Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

ایک شرابی کو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی نصیحت

  علی محمد الصلابی

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ شام کے ایک بہادر آدمی کو تلاش کیا اور اسے نہیں پایا، آپؓ کو بتایا گیا کہ وہ شراب کا عادی ہو گیا ہے۔ آپؓ نے اپنے کاتب سے کہا: لکھو:

’’حضرت عمر بن خطابؓ کی طرف سے فلاں کے نام!تم پر سلامتی نازل ہو، میں تمہارے متعلق اللہ کا شکر گزار ہوں جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ 

حٰمٓ‌ ۞ تَنۡزِيۡلُ الۡكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الۡعَزِيۡزِ الۡعَلِيۡمِ ۞ غَافِرِ الذَّنۡبِ وَقَابِلِ التَّوۡبِ شَدِيۡدِ الۡعِقَابِ ذِى الطَّوۡلِ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ اِلَيۡهِ الۡمَصِيۡرُ ۞(سورۃ غافر: آیت 1، 2، 3)

ترجمہ: ’’حٓمٓ۔اس کتاب کا اتارنا اللہ کی طرف سے ہے، جو سب پر غالب ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ گناہ بخشنے والا اور توبہ قبول کرنے والا بہت سخت سزا والا، بڑے فضل والا، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ ‘‘

پھر آپؓ نے خط لکھوانا بند کر دیا اور اپنے قاصد سے کہا: تم اس آدمی کو یہ خط ایسی حالت میں دینا جب کہ وہ مکمل ہوش میں ہو، پھر جو لوگ آپ کے ساتھ تھے ان سے کہا کہ اس آدمی کے لیے دعا کرو کہ اسے توبہ کی توفیق مل جائے۔ چنانچہ جب اس آدمی کے پاس خط پہنچا تو وہ اسے پڑھتا اور کہتا: میرے رب نے مجھ سے میری بخشش کا وعدہ کیا ہے، اور اپنی سزا سے مجھے ڈرایا ہے۔ یہ کہہ کر بار بار اسے دہراتا رہا، یہاں تک کہ رونے لگا۔ پھر شراب نوشی چھوڑ دی اور اچھی طرح چھوڑی۔ اس کی توبہ اچھی رہی۔ جب حضرت عمرؓ کو اس کی خبر ملی تو فرمایا: اسی طرح کیا کرو، جب تم دیکھو کہ تم میں سے کوئی بھٹک گیا تو اسے سیدھے راستے پر لانے کی کوشش کرو اور اس کے لیے دعا کرو اور اس کے خلاف شیطان کے مددگار نہ بن جاؤ۔ 

(تفسیر القرطبی: جلد 15 صفحہ 256)

اس واقعہ سے نفس کی تربیت، لوگوں کی طبیعت شناسی اور درستی کے وسائل و طریقہ کار کے بارے میں سیدنا عمرؓ کی ظرف نگاہی بالکل صاف نظر آ رہی ہے۔ تاہم یہ ممکن ہے کہ جو چیز کسی کے لیے مفید ہو وہ دوسرے کے لیے نقصان دہ ثابت ہو جائے۔ لہٰذا یہ فاروقی مؤقف کامیاب تربیت کے اسباق میں سے ایک اہم سبق اور اصلاح و رہنمائی کا ایک مثالی اسلوب ہے یہ امیر المؤمنین ہیں کہ اپنی بے پناہ مشغولیات اور بے شمار ذمہ داریوں کے باوجود اپنی مجلس میں آنے والے ایک عام فرد کو غائب دیکھتے ہیں تو آپؓ اسے نظر انداز نہیں کرتے بلکہ اس کے بارے میں دریافت کرتے ہیں۔ تاکہ اس کا علاج کرایا جائے اور وہ صحت مند ہو جائے جب کہ آج کے دور میں حقیقی بھائی غائب ہوتا ہے اور دوسرے کو اس کی غیر حاضری کا احساس تک نہیں ہوتا اگر احساس ہوتا ہے تو وہ غائب ہونے کی وجہ نہیں پوچھتا۔ اگر اسے علاج کی ضرورت پڑ جائے تو اس کے لیے بھاگ دوڑ نہیں کرتا۔ درحقیقت یہ بے توجہی اسلامی اخوت کو ڈھا دینے کا ایک طرزِ عمل ہے، جو مسلمان اخوت و بھائی چارگی کو پہچانتے ہیں ان کا یہ طریقہ کبھی نہیں رہا، پس کیا کوئی ہے جو اس پر توجہ دے؟ شاید اور ممکن ہے کہ!

 (شہید المحراب: صفحہ 208)