Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

فاروقی نظام احتساب یعنی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر

  علی محمد الصلابی

اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مہاجرین صحابہؓ کے بارے میں بتایا کہ جب اللہ تعالیٰ انہیں زمین پر غلبہ عطا فرما دے گا تو وہ چار کام کریں گے، اقامت نماز، ادائیگی زکوٰۃ، بھلائی کا حکم اور برائی پر پابندی۔ چنانچہ ارشادِ الہٰی ہے:

الَّذِيۡنَ اُخۡرِجُوۡا مِنۡ دِيَارِهِمۡ بِغَيۡرِ حَقٍّ اِلَّاۤ اَنۡ يَّقُوۡلُوۡا رَبُّنَا اللّٰهُ‌ وَلَوۡلَا دَ فۡعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعۡضَهُمۡ بِبَـعۡضٍ لَّهُدِّمَتۡ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَّصَلَوٰتٌ وَّمَسٰجِدُ يُذۡكَرُ فِيۡهَا اسۡمُ اللّٰهِ كَثِيۡرًا‌ وَلَيَنۡصُرَنَّ اللّٰهُ مَنۡ يَّنۡصُرُهٗ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِىٌّ عَزِيۡزٌ۞ 

اَلَّذِيۡنَ اِنۡ مَّكَّنّٰهُمۡ فِى الۡاَرۡضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ وَاَمَرُوۡا بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَنَهَوۡا عَنِ الۡمُنۡكَرِ‌ وَلِلّٰهِ عَاقِبَةُ الۡاُمُوۡرِ ۞(سورۃ الحج: آیت 40، 41)

ترجمہ’’وہ جنھیں ان کے گھروں سے کسی حق کے بغیر نکالا گیا، صرف اس وجہ سے کہ وہ کہتے ہیں ہمارا رب اللہ ہے اور اگر اللہ کا لوگوں کو ان کے بعض کو بعض کے ذریعہ ہٹانا نہ ہوتا تو ضرور ڈھا دیے جاتے (راہبوں کے) جھونپڑے اور (عیسائیوں کے) گرجے اور (یہودیوں کے) عبادت خانے اور (مسلمانوں کی) مسجدیں، جن میں اللہ کا ذکر بہت زیادہ کیا جاتا ہے اور یقیناً اللہ ضرور اس کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کرے گا، بے شک اللہ یقیناً بہت قوت والا سب پر غالب ہے۔وہ لوگ کہ اگر ہم انھیں زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے اور زکوٰۃ دیں گے اور اچھے کام کا حکم دیں گے اور برے کام سے روکیں گے، اور تمام کاموں کا انجام اللہ ہی کے قبضہ میں ہے۔‘‘

امام ابوبکر جصاص اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ’’یہ مہاجرین کی صفات ہیں، اس لیے کہ وہی لوگ اپنے گھروں سے ناحق نکالے گئے، تو اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ اگر انہیں زمین میں قوت و غلبہ ملا تو نماز قائم کریں گے، زکوٰۃ دیں گے، اچھے کاموں کا حکم دیں گے اور برائی سے روکیں گے اور جب خلفائے راشدین ابوبکر، عمر، عثمان اور علی رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اللہ نے زمین میں قوت و غلبہ سے سرفراز کیا تو ان کا یہی شیوہ تھا۔‘‘ 

(أحکام القرآن: جلد 3 صفحہ 246 )

تاریخ گواہ ہے اور زبان خلق بھی شاہد ہے کہ سیدنا عمر فاروقؓ نے ان کاموں کو بحسن و خوبی انجام دیا۔ (الحسبۃ فی العصر الراشدی: دیکھئے فضل إلہیٰ: صفحہ 15) مالی نظام، محکمہ قضاء، فوجی نظام اور عمال و امراء سے متعلق امور کے متعدد شعبہ جات جیسے ملکی اداروں کی حفاظت و ترقی پر آپؓ نے خصوصی توجہ دی اور منصب خلافت پر بحیثیت خلیفۃ المسلمین نیز اسلامی سلطنت میں مسلم ریاستوں کے توسط سے آپ نے اس بات کی پوری کوشش کی کہ لوگوں سے اللہ تعالیٰ اور اس کے نبی کریمﷺ کے احکامات کی پابندی کرائیں اور جن کاموں سے اللہ اور اس کے رسول نے منع کیا ہے ان سے لوگوں کو دور رکھیں۔ علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’ہر اسلامی ریاست کا اوّلین مقصد ہے اچھے کاموں کا حکم دینا اور برائی سے روکنا۔ ‘‘

(الحسبۃ فی الإسلام: صفحہ: 6، السلطۃ التنفیذیۃ: جلد 1 صفحہ 309)

سیدنا عمر فاروقؓ بدعات وضلالت سے لڑتے رہے، توحید کی مکمل پاسبانی کرتے رہے اور اسلامی معاشرہ میں عبادات کو رائج کرتے رہے، آپؓ نے برائی کے خلاف اعلانِ جنگ کیا اور اچھے کاموں کے لیے ہمت افزائی کی۔