عبادات کا اہتمام - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

عبادات کا اہتمام

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 4

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کتاب و سنت کے عمیق مطالعہ سے یہ سمجھ لیا تھا کہ عبادات کی انجام دہی کا نام ہی دین اسلام ہے، پورا دین عبادت میں داخل ہے اور دین حقیقت میں اللہ کا بتایا ہوا وہ نظام ہے جو زندگی کے تمام گوشوں کو محیط ہے اور خور و نوش نیز قضائے حاجت کے آداب وغیرہ سے لے کر اسلامی حکومت کے قیام، اس کی تدبیر و سیاست، آمد و خرچ کی تنظیم، معاملات اور جرم و سزا سے متعلق امور نیز صلح و جنگ کی حالت میں بین الاقوامی تعلقات تک کے مسائل کو شامل ہے، اسی لیے آپؓ انہیں منظم کیے رہے اور یہ کہ نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج وغیرہ اللہ کی اہم ترین عبادتوں کی نشانیاں ہیں، ان کی اپنی اہمیت اور مقام و مرتبہ ہے لیکن ساری عبادات صرف انہی شعائر میں محدود نہیں ہیں بلکہ عبادات کا ایک حصہ ہیں جو اللہ کو مطلوب ہیں۔ (فقہ التمکین فی القرآن الکریم: الصلابی: صفحہ 181) عبادت کے اسی مفہوم کو انسانوں کی زندگی میں نافذ کرنا ہی زمین کی حکمرانی پانے کے لیے اوّلین شرط ہے۔ 

اسی طرح آپؓ کو معلوم تھا کہ انسانوں کے عقائد میں پختگی لانے، اخلاقیات کی بلندیوں میں استحکام بخشنے اور معاشرہ کی اصلاح میں عبادات کی اہم تاثیر ہے، چنانچہ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اور ذکر و اذکار جیسے اسلامی شعائر کا حضرت عمرؓ نے کتنا اور کس طرح اہتمام کیا اور اپنی ذات اور اسلامی معاشرہ میں عبادات کی اہمیت و معنویت کو کس طرح نافذ کیا اس کی چند مثالیں دی جا رہی ہیں۔

صلوٰۃ نماز:

نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسلمانوں کو نماز پڑھنے کا حکم دیتے تھے، جماعت سے پیچھے رہ جانے والوں کو خوب ڈانٹ پلاتے اور نماز چھوڑنے والوں پر سخت گرفت کرتے تھے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی آپﷺ کے طریقے پر چلتے رہے، اور جب سیدنا عمر فاروقؓ منصبِ خلافت پر فائز ہوئے تو نماز کے معاملے میں سختی کی، لوگوں کو نماز کی تاکید کی، اور اسے چھوڑنے والوں کو سزائیں دیں، اپنے گورنروں کے پاس یہ عمومی فرمان بھیجا کہ ’’میرے نزدیک تمہارا سب سے اہم کام نماز ہے، جس نے خود اس کی پابندی کی اور دوسروں سے کروائی، اس نے اپنا دین محفوظ کر لیا، اور جس نے نماز ضائع کر دی وہ دوسری چیزوں کو بدرجہ اولیٰ ضائع کرنے والا ہو گا۔‘‘ (الفتاوٰی: جلد 10 صفحہ 249، موطأ مالک مع شرحہ أوجز المسالک: جلد 1 صفحہ 154)

آپؓ خشوع وخضوع والی نماز کے بہت حریص تھے، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ میں نے حضرت عمر بن خطابؓ کے پیچھے نماز پڑھی، اور تین صفوں کے پیچھے میں نے آپؓ کے رونے کی آواز سنی۔ (حلیۃ الاولیاء: جلد 1 صفحہ 52)

ایک روایت میں آیا ہے کہ آپؓ نے فجر کی نماز میں یہ آیت تلاوت فرمائی: 

اِنَّمَاۤ اَشۡكُوۡا بَثِّـىۡ وَحُزۡنِىۡۤ اِلَى اللّٰهِ ۞(سورۃ يوسف: آیت 86)

’’میں تو اپنی پریشانیوں اور اپنے رنج کی فریاد اللہ ہی سے کر رہا ہوں۔‘‘

اور رونے لگے، یہاں تک کہ آپ کی ہچکیوں کی آواز پچھلی صفوں میں سنی گئی۔ 

(الفتاوٰی: جلد 10 صفحہ 376)

