عبادات کا اہتمام - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

عبادات کا اہتمام

  علی محمد الصلابی

صفحہ 4 از 4

اور جہاں تک روزے کی بات ہے تو اس سلسلہ میں آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت پر چلتے رہے سیدنا عمرؓ کے بارے میں ثابت ہے کہ ایک مرتبہ ابر آلود موسم میں آپؓ نے وقت سے پہلے افطار کر لیا، پھر سورج طلوع ہونے کی اطلاع ملی، تو حضرت عمرؓ نے فرمایا: معاملہ معمولی ہے، ہم نے اپنی بساط کے مطابق اجتہاد کیا۔ 

(الموطأ: جلد 1 صفحہ 303، بحوالہ الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 330)

سیدنا عمرؓ کو خبر ملی کہ ایک آدمی صوم دہر ہمیشہ کا روزہ رکھتا ہے، آپؓ اس کے پاس آئے اور مارنے کے لیے درّہ اٹھایا اور کہنے لگے: کھا، اے دہری! 

(فتح الباری: جلد 4 صفحہ 261 )

آپ کافی عبادت گزار اور اطاعت الہٰی کے شیدائی تھے، نماز سے انتہائی درجہ آپ کو لگاؤ تھا اور روزے کا بھی حق ادا کرتے، خاص طور سے آخری عمر میں اور صدقہ کے باب میں اس سے زیادہ کوشش کرتے اور خلافت کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد ہر سال حج کرتے رہے اور جہاد، تو اس سلسلہ میں نبی کریمﷺ کے ساتھ تمام غزوات میں شریک رہے اور آپؓ کے بعد بھی جنگیں لڑیں۔ آپؓ کی مدت خلافت میں جتنی بھی جنگیں لڑی گئیں اور فتوحات ہوئیں سب کا اجر آپؓ کو ملے گا، کیونکہ آپؓ ہی اس کے حقیقی محرک تھے۔ 

(محض الصواب: جلد 2 صفحہ 637)

آپؓ ذکر الہٰی کے شیدائیوں میں سے تھے، آپ نے ذکر الہٰی کے بارے میں کہا: اپنے لیے ذکر الہٰی لازم کر لو اس لیے کہ یہ شفا ہے اور خود کو لوگوں پر تذکرہ و تبصرہ سے بچاؤ اس لیے کہ یہ بیماری ہے۔ 

(تفسیر قرطبی: جلد 16 صفحہ 336، محض الصواب: جلد 2 صفحہ 677 )

 آپؓ کہا کرتے تھے: تنہائی پسند بنو۔ 

(الزہد، وکیع: جلد 2 صفحہ 517 ۔ یہ روایت سنداً صحیح ہے)


صفحہ 4 از 4