حضرت عمر نے حد زنا میں سو شاخ مارنے کا حکم دیا (حالانکہ حدیث میں سو دُرے مارنے کا حکم ہے)
زینب بخاریحضرت عمر نے حد زنا میں سو شاخ مارنے کا حکم دیا (حالانکہ حدیث میں سو دُرے مارنے کا حکم ہے)
جواب اہلسنّت
یہ جھوٹ اور افتراء ہے، حضرت عمرؓ سے کوئی ایسا واقعہ ثابت نہیں، بالفرض اگر صحیح ہو تو جسے ماری وہ صحت مند تھا، اسے صحیح اور مضبوط شاخ سے مارا یہ سنت رسول اللہﷺ کے عین مطابق ہے.
انسؓ سے مروی ھے، نبیﷺ نے شراب کی سزا میں کھجور کی چھڑی سے اور جوتے مارئے اور ابوبکرؓ نے چالیس مارے.
(بخاری و مسلم)
صحيح البخاری ج 2ص 1002 باب الضرب باالجرید والنعاں من کتاب الحود صحيح مسلم ج 2 ص 71 باب حد الخمر کتاب الحدود.)
اس حدیث کے مطابق صد شاخ دروں کے بجائے ماریں، کیونکہ وہ محدود غیر محصن تھا. ہو سکتا ہے وہ شخص ناقص الأعضاء اور بیمار ھو اور صد شاخ سے مراد کھجور کے خوشے کے شمراخ ہوں ، تو یہ بھی سنت رسول سے ماخوذ ہے.
سعد بن عبادۃؓ نبی ﷺ کے پاس ایک شخص کمزور خلقت اور بیمار کو لائے کہ، یہ ایک لونڈی کے ساتھ بدفعلی کرتے ہوئے پایا گیا ھے، نبیﷺ نے فرمایا ایک خوشہ لے لو جس میں ایک سو شمراخ ھوں، اور وہ اسے ایک مار دو.
(مشکوۃ المصابیح ص 312 کتاب الحدود وابن ماجہ ص 188 باب الکبیرد المریض یجب علیہ الحد)
ہیہ بھی ہو سکتا ھے، حضرت عمرؓ نے سو شاخ حد خمر میں ماری ہوں، جس وقت شراب کی حد متعین نہیں ہوئی تھی (زنا میں سو شاخ مارنیوالی بات غلط محض ھے)