات اور حوادث کی تفصیل ہوتی ہے جن کی وقت کے امام کو آنے والے سال تک ضرورت ہوتی ہے اس کتاب کو ملائکہ اور الروح شبِ قدر میں نازل کر کے وقت کے امام کے پاس لاتے ہیں۔

5- اصول کافی کے "باب فی شأن إنا انزلناہ فی لیلة القدر" میں سَیِّدُنَا باقرؒ سے ایک روایت نقل کی گئی ہے جس میں وہ فرماتے ہیں کہ:-

لقد قُضی أن یکون فی کل سنة لیلة یھبط فیھا بتغیر الامور الی مثلھا من السنة المقبلة

(اصولِ کافی صفحہ 153 )

ترجمہ :- بے شک اس بات کا فیصلہ کیا گیا ہے کہ ہر سال میں ایک رات ایسی ہوگی جس میں آنے والے سال کی اس رات تک (وقت کے امام پر) تمام معاملات کی وضاحت اور تفصیل نازل کی جائے گی۔

6- اصولِ کافی میں سَیِّدُنَا جعفر صادقؒ سے روایت ہے کہ:-

عن ابی عبدالله علیه السلام قال إن الامامة عھد من الله عزوجل معھود لرجال مسمّین ۔

(اصولِ کافی، صفحہ 160)

ترجمہ :-سَیِّدُنَا جعفر صادقؒ نے فرمایا کہ امامت (نبوت کی طرح) اللہ تعالی کی طرف سے ایک عہدہ ہے جس پر اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے (نبیوں کی طرح) اماموں کو ان کے نام سے نامزد کیا گیا ہے۔

7 - اصولِ کافی میں سَیِّدُنَا علی بن موسیٰ رضا سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ :

فھو معصوم مؤید موفق مسدد قد امن من الخطاء والزلل و العثار یخصه الله بذلک لیکون حجة علی عبادہ و شاھدہ علی خلقه

صفحہ 9 از 18