مخصوص مجالس کے بارے میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی رائے
علی محمد الصلابیاجتماعات سے متعلق سیّدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ یہ چاہتے تھے کہ لوگوں کی مجالس عام ہوں تاکہ اس میں ہر طبقہ کے لوگ شامل ہو سکیں۔ آپ چند مخصوص لوگوں پر محدود مجالس کو ناپسند کرتے تھے۔ کیونکہ ایسی صورت میں ان کی رائے عام لوگوں سے الگ ہو جاتی ہے۔ جس کا نتیجہ تفریق اور مخالف پارٹیوں کا وجود ہے۔
(الخلفاء الراشدون: حسن أیوب: صفحہ 115)
ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت عمرؓ نے قریش کے کچھ لوگوں سے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ آپؓ لوگ مخصوص افراد کو لے کر مجلس منعقد کرتے ہیں، وہ صرف دو آدمیوں کی مجلس نہ ہو کہ کہا جانے لگے: یہ فلاں کے خاص لوگوں اور دوستوں میں سے ہیں اور پھر مجالس کا دائرہ تنگ کر دیا جائے۔ اللہ کی قسم! تمہارا یہ عمل تمہارے دین، تمہاری شرافت اور تمہارے آپس کے تعلقات کو بہت تیزی سے ختم کر دینے والا ہے اور مجھے خوف ہے کہ تمہارے بعد آئندہ نسلیں کہیں یہ نہ کہیں کہ فلاں کی رائے یہ تھی اور فلاں کا خیال یہ تھا۔ انہوں نے اسلام کو ٹکڑوں میں بانٹ دیا، لہٰذا اپنی مجالس کو وسعت دو اور سب کے ساتھ اٹھو بیٹھو، اس سے آپس میں محبت پیدا ہو گی اور دشمن پر رعب غالب رہے گا۔
(فرائد الکلام: صفحہ 116، تاریخ الطبری: جلد 3 صفحہ 281 )
سچ بات تو یہ ہے کہ خواص کی عوام سے دوری اور اپنے مخصوص رفقاء وہم نشینوں تک اپنی مجالس محدود کر دینے کی وجہ سے وہ لوگ عوام سے جس تربیت و اطاعت کی امیدیں رکھتے ہیں وہ عنقاء ہو جاتی ہیں۔ حالانکہ سب کے باہم مل بیٹھنے سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ان کی باتیں ردّ و بدل سے محفوظ رہتی ہیں اور حقیقی شکل میں لوگوں تک پہنچتی ہیں اور پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مجالس کی کثرت پیش آمدہ مسائل میں کثرت اختلاف کا سبب بھی ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں دین میں مختلف اقوال سامنے آتے ہیں اور یہی وہ چیز ہے جس کا اندیشہ حضرت عمرؓ کو اپنے زمانے کے لوگوں اور آئندہ نسلوں سے تھا۔
(الخلفاء الراشدون: حسن ایوب: صفحہ 115 )