Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

شیعہ امام کی اقتداء میں نماز پڑھنے کا حکم


سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ شیعہ امام کی اقتداء میں نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب: جو آدمی سیدنا علیؓ کی اُلوہیت کا قائل ہو یا صدیقِ اکبرؓ کی صحابیت کا منکر ہو یا قرآن مجید کے بارے میں کمی کا عقیدہ رکھتا ہو یا سیدہ عائشہؓ پر تہمت لگاتا ہو تو ایسا شخص خواہ جس فرقہ سے تعلق رکھتا ہو داںٔرہ اسلام سے خارج ہے۔ اس لئے کہ ان تمام باتوں سے قرآن کریم پر انکار لازم آتا ہے، نیز یہ تمام باتیں دین اسلام کی بنیادی اصول سے انحراف کر مستلزم ہیں۔لہٰذا ایسے شخص کی اقتداء میں نماز نہیں ہوتی۔ البتہ جس کا عقیدہ صرف سیدنا علیؓ کی افضلیت کا ہو یعنی سیدنا علیؓ کو شیخینؓ پر فضیلت دے تو اس کی اقتداء میں نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے۔اگر کوئ اور امام نہ ہو تو تفضیلی کی اقتداء میں نماز جاںٔز ہوگی کراہت کے ساتھ۔

لسافی الشامیة:ولا شک فی تکفیر من قذف السیدۃ عاںٔشةؓ او انکر صحبة الصدیقؓ او اعتقد الالوھیة فی علیؓ او ان جبریل علیه السلام غلط فی الوحی او نحو ذلک من الکفر الصریح المخالف للقرآن: ونقل فی الھزازیةعن الخلاصیة:ان الرافضی اذا کان یسبّ الشیخینؓ ویلعنھما فھو کافر وان کان یفضل علیاً علیھما فھو مبتدع:وفی الھندیة: تجوز الصلوۃ صاحب ھوی و بدعة ولا تجوز خلف الرافضی والجھیمی والقدری والمشبھة ومن یقول بخلق القرآن وحاصله ان کان ھوی لایکفر به حاحبه تجوز الصلاۃ خلفه مع الکراھة والآفلا۔۔۔وھوالصحیح۔۔۔ولو صلی خلف مبتدع فاسق فھو محرز ثواب الجماعة

(فتاویٰ عباد الرحمٰن: جلد 2، صفحہ 186)