عبادات کا اہتمام - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

عبادات کا اہتمام

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 4

راوی کا کہنا ہے کہ حضرت عمر بن خطابؓ کی بیوی مسجد میں نماز پڑھنے جاتی تھیں، ایک مرتبہ حضرت عمرؓ نے ان سے کہا: تم تو جانتی ہی ہو کہ مجھے کیا پسند ہے یعنی گھر میں نماز پڑھ لیا کرو۔ بیوی نے جواب دیا: میں اس وقت تک باز نہیں آؤں گی جب تک کہ آپؓ مجھے اس سے روک نہ دیں گے۔ راوی کہتے ہیں یہ سن کر حضرت عمرؓ نے ان کو چونکا لگایا، حالانکہ وہ مسجد ہی میں تھیں۔ 

(صحیح البخاری: حدیث 5238 )

یہ روایت بتاتی ہے کہ امیر المؤمنین عمر فاروق رضی اللہ عنہ شرعی امور کی کس قدر تعظیم کرتے تھے اور کتاب و سنت کے کتنے پابند تھے، آپ دیکھ رہے ہیں کہ اپنی ذاتی پسند پر فرمانِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کس طرح مقدم رکھا۔ (التاریخ الاسلامی: جلد 40 صفحہ 19، 20)

آپکی شان عبادت دیکھیے کہ آدھی رات کو نماز پڑھنا آپ کا محبوب ترین مشغلہ تھا، اللہ کی مشیت کے مطابق جتنی توفیق ملتی نماز پڑھتے رہتے، اور جب رات کا آخری وقت آتا تو اپنی بیوی کو بیدار کرتے اور کہتے: ’’نماز، نماز‘‘، اور اس آیت کی تلاوت فرماتے:

وَاۡمُرۡ اَهۡلَكَ بِالصَّلٰوةِ وَاصۡطَبِرۡ عَلَيۡهَا‌ لَا نَسْأَلُكَ رِزۡقًا‌ نَحۡنُ نَرۡزُقُكَ‌ وَالۡعَاقِبَةُ لِلتَّقۡوٰى ۞(سورۃ طه: آیت 132)

(محض الصواب: جلد 2 صفحہ 635۔ اس کی سند ضعیف ہے۔)

ترجمہ: ’’اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دے اور اس پر خوب پابند رہ، ہم تجھ سے کسی رزق کا مطالبہ نہیں کرتے، ہم ہی تجھے رزق دیں گے اور اچھا انجام تقویٰ کا ہے۔‘‘

ایک رات آپ نماز کے لیے کھڑے ہوئے تو لوگوں کے معاملات کا خیال آ گیا جس کی وجہ سے آپ کافی رنج وغم میں مبتلا ہو گئے۔ بے چینی اس قدر تھی کہ نہ نماز پڑھ سکے اور نہ سو ہی سکے، اور کہنے لگے: اللہ کی قسم! نہ میں نماز پڑھ سکتا ہوں اور نہ سو ہی سکتا ہوں، میں سورت پڑھنا شروع کرتا ہوں تو بھول جاتا ہے کہ آیا شروع سورت پڑھ رہا ہوں یا آخر سورت۔ جب آپؓ سے پوچھا گیا کہ ایسا کیوں ہے اے امیر المؤمنین؟ تو آپ نے فرمایا: لوگوں کے بارے میں میری فکر مندی کی وجہ سے ۔ 

(الفاروق عمر: الشرقاوی: صفحہ 214)

تہجد کی نماز کی کچھ رکعتیں اگر کبھی چھوٹ جاتیں تو دن میں انہیں پورا کر لیتے، آپ کا فرمان ہے: اگر رات کی تلاوت میں کسی سے اس کی متعینہ مقدار کی تلاوت یا تلاوت کا متعین حصہ جیسے ربع، نصف، ثلث چھوٹ گیا اور اس نے فجر سے ظہر کے درمیان اسے پڑھ کر پورا کر لیا تو گویا اس نے رات ہی میں اسے پڑھا۔ 

(صحیح مسلم: حدیث 747)

آپ تمنا کرتے تھے کہ کاش میں مؤذن ہوتا، آپؓ کا قول ہے کہ اگر بار خلافت سنبھالنے کے ساتھ ساتھ پنج وقتہ اذان دے سکتا تو مؤذن رہتا۔ 

(الشیخان: بروایت بلاذری: صفحہ 225 )

آپ خوب دعائیں کرنے والے، اور اللہ سے گریہ وزاری کرنے والے تھے، آپ کی کچھ خاص دعائیں یہ تھیں:

اَللّٰہُمَّ اجْعَلْ عَمَلِیْ کُلَّہٗ صَالِحًا، وَاجْعَلْہُ لِوَجْہِکَ خَالِصًا، وَ لَا تَجْعَلْ لِأَحَدٍ فِیْہِ شَیْئًا۔

