تجارت اور بازاروں کا اہتمام
علی محمد الصلابیسیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اس بات کے حریص رہے کہ بازار میں لین دین کرنے والوں کے حالات سے باخبر رہیں، انہیں اسلامی شریعت کے مطابق لین دین کرنے پر ابھاریں آپؓ اپنے علاوہ کسی کو بازار کی نگرانی پر مامور کر دیتے تھے: مثلاً آپ نے سائب بن یزید اور عبداللہ بن عتبہ بن مسعود وغیرہ کو مدینہ کے بازار کی نگرانی پر مامور کیا تھا۔
(السلطۃ التنفیذیۃ: جلد 1 صفحہ 408)
ایک محقق یہ ملاحظہ کر سکتا ہے کہ اسلامی حکومت میں احتساب کا نظام اسلامی شریعت کے مطابق وجود میں آیا اور اسلامی معاشرہ کی دیگر ترقیات کے ساتھ ساتھ اس میں بھی ترقی ہوئی یہاں تک کہ ایک ایسی سلطنت وجود میں آئی جس کے حاکم میں چند اسلامی شرائط کا پایا جانا ضروری قرار پایا، نیز کس کس کا محاسبہ کیا جائے اور کن کن چیزوں میں محاسبہ کیا جائے؟ اس کے لیے کچھ شرائط ضروری قرار دی گئیں۔
(الرقابۃ المالیۃ فی الإسلام: دیکھئے عوف الکفراوی: صفحہ 66)
حضرت عمر فاروقؓ بازاری معاملات کا محاسبہ کرنے میں بھی بہت سخت واقع ہوئے تھے۔ آپؓ ہاتھ میں درّہ لیے ہوئے بازار میں گھومتے تھے اور جسے اس کا مستحق سمجھتے اس کی اس سے سرزنش کرتے۔ حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عمرؓ کے جسم پر جو تہبند دیکھا اس میں چودہ پیوند لگے تھے، کچھ پیوند چمڑے کے تھے۔ آپ کے جسم پر نہ تو قمیض تھی اور نہ چادر، سر پر پگڑی ہوتی اور ہاتھ میں درّہ اور اسی طرح مدینہ طیبہ کے بازار میں گھومتے۔
(الطبقات الکبرٰی: جلد 3 صفحہ 330 )
حضرت حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے قتادہ رحمہ اللہ کا قول نقل کیا ہے کہ حضرت عمرؓ خلیفہ وقت ہوئے تو پیوند لگا ہوا اونی کھردرا جبہ پہنتے، بعض پیوند چمڑے کے ہوتے اور اسی حالت میں بازار کا چکر لگاتے اور آپؓ کے کندھے پر درّہ ہوتا جس سے قصور واروں کو سزا دیتے۔
(تاریخ الإسلام: عہد الخلفاء الراشدین: صفحہ 268 )
بازاری معاملات کے احتساب کے باب میں مالک بن اوس بن حدثان کا وہ واقعہ قابل ذکر ہے جسے امام مسلمؒ نے روایت کیا ہے۔ مالک بن اوس کا بیان ہے کہ میں بازار میں یہ کہتے ہوئے آگے بڑھا کہ کون دراہم کو بدلے گا؟ طلحہ بن عبید اللہ جو عمر رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے، انہوں نے کہا: ہمیں اپنا سونا دے دو اور پھر آنا جب ہمارے خادم آ جائیں گے تو ہم تمہیں بدلے والی تمہاری چاندی دے دیں گے۔ یہ سن کر حضرت عمر بن خطابؓ نے فرمایا: ہرگز نہیں، اسے اسی وقت چاندی دے دو، یا اس کا سونا واپس کر دو، اس لیے کہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا ہے:
اَلْوَرِقُ بِالْوَرِقِ رِبًا إِلَّا ہَائَ وَہَائَ ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ ہَائَ وَہَائَ ، وَالشَّعِیْرِ رِبًا إِلَّا ہَائَ وَہَائَ ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلَّا ہَائَ وَہَائَ۔
(صحیح مسلم: حدیث 1486)
ترجمہ: ’’چاندی چاندی کے بدلے بیچنا سود ہے، اِلا یہ کہ ہاتھوں ہاتھ ہو اور گیہوں گیہوں کے بدلے بیچنا سود ہے اِلا یہ کہ ہاتھوں ہاتھ ہو اور جو جو کے بدلے بیچنا سود ہے اِلا یہ کہ ہاتھوں ہاتھ ہو، اور کھجور کھجور کے بدلے بیچنا سود ہے اِلا یہ کہ ہاتھوں ہاتھ ہو۔‘‘