آپ نے ایک آدمی کو نماز میں بلا وجہ حرکتیں کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: اگر اس کا دل اللہ سے ڈرتا تو اعضائے بدن بھی اس سے خوف کھاتے۔ 

اگر آپؓ کو اسلامی افواج کی خبر ملنے میں دیر ہوتی تو نماز کے لیے کھڑے ہو جاتے اور اس میں دعائے قنوت پڑھتے۔ (الفتاوٰی: جلد 23 صفحہ 64 )

آپ اپنی نماز میں مجاہدین کے لیے دعائیں کرتے اور قنوت پڑھتے چنانچہ جب آپ نے اہلِ کتاب سے جنگ لڑی تو فرض نماز میں ان پر دعائے قنوت پڑھی۔ (الفتاوٰی: جلد 21 صفحہ 91)

آپ سب لوگوں کو اور خود کو بھی نماز اور اس کے فرائض و سنن کے اہتمام کا عادی بناتے تھے، لوگوں کو سنت کی طرف رہنمائی کرتے اور بدعتوں سے روکتے۔ ایک مرتبہ بعض کاموں میں مشغول ہونے کی وجہ سے مغرب کی نماز اتنی تاخیر سے ادا کی کہ دو ستارے نکل آئے، تو آپ نے نماز کے بعد دو غلاموں کو آزاد کیا۔ (التاریخ الاسلامی: الحمیدی: جلد 19) بلاعذر شرعی دو نمازوں کو اکٹھا کرکے پڑھنا آپ گناہِ کبیرہ سمجھتے تھے، عصر کے بعد نماز پڑھنے والوں کو سختی سے منع کرتے تھے۔ جمعہ کی نماز کے لیے تاخیر سے آنے والوں کو خوب ڈانٹتے اور ملامت کرتے تھے۔ سالم بن عبداللہ اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطابؓ جمعہ کے دن کھڑے ہو کر خطبہ دے رہے تھے، اتنے میں اوائل مہاجرین میں سے ایک جلیل القدر صحابی رسول اللہﷺ کی مسجد میں داخل ہوئے۔حصڑث عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو آواز دی اور پوچھا: یہ کون سا وقت ہے؟ انہوں نے کہا: میں ایک ضروری کام میں مشغول تھا، اذان سننے کے بعد میں نے وضو سے زیادہ کچھ نہیں کیا اور سیدھا مسجد میں آیا ہوں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ابھی صرف وضو کیا ہے؟ حالانکہ تم جانتے ہو کہ رسول اللہﷺ جمعہ کے دن غسل کا حکم دیتے تھے(فتح الباری: جلد 2 صفحہ 415، 430، الخلافۃ الراشدۃ، دیکھئے یحیٰی الیحٰیی: صفحہ 294 )

آپ مسجد میں شور و ہنگامہ کرنے سے منع کرتے تھے، سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں مسجد میں کھڑا تھا، پیچھے سے مجھے کسی آدمی نے کنکری ماری میں نے مڑ کر دیکھا تو وہ حضرت عمر بن خطابؓ تھے۔ آپؓ نے فرمایا: جاؤ اور ان دونوں کو پکڑ لاؤ، میں دونوں کو پکڑ کر آپ کے پاس لایا، آپ نے کہا: تم لوگ کون ہو، یا تم کہاں کے رہنے والے ہو؟ انہوں نے بتایا کہ ہم طائف کے رہنے والے ہیں۔ آپ نے فرمایا: اگر تم اس شہر کے ہوتے تو تم دونوں کو سخت سزا دیتا۔ تم دونوں رسول اللہﷺ کی مسجد میں شور کرتے ہو۔ 

(فتح الباری: جلد 1 صفحہ 668)

حضرت عمر فاروقؓ نبیﷺ کی توجیہات و رہنمائیوں کا بہت احترام کرتے تھے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

اِذَا اسْتَأْذَنَتِ مْرَأَۃُ اَحَدِکُمْ اِلَی الْمَسْجِدِ فَلَا یَمْنَعْہَا۔

ترجمہ: ’’تم میں سے کسی سے اس کی عورت مسجد میں آنے کی اجازت مانگے تو اسے نہ روکو۔‘‘

صفحہ 1 از 4