بیعت رضوان والے درخت کو کاٹنا
علی محمد الصلابیابنِ سعد صحیح سند کے ساتھ نافع سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو خبر ملی کہ کچھ لوگ اس درخت کے پاس آتے ہیں جس کے نیچے بیعت رضوان ہوئی تھی اور اس کے پاس نماز پڑھتے ہیں، آپؓ نے ان کی گرفت کی اور آئندہ کے لیے متنبہ کیا، اور درخت کو کاٹنے کا حکم دے دیا، چنانچہ وہ کاٹ دیا گیا۔
(التاریخ الاسلامی: جلد 19، 20 صفحہ 260۔ طبقات ابن سعد: جلد 2 صفحہ 100)
یہ ہے توحید کی حفاظت اور فتنوں کے ذرائع کے صفایا کے لیے فاروقی اقدام کہ جب تابعینؒ نے ثواب کی غرض سے ایسا کام شروع کر دیا جسے صحابہ رضی اللہ عنہم نے نہیں کیا تھا تو وہ عمل بدعت ٹھہرا اور یہی چیز بعد میں درخت کی عبادت کا سبب بن جاتی تو سیدنا عمرؓ کے حکم سے اسے کاٹ ہی دیا گیا۔
(التاریخ الاسلامی: 19، 20 صفحہ 260 )