(الفتاوٰی: جلد 1 صفحہ 232)

ترجمہ: ’’اے اللہ میرے تمام اعمال کو نیک بنا دے اور اس سے خالص تیری رضا مقصود ہو، اس میں تیری رضا کے علاوہ کسی کے لیے ریا مقصود نہ ہو۔‘‘

 اَللّٰہُمَّ إِنْ کُنْتَ کَتَبْتَنِیْ شَقِیًّا فَامْحِمِیْ وَاکْتُبْنِیْ سَعِیْدًا، فَإِنَّکَ تَمْحُوْ مَا تَشَائُ وَتُثْبِتُ۔

(الفتاوٰی: جلد 14 صفحہ 275)

ترجمہ: ’’اے اللہ! اگر تو نے میری قسمت میں بدبختی لکھ دی ہے تو اسے مجھ سے مٹا دے اور مجھے نیک بخت لکھ دے، اس لیے کہ تو جس کو چاہے مٹا دے اور جس کو چاہے باقی رکھے۔

‘اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ لَا أَحْمِلُ ہَمَّ اْلِإجَابَۃِ، وَإِنَّمَا أَحْمِلُ ہَمَّ الدُّعَائِ، فَإِذَا أَلْہَمْتَ الدُّعَائَ فَإِنَّ الْإِجَابَۃَ مَعَہُ۔ "

(الفتاوٰی: جلد 8 صفحہ 118)

ترجمہ: ’’اے اللہ میں قبولیت کا غم نہیں برداشت کر سکتا، ہاں دعا کا غم برداشت کر سکتا ہوں، لہٰذا جب تو دعا کی توفیق دے تو ساتھ میں قبولیت سے بھی نواز دے۔‘‘

آپ لوگوں کو نیکوں اور شریفوں کی صحبت کی ترغیب دیتے تھے اور فرماتے: نیکوں اور شریفوں کی صحبت اختیار کرو، وہ جو کہتے ہیں اسے سنو، اس لیے کہ وہ صداقت پر مبنی باتیں کیا کرتے ہیں۔ 

(الفتاوٰی: جلد 15 صفحہ 60 )

سیدنا عمرؓ تذکیر الہٰی اور نصیحت کو بہت پسند کرتے تھے۔ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے کہتے تھے: اے ابوموسیٰ! ہمیں ہمارے ربّ کے بارے میں نصیحت کیجیے تو وہ قرآن پڑھتے اور سیدنا عمرؓ اور آپ کے رفقاء اسے سنتے اور قرآن سن کر روتے۔ 

(الفتاوٰی: جلد 10 صفحہ 51)

ذکر و اذکار والوں کے ساتھ بیٹھنا بھی آپ کو بہت محبوب تھا۔ ابوسعید جو ابو اسید کے غلام تھے، کا بیان ہے کہ حضرت عمرؓ عشاء کی نماز کے بعد رات میں ایک مرتبہ مسجد کا جائزہ لیتے، اگر کوئی شخص اس وقت مسجد میں مل جاتا تو اسے باہر جانے کا کہتے ، اِلا یہ کہ کوئی آدمی نماز پڑھ رہا ہو تو اسے کچھ نہ کہتے۔ ایک مرتبہ صحابہ کی مجلس سے گزرے اس میں ابی بن کعبؓ بھی تھے، آپ نے ان کے بارے میں پوچھا: یہ کون لوگ ہیں؟ جواب ملا: امیر المؤمنین! آپ کے گھرانے ہی کے لوگ ہیں۔ آپ نے پوچھا: نماز کے بعد آپ لوگ یہاں کیوں رک گئے؟ انہوں نے بتایا کہ ہم بیٹھ کر اللہ کے ذکر میں لگے ہیں۔ آپ بھی ان کے ساتھ بیٹھ گئے۔ پھر آپ نے اپنے قریب بیٹھے ہوئے آدمی سے کہا: دعا شروع کرو، اس نے دعا شروع کی، پھر آپ نے ایک ایک کر کے سب سے دعا کرائی یہاں تک کہ میرے پاس پہنچے، میں آپ کے پہلو میں تھا، آپ نے کہا: تم بھی دعا کرو، میں مشکل میں پڑ گیا اور میرے بازو کانپنے لگے۔ آپ نے کہا: کچھ کہو، خواہ یہی کہو کہ اے اللہ ہمیں بخش دے، اے اللہ ہم پر رحم فرما، پھر آپ نے خود دعا شروع کی، تو دیکھا گیا کہ پوری مجلس میں آپ سے زیادہ آنسو بہانے والا اور گریہ وزاری کرنے والا کوئی نظر نہ آیا اور آخر میں کہا: اب اٹھو اور جاؤ۔(الشیخان: بروایت بلاذری: صفحہ 23)

تراویح

صفحہ 2 از 4