Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

دریائے نیل کی دلہن

  علی محمد الصلابی

حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس مصریوں کی ایک جاہلانہ رسم کی اطلاع بھیجی، وہ یہ کہ مصری لوگ ہر سال دریائے نیل کو ایک بچی کی قربانی دیتے ہیں اور مجھ سے کہتے ہیں کہ اے امیر دریائے نیل کا یہی طریقہ ہے، یہ اس عمل کے بغیر نہیں بہے گا۔ عمرو بن عاص نے ان سے پوچھا: اس کی کیا شکل ہے؟ انہوں نے بتایا کہ جب اس مہینہ کے پورا ہونے میں بارہ 12 دن باقی رہ جاتے ہیں تو ہم ایک کنواری بچی کو اس کے والدین سے مانگتے ہیں اور اس کے والدین کو راضی کر لیتے ہیں، پھر اس بچی کو بہتر سے بہتر زیور اور کپڑے پہناتے ہیں اور اسے لا کر اس دریا میں ڈال دیتے ہیں۔ حضرت عمرؓ نے کہا: یہ تو ایسا کام ہے کہ اسلام میں اس کی اجازت نہیں مل سکتی، اسلام تو اپنے سے پہلے کے غلط عقائد کو مٹا دیتا ہے، چنانچہ کچھ سالوں تک ان لوگوں نے وہ کام نہیں کیا تو نیل کا بہاؤ بھی رک گیا اور پانی اپنی جگہ پر بالکل ٹھہر گیا، ان لوگوں نے پھر وہی عمل دہرانا چاہا۔ تو حضرت عمرو بن عاصؓ نے حضرت عمر بن خطابؓ کے پاس اس سلسلہ میں خط لکھا، حضرت عمر بن خطابؓ نے اس کا جواب یہ دیا کہ تم نے جو کیا ہے وہ صحیح ہے، میں اپنے اس خط کے لفافے کے ساتھ کاغذ کا ایک ٹکڑا بھیج رہا ہوں، اسے تم دریائے نیل میں ڈال دینا۔ جب حضرت عمرؓ کا خط پہنچا تو حضرت عمروؓ نے اس ٹکڑے کو پڑھنا شروع کیا، اس میں تحریر تھا:

’’اللہ کے بندے عمر امیر المؤمنین کی طرف سے مصریوں کے دریائے نیل کے نام!

حمد وصلاۃ کے بعد! اگر تو آج سے پہلے اپنی مرضی اور اپنے اختیار سے بہتا تھا تو مت رواں ہو، ہمیں تیری کوئی ضرورت نہیں ہے اور اگر تو اللہ واحد وقہار کی مرضی اور اس کے حکم سے بہتا تھا اور حقیقت میں وہی تجھ کو رواں کرتا ہے تو ہم اللہ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ تجھے رواں کر دے۔‘‘

حضرت عمرو بن عاصؓ کا بیان ہے کہ وہ ٹکڑا دریائے نیل میں ڈال دیا گیا اور جب ہفتے کی صبح لوگ وہاں پہنچے تو دیکھا کہ ایک ہی رات میں اللہ نے دریائے نیل میں چھ ہاتھ پانی اوپر کر دیا ہے، اسی وقت سے اللہ نے مصریوں کی اس بری رسم و رواج کو آج تک کے لیے مٹا دیا۔ 

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 102، 103۔علی طنطاوی کا کہنا ہے کہ اس واقعہ کی شہرت کی وجہ سے ہم اسے بیان کرتے ہیں ورنہ ہمیں اس کی صحت کا علم نہیں ۔ یہ روایت ضعیف ہے، ثابت نہیں ہے۔ مترجم)

آپ دیکھ رہے ہیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس ٹکڑے میں توحید کا خلاصہ کر دیا تھا، وہ یہ کہ دریائے نیل صرف اللہ کی قدرت و مشیت سے بہتا اور رواں ہوتا ہے اور لوگوں کے دل و دماغ میں بیٹھے ہوئے فاسد عقیدہ کی خرابیوں اور شبہات کو دور کر دیا۔ آپ کے اس حکیمانہ اسلوب دعوت نے مصریوں کے دلوں سے اس عقیدہ کو مٹا دیا۔ 

(فن الحکم: صفحہ 347)