Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

رعایا کی صحت و تندرستی پر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خصوصی توجہ

  علی محمد الصلابی

خلیفہ راشد عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے رعایا کی صحت و تندرستی پر خصوصی توجہ کی، آپ لوگوں کو موٹاپے کے نقصانات اور اس کی ہلاکت خیزیوں سے آگاہ کرتے تھے، انہیں جسمانی تخفیف پر ابھارتے تھے۔ کیونکہ بدن ہلکا ہونے کی صورت میں واجبات کی ادائیگی پر قدرت اور دیگر کاموں میں قوت و نشاط ہوتی ہے۔ چنانچہ آپؓ کہا کرتے تھے: ’’اے لوگو! اپنے آپ کو توند والا ہونے سے بچاؤ، کیونکہ وہ نماز میں سستی، جسم کی خرابی اور طرح طرح کی بیماریوں کا سبب ہے۔ اللہ تعالیٰ توند والے مذہبی رہنما کو پسند نہیں کرتا، تم اپنی طاقت کے حد اعتدال میں رہو یہ بھلائی سے بہت قریب، بے اعتدالی سے بہت دور اور عبادت الہٰی کے لیے بڑی قوت کا سبب ہے، کوئی بندہ اس وقت تک ہرگز گمراہ نہیں ہو سکتا جب تک کہ اپنی شہوت کو اپنے دین پر ترجیح نہ دے دے۔ 

(الخلیفہ الفاروق: دیکھئے عبدالرحمن العانی: صفحہ 124)

ابنِ جوزی لکھتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے ایک توند والے آدمی کو دیکھا، تو پوچھا: یہ کیا ہے؟ اس نے کہا: بس یہ اللہ کی برکت ہے۔ آپؓ نے فرمایا: برکت نہیں، یہ اللہ کی طرف سے عذاب ہے۔ 

(مناقب عمر أمیر المومنین: صفحہ 200)

جہاں تک عام شہریوں کی صحت پر آپؓ کی خصوصی توجہ کی بات ہے تو اس سلسلے میں آپؓ کا طریقہ یہ تھا کہ جس شخص کو کوئی متعدی بیماری ہوتی اسے بیماری پھیلنے کے خوف سے دوسروں سے ملنے جلنے سے روکتے تھے، اسے مائل بہ صحت ہونے تک اپنے گھر میں ہی رہنے کی نصیحت کرتے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ آپ کا گزر ایک ایسی عورت کے پاس سے ہوا جسے جذام (کوڑھ) کی بیماری تھی، وہ خانہ کعبہ کا طواف کر رہی تھی۔ آپ نے اس سے کہا: اے اللہ کی باندی! بہتر ہوتا کہ تم اپنے گھر ہی میں رہتیں، اور لوگوں کو تکلیف نہ پہنچاتیں۔ چنانچہ وہ گھر چلی گئی، کچھ ہی دنوں بعد اس کے پاس سے ایک آدمی گزرا تو کہا: جنہوں نے تم کو گھر سے نکلنے سے روکا تھا ان کی وفات ہو گئی، اب تو نکلو۔ اس نے جواب دیا: میں ایسی نہیں ہوں کہ جب وہ باحیات ہوں تو فرماں برداری کروں اور جب وفات پا جائیں تو ان کی نافرمانی کروں۔ 

(الخلیفۃ فاروق: صفحہ 124، بحوالۂ الریاض النضرۃ )

اسی طرح آپؓ لوگوں کو ورزش کرنے، گھڑ سواری اور گھوڑا دوڑانے کی تاکید کرتے تھے اور کہتے تھے: اپنی اولادوں کو تیراکی اور تیر اندازی سکھاؤ، اور انہیں حکم دو کہ وہ گھوڑوں سے گھوڑوں پر کودنا سیکھیں، اور انہیں بہترین اشعار یاد کراؤ۔ 

(الخلیفۃ فاروق: صفحہ 125)