Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سن لو ہم اقتداء اور اتباع کرتے ہیں بدعت نہیں ایجاد کرتے

  علی محمد الصلابی

ایک مرتبہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے منبر سے کہا: ’’سن لو! اصحابِ رائے سنتوں کے دشمن ہیں، وہ لوگ احادیث نہ یاد کر سکےاور اپنی رائے سے فتویٰ دیا، خود گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا خبردار! ہم اقتداء اور اتباع کرتے ہیں بدعت نہیں ایجاد کرتے، جب تک ہم آثار و احادیث کو پکڑے رہیں گے گمراہ نہ ہوں گے۔‘‘

عمرو بن میمون اپنے باپ میمون سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطابؓ کے پاس ایک آدمی آیا اور کہا: اے امیر المؤمنین! ہم لوگوں نے جب مدائن فتح کیا تو اس میں ہمیں ایک کتاب ملی، جس میں اچھی اچھی باتیں لکھی تھیں۔ آپؓ نے پوچھا: کیا قرآن کی باتیں تھیں؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپؓ نے درّہ منگوایا اور اس سے اسے مارنے لگے، اور اس آیت کی تلاوت کرنے لگے:

الٓرٰ‌ تِلۡكَ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡمُبِيۡن ۞اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنٰهُ قُرۡءٰنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ۞نَحۡنُ نَقُصُّ عَلَيۡكَ اَحۡسَنَ الۡقَصَصِ بِمَاۤ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡكَ هٰذَا الۡقُرۡاٰنَ ‌وَاِنۡ كُنۡتَ مِنۡ قَبۡلِهٖ لَمِنَ الۡغٰفِلِيۡنَ‏ ۞(سورۃ يوسف: 1 تا 3)

ترجمہ: ’الٓرٰ یہ واضح کتاب کی آیات ہیں۔بے شک ہم نے اسے عربی قرآن بنا کر نازل کیا ہے، تا کہ تم سمجھو۔ہم تجھے سب سے اچھا بیان سناتے ہیں، اس واسطے سے کہ ہم نے تیری طرف یہ قرآن وحی کیا ہے اور بے شک تو اس سے پہلے یقیناً بے خبروں سے تھا۔‘‘

تم سے پہلے کی قومیں اس لیے ہلاک ہوئیں کہ انہوں نے اپنے علماء و پادریوں کی کتابوں کو مدار دین بنا لیا اور تورات و انجیل کو چھوڑ دیا، یہاں تک کہ وہ دونوں مٹ گئیں اور ان کا علم غائب ہو گیا۔ 

(مناقب عمر: ابن الجوزی: صفحہ 23، یہ روایت منقطع ہے، لیکن دیگر متعدد طرق سے اس کی تقویت ہوتی ہے۔)

اسلم سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عمر بن خطابؓ کو فرماتے ہوئے سنا: (طوافِ کعبہ کے دوران) رمل (دونوں مونڈھوں کو ہلاتے ہوئے دلکی چال کو رمل کہتے ہیں، جو طواف قدوم کے ابتدائی تین چکروں میں کیا جاتا ہے۔) کی اب کیا ضرورت باقی رہی؟ لیکن پھر بھی ہم جس چیز کو زمانۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں کرتے تھے اسے نہیں چھوڑیں گے۔ 

(محض الصواب: جلد 2 صفحہ 532 )

حضرت حسن بصریؒ سے روایت ہے کہ عمران بن حصینؓ نے بصرہ سے حج کا احرام باندھا اور سیدنا عمرؓ کے پاس آئے، آپ نے ان کو سختی سے ڈانٹا اور اس سے منع کیا، اور فرمایا: بعد میں لوگ کہنے لگیں گے کہ محمدﷺ کے صحابہ میں سے بعض صحابہ نے اپنے شہر سے احرام باندھا تھا۔ 

(محض الصواب: جلد 2 صفحہ 532)

ابو وائل (شقیق بن سلمہ) سے روایت ہے کہ میں خانہ کعبہ میں شیبہ بن عثمان (شیبہ بن عثمان بن ابی طلحہ القرشی العبدری کعبہ کے دربان تھے) کی کرسی پر بیٹھا تھا تو انہوں نے کہا: اسی جگہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی بیٹھے تھے۔ پھر آپ نے فرمایا: میں چاہتا ہوں کہ کعبہ میں جو کچھ سونا اور چاندی موجود ہے وہ سب اللہ کی راہ میں لٹا دوں۔ 

شیبہ نے کہا: آپ ایسا نہیں کرسکتے۔ انہوں نے پوچھا: کیوں؟ تو شیبہ نے کہا: اس لیے کہ آپ کے دونوں ساتھیوں رسول اللہﷺ اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ ) نے ایسا نہیں کیا ہے۔ تب انہوں نے کہا: وہ دونوں میرے لیے آئینہ ہیں انہی کی پیروی کروں گا۔ 

(محض الصواب: جلد 2 صفحہ 537 )

یہ چند فاروقی مؤقف ہیں جو توحید کی حفاظت اور بدعات کے ازالہ کے سلسلہ میں آپؓ کے پرخلوص جذبات کے ترجمان ہیں آپ نے اسلام کی روح یعنی توحید کو خوب سمجھا، اس پر سختی سے عمل کیا اور لوگوں کے دلوں میں بت پرستی کے جو بھی آثار و تصورات تھے انہیں مٹا دیا اور انسانیت کے دل و دماغ کی گہرائیوں میں توحید کا قلعہ قائم کر دیا۔ 

(أشہر مشاہیر الاسلام: رفیق العظم: جلد 2 صفحہ 256، 257 )

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اسلامی معاشرہ میں ایمان کی حقیقی تصویر اور اس کے جملہ ارکان کو راسخ کیا، شرک کی تمام تر ظاہری و معنوی شکلوں سے نبرد آزما رہے، اور بدعتوں کا قلع قمع کرتے رہے، جب کہ ساتھ ہی ساتھ رسول اللہﷺ کے اقوال و افعال کی مکمل پیروی بھی کرتے رہے پس یہ اصول زمین میں حکمرانی کا ایک اہم سبب اور ذریعہ ہے جسے حضرت عمر فاروقؓ نے سمجھ لیا تھا اور اس کی روشنی میں لوگوں کے درمیان زندگی گزارتے رہے۔