(ہاتھوں ہاتھ ہونے کا مطلب ہے کہ لین دین ادھار نہ ہو نقد ہو، فریقین میں سے ہر ایک، ایک ہاتھ سے دے اور دوسرے ہاتھ سے لے، بیع صرف میں ادھار جائز نہیں ہے۔)
ایک مرتبہ آپ نے ایک آدمی کو دودھ میں پانی ملا کر بیچتے ہوئے دیکھا تو اسے انڈیل دیا۔
(الحسبۃ فی الإسلام: ابن تیمیۃ: صفحہ 60۶ الحسبۃ: دیکھئے فضل الہٰی: صفحہ 24)
آپؓ مسلمانوں کو بازار میں احتکار (بازار میں کسی مال کی سخت قلت ہو اور زیادہ سے زیادہ گرانی کے انتظار میں مال کو دبائے رکھنا ’’احتکار‘‘ ہے۔)
(ذخیرہ اندوزی) سے منع کرتے تھے۔ ایک مرتبہ آپؓ نے حاطب بن ابی بلتعہ سے پوچھا: اے حاطب تم کیسے بیچتے ہو؟ انہوں نے کہا: ایک درہم میں دو مد۔ تو آپ نے فرمایا: ہمارے ہی دروازوں، گھروں اور بازاروں میں خریدتے ہو، ہمارے ہی بیچ میں رہتے ہو اور جیسے چاہتے ہو بیچتے ہو۔ اتنے میں ایک صاع دیا کرو، ایک صاع چار مد کا ہوتا ہے، ورنہ ہمارے بازار میں مت بیچو، یہاں سے باہر جاؤ اور خرید کر لاؤ، پھر جس طرح چاہو فروخت کرو۔
(موسوعۃ فقہ عمر بن الخطاب رضی اللّٰه عنہ: قلعجی: صفحہ 28)
ایک مرتبہ آپ بازار گئے اور دیکھا کہ کچھ لوگ اپنے زائد اموال کے ذریعہ سے ذخیرہ اندوزی کر رہے ہیں، تو آپؓ نے فرمایا: ایسا نہیں ہوسکتا، یہ تمہارے لیے خاص نعمت نہیں ہے، اللہ تعالیٰ نے ہمارے پاس روزی بھیجی، یہاں تک کہ جب وہ مال ہمارے بازار میں پہنچا ہے تو آپ لوگوں نے بڑھ کر اسے خرید لیا اور بیواؤں اور مسکینوں کو نظر انداز کر کے اس کی ذخیرہ اندوزی کر لی، یہاں تک کہ جب باہر کے تاجر مال بیچ کر چلے گئے تو اب آپ لوگوں نے جس طرح چاہا قیمت لگا کر فروخت کیا۔ لیکن اب جو تاجر باہر سے سردی یا گرمی کے موسم میں ہمارے بازار میں مال لے کر آتا ہے تو صرف وہی عمر کا مہمان ہے اور صرف اسی کو حق ہے کہ جس طرح چاہے فروخت کرے، اور جتنا چاہے روکے رکھے۔ یہیں سے خرید کر ذخیرہ کرنا اور پھر اسے مہنگا کرکے بیچنے کی اجازت نہ ہو گی۔
(آپ کا مقصد یہ تھا کہ اگر تاجر باہر کا ہے اور سامان باہر سے لایا ہے تو وہی ہمارا مہمان ہو گا۔ مترجم)
مسلم بن جندب سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ مدینہ میں کہیں سے غلہ آیا، بازار والوں نے بڑھ کر اسے خرید لیا۔ تو سیدنا عمرؓ نے فرمایا: کیا ہمارے ہی بازاروں میں تم تجارت کرتے ہو؟ یعنی یہیں سستی قیمت میں خریدتے ہو اور پھر زیادہ قیمت پر فروخت کرتے ہو دوسرے لوگوں کو بھی شرکت کا موقع دو، یا یہاں سے چلے جاؤ، باہر سے مال خریدو، پھر یہاں لا کر اسے فروخت کرو۔
(موسوعۃ فقہ عمر: قلعجی: صفحہ 28)
سیدنا عمرؓ صرف لوگوں کی خوراک اور جانوروں کی غذا ہی کے احتکار سے نہیں بلکہ ہر وہ چیز جس کی قلت لوگوں کی تکلیف کا سبب بنے اس کے احتکار سے منع فرماتے تھے۔ چنانچہ موطا امام مالکؒ میں روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطابؓ نے فرمایا: ہمارے بازار میں احتکار ذخیرہ اندوزی کی اجازت نہیں ہے اور وہ لوگ جن کے ہاتھوں میں ضرورت سے زیادہ مال ہے وہ اللہ کی اس روزی کی طرف نہ بڑھیں جو ہمارے درمیان آئی ہوتی ہے تاکہ وہ اسے ذخیرہ کر لیں۔ ہاں کوئی بھی تاجر جو سردی یا گرمی کے موسم میں باہر سے مال لاد کر لائے وہی عمر کا مہمان ہو گا، وہ جس طرح چاہے فروخت کرے اور جس طرح چاہے روک کر رکھے۔
(موسوعۃ فقہ عمر: قلعجی: صفحہ 29)
مذکورہ تمام تر واقعات کا منشا یہ ہے کہ احتکار کا مقصد قیمتوں اور منڈی پر قابض ہونا ہے، اور یہ چیز فقراء، مساکین، محتاجