Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

میں لوگوں کو یہ بتانا چاہتا تھا کہ اصل کار ساز اللہ ہی ہے

  علی محمد الصلابی

شام کی عین محاذ آرائی کے وقت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو مسلم فوج کی قیادت سے برطرف کرنے کا مقصد امت مسلمہ کی خیر و مصلحت کے علاوہ کچھ نہ تھا سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ حضرت خالدؓ کے ساتھ لوگوں کی بے انتہا عقیدت دیکھ کر ڈر گئے کہ مبادا لوگوں کا یہ عقیدہ نہ ہو جائے کہ اسلامی فتوحات کی کامیابی حضرت خالدبن ولیدؓ کی برکت اور ان کی جنگی مہارت پر موقوف ہے اور اسے لوگوں میں عام کرتے رہیں تو آپ نے انہیں یہ بتانا چاہا کہ اللہ ہی مددگار ہے اور جو چاہے خوب بہتر انجام دینے والا ہے۔ اسی نیت سے آپ نے حضرت خالدؓ کی معزولی کا فرمان جاری کیا اور اسلامی ملکوں میں توحید کی حفاظت و بقا کے لیے آپ نے جو عمومی فرمان جاری کیا اس میں اس بات کی خصوصی تاکید کر دی، آپؓ نے فرمان میں لکھا: میں نے کسی ناراضی یا خیانت کی وجہ سے خالد کو معزول نہیں کیا ہے، بلکہ ان کی ذات سے لوگوں کے فتنہ میں پڑنے کا اندیشہ تھا، اس لیے میں نے لوگوں کو بتانا چاہا کہ حقیقی کار ساز اللہ تعالیٰ ہے۔ 

(البدایۃ و النہایۃ: جلد 7 صفحہ 82)