عبادات کا اہتمام - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

عبادات کا اہتمام

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 4

جس شخص نے سب سے پہلے لوگوں کو نماز تراویح کے لیے اکٹھا کیا وہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ تھے آپ نے تمام شہروں میں یہی فرمان جاری کیا، اس کا سبب یہ تھا کہ رمضان کی راتوں میں سے ایک رات آپ مسجد میں گئے تو دیکھا کہ لوگ الگ الگ نماز پڑھ رہے ہیں، کوئی تنہا پڑھ رہا ہے اور کوئی جماعت کے ساتھ۔ سیدنا عمرؓ نے فرمایا کہ میرا خیال ہے کہ اگر ان تمام لوگوں کو ایک امام کے پیچھے اکٹھا کر دوں تو زیادہ بہتر ہو گا، پھر آپؓ نے اس کا پختہ ارادہ کر لیا اور لوگوں کو ابی بن کعبؓ کی امامت میں ان کے پیچھے اکٹھا کر دیا۔ حدیث کے ایک راوی عبدالرحمٰن بن عبدالقاری کا بیان ہے کہ پھر میں آپؓ کے ساتھ دوسری رات نکلا، لوگ اپنے امام کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے، حضرت عمرؓ نے فرمایا: کیا ہی بہترین بدعت ایجاد ہے اور جس وقت وہ سوتے ہیں وہ اس وقت سے افضل ہے جس میں قیام کرتے ہیں۔ یعنی رات کا آخری حصہ۔ اور لوگ اس وقت شروع رات میں ہی قیام کرتے تھے۔ 

(صحیح البخاری: حدیث 2010 )

کسی کو یہ وہم نہ ہو کہ تراویح کی ایجاد حضرت عمرؓ نے کی ہے اور آپؓ ہی نے سب سے پہلے اس کی بنیاد ڈالی ہے، بلکہ نبی کریمﷺ کے زمانے سے اس پر عمل ہو رہا تھا البتہ سیدنا عمرؓ نے سب سے پہلے تمام لوگوں کو ایک امام کے پیچھے نماز پڑھنے کی بنا ڈالی، اس سے پہلے سب لوگ الگ الگ اسے پڑھتے تھے تو آپؓ نے ان کو ایک امام کے پیچھے اکٹھا کر دیا۔ 

(محض الصواب: جلد 1 349 )

جہاں تک نماز تراویح کے ثبوت کا تعلق ہے تو وہ نبی کریمﷺ کی سنت ہے، آپ لوگوں کو رمضان کے مہینہ میں قیام اللیل پر ابھارتے تھے، آپ نے فرمایا:

 مَنْ قَامَ رَمَضَانَ اِیْمَانًا وَّاحْتِسَابًا غُفِرَ لَہٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ۔

(صحیح البخاری: حدیث 2009)

ترجمہ: ’’جس نے رمضان کے مہینہ میں ایمان اور ثواب کی نیت سے قیام کیا اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔‘‘

حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کو بتایا کہ رسول اللہﷺ ایک مرتبہ آدھی رات کے وقت گھر سے باہر نکلے، آپﷺ نے مسجد میں نماز پڑھی اور لوگوں نے بھی آپﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، پھر لوگ صبح کے وقت اس کے متعلق باتیں کرنے لگے تو (دوسری رات) ان سے زیادہ تعداد ہو گئی اور انہوں نے آپﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، پھر صبح ہوئی اور لوگوں نے اس سلسلہ میں باتیں کیں اور تیسری رات میں نمازی بہت زیادہ ہو گئے اللہ کے رسول نکلے اور لوگوں کو نماز پڑھائی، پھر چوتھی رات ہوئی تو لوگوں سے مسجد بھر گئی اور اس میں جگہ ہی نہ رہی یہاں تک کہ رسول اللہﷺ فجر کی نماز کے لیے نکلے، جب آپﷺ نے فجر پڑھ لی تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوکے خطبہ مسنونہ پڑھا، پھر فرمایا:

 أَمَّا بَعْدُ! فَاِنَّہُ لَمْ یَخْفَ عَلَیَّ مَکَانُکُمْ وَلٰکِنِّیْ خَشِیْتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَیْکُمْ فَتَعْجِزُوْا عَنْہَا

ترجمہ: ’’یعنی حمد و صلاۃ کے بعد! تم لوگوں کی موجودگی مجھ پر پوشیدہ نہ تھی، لیکن میں ڈر گیا کہ کہیں وہ نماز تم پر فرض نہ کر دی جائے، اور تم اسے نہ کر سکو۔‘‘

چنانچہ رسول اللہﷺ کی وفات ہو گئی اور معاملہ اسی پر باقی رہا۔ 

(صحیح البخاری: حدیث 2012)

یاد رہے کہ حضرت عمرؓ کا یہ کہنا کہ ’’یہ کتنی بہترین بدعت ہے‘‘ سو آپ نے یہاں بدعت کا لغوی معنی مراد لیا ہے، اس لیے کہ ہر وہ کام جس کی کوئی سابق نظیر نہ ملتی ہو اسے لغت میں بدعت کہا جاتا ہے۔ 

(الفتاوٰی: جلد 31 صفحہ 23)

خلاصہ یہ کہ حضرت عمرؓ کا تراویح کی نماز کے لیے لوگوں کو ایک امام پر جمع کرنا اور تمام ریاستوں میں اس کا عمومی فرمان بھیج دینا اس بات کی دلیل ہے کہ منظم انداز میں کام کرنا آپؓ کو پسند تھا۔

زکوٰۃ حج اور رمضان:

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے زکوٰۃ پر بھی خصوصی توجہ دی اور اس کے طریقہ کو منظم کیا اور یہ فریضہ ملک کی آمدنی کے ذرائع میں سے ایک ذریعہ بن گیا۔ اس فریضہ کے متعلق ہم ان شاء اللہ تفصیلی بحث ’’مالیاتی ادارہ‘‘ کے عنوان سے اگلے صفحات میں بیان کریں گے۔

البتہ یہاں حج کے متعلق کچھ باتیں قابل ذکر ہیں۔ آپؓ اپنی پوری مدت خلافت میں لوگوں کو حج کراتے رہے بعض لوگوں نے کہا ہے کہ آپ نے دس حج کیے، یعنی پوری مدت خلافت میں اور بعض نے کہا کہ نو سال تک حج کیا۔ 

(السلطۃ التنفیذیۃ: جلد 1 صفحہ 382 )

خلیفہ یا ان کے قائم مقام اعمال کی ذمہ داریوں میں یہ چند اُمور شامل ہیں:

 لوگوں کو حج کے اوقات کی اطلاع دینا اور مقاماتِ مقدسہ تک لے جانا۔

شریعت کے مطابق حج کی ادائیگی کرنا۔

 حج کے مقاماتِ مقدسہ میں ٹھہر کر ان کے عزت و احترام کا مظاہرہ کرنا۔

مشروع ارکان حج میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع کرنا۔

نمازوں میں امامت کرنا اور مشروع خطبے دینا۔ 

(السلطۃ التنفیذیۃ: جلد 1 صفحہ 383 )

آپؓ لوگوں کو حج کی رغبت دلاتے اور انہیں اس کا حکم دیتے، حتیٰ کہ آپ نے کہا: میں نے ارادہ کیا کہ کچھ لوگوں کو شہروں میں اس لیے بھیجوں تاکہ وہ دیکھیں کہ جس کے پاس حج کرنے کی وسعت ہے اور اس نے حج نہ کیا ہو تو وہ اس پر جزیہ لگا دیں۔ 

(فرائد الکلام: صفحہ 173 )

آپ نے کوشش کی کہ حج کے علاوہ دوسرے مہینوں میں بھی خانہ کعبہ عبادت گزاروں سے معمور رہے۔ لوگ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے ابتدائی دور خلافت میں عمرہ صرف حج کے مہینوں میں کرتے تھے اور دوسرے مہینوں میں نہیں کرتے تھے، جس کی وجہ سے اشہر حج کے علاوہ سال کے دوسرے مہینوں میں خانہ کعبہ زائرین سے خالی رہتا تھا۔ چنانچہ آپؓ نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ اپنے لیے کامل طریقہ اپنائیں، یعنی حج کے علاوہ دوسرے مہینوں میں بھی عمرہ کرنے آئیں، اس طرح خانہ کعبہ حج کے مہینوں اور دوسرے ایام میں بھی معمور رہے گا اور بیت اللہ کے مقصد کی تکمیل ہوتی رہے گی حضرت عمرؓ نے جو طریقہ پسند کیا یہی سب لوگوں کے حق میں افضل تھا، حتیٰ کہ ان لوگوں کے لیے بھی جو اس بات کے قائل ہیں کہ حج تمتع، اِفراد اور قران سے افضل ہے، جیسے کہ امام احمدؒ وغیرہ۔

(الفتاوٰی: جلد 26 صفحہ 146، 147)

آپؓ کے بارے میں ثابت ہے کہ ہر سال غلافِ کعبہ کا صدقہ کرتے اور اسے حاجیوں میں تقسیم کر دیتے۔

(الفتاوٰی: جلد 31 صفحہ 14)

صفحہ 3 از 4