دلیل القرآن: صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین المهتدون (ہدایت یافتہ)
نقیہ کاظمیدلیلِ القرآن: صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین الْمُهْتَدُونَ (ہدایت یافتہ)
وَلَـنَبۡلُوَنَّكُمۡ بِشَىۡءٍ مِّنَ الۡخَـوۡفِ وَالۡجُـوۡعِ وَنَقۡصٍ مِّنَ الۡاَمۡوَالِ وَالۡاَنۡفُسِ وَالثَّمَرٰتِ وَبَشِّرِ الصّٰبِرِيۡنَ۞
(سورۃ البقرہ: آیت، 155)
ترجمہ: اور ہم کسی نہ کسی طرح تمہاری آزمائش ضرور کریں گے، دشمن کے ڈر سے، بھوک پیاس سے، مال و جان اور پھلوں کی کمی سے اور ان صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجئے۔
الَّذِيۡنَ اِذَآ اَصَابَتۡهُمۡ مُّصِيۡبَةٌ قَالُوۡٓا اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّـآ اِلَيۡهِ رٰجِعُوۡنَ۞
(سورۃ البقرہ: آیت، 156)
ترجمہ: جنہیں جب کوئی مصیبت آتی ہے تو کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم تو خود اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔
اُولٰٓئِكَ عَلَيۡهِمۡ صَلَوٰتٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَرَحۡمَةٌ وَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡمُهۡتَدُوۡنَ۞
(سورۃ البقرہ: آیت، 157)
ترجمہ: ان پر ان کے رب کی نوازشیں اور رحمتیں ہیں اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔
اُولٰٓئِكَ عَلَيۡهِمۡ صَلَوٰتٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَرَحۡمَةٌ وَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡمُهۡتَدُوۡنَ۞
(سورۃ البقرہ: آیت، 157)
ترجمہ: یہ وہ لوگ ہیں جن پر ان کے پروردگار کی طرف سے خصوصی عنایتیں ہیں، اور رحمت ہے اور یہی لوگ ہیں جو ہدایت پر ہیں۔
تشریح: مصائب پر صبر کرنے والوں اور بلاؤں پر استرجاع فرمانے والوں کی بڑی شان ہے اور یہی لوگ ہیں جن پر بار بار مسلسل بہ کثرت درود مخصوص رحمت ورافت اور تحسین و آفرین ہے ان کے پروردگار کی طرف سے اور رحمت خاص لطف و احسان ہے اور یہی وہ خوش بخت اور سعادت مند لوگ ہیں جو ہیں ہدایت یافتہ۔
ان نیک بختوں کو صبر و شکر کے بدلے میں صلوٰۃ و رحمت کی شکل میں کیا ہی اچھا بدلہ عطا فرمایا گیا اور اس پر مستزادیہ کہ ان کے ہدایت یافتہ ہونے کی سند بھی عطا فرما دی۔
اب اگر ایک طرف یہ درود کی شکل میں آخرت کی جمیع برکات و عنایات ان کیلئے ہیں، تو دوسری طرف مخصوص رحمت کی صورت میں دنیا کے نقصانات سے حفاظت بھی ان کے لیے ہے۔
ایمان والوں پر اللہ تعالیٰ کس قدر کرم پر کرم فرماتا جا رہا ہے کہ تحویلِ قبلہ کے تعلق سے مخالفین کے طعن و تشنیع سے مسلمانوں کو اذیت پہنچی تھی صبر کی ہدایت دے کر اور اس کے ثمرات کو بیان فرما کے ساری تکلیفوں کو راحت سے بدل دیا اور پھر حج و عمرہ کا ذکر شروع فرما دیا تا کہ کعبہ کو اپنی نمازوں میں قبلہ بنانے والے حج و عمرہ کے وسیلے سے کعبہ کی زیارت کا شرف بھی حاصل کرلیں۔ ویسے بھی صبر میں نفس کو مشقت اٹھانی پڑتی ہے اور حج و عمرہ میں بھی جسم کو مشقت جھیلنی پڑتی ہے۔