یہ چال چھوڑ دو
علی محمد الصلابیایک آدمی ہاتھوں کو ہلاتے ہوئے اور پاؤں کو پٹختے ہوئے متکبرانہ چال میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا حضرت عمرؓ نے اس سے کہا: یہ چال چھوڑ دو، اس نے کہا: میں ایسا نہیں کر پاؤں گا۔ آپؓ نے اسے کوڑے لگائے، لیکن اس نے پھر غرور و تکبر کا مظاہرہ کیا۔ آپؓ نے اسے پھر کوڑے لگائے، اس بار اس نے متکبرانہ چال چھوڑ دی۔ اس موقع پر حضرت عمرؓ نے فرمایا: اگر اس قسم کی حرکتوں پر میں کوڑے نہیں ماروں گا تو اور کس چیز پر ماروں گا؟ کچھ دنوں بعد وہ آدمی آپؓ کے پاس آیا اور کہا: ’’جَزَاکَ اللّٰہُ خَیْرًا‘‘ اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔ اس وقت شیطان ہی تھا جس نے مجھے گمراہ کیا تھا اللہ تعالیٰ نے آپؓ کے ذریعہ سے اسے مجھ سے بھگا دیا۔
(أخبار عمر: صفحہ 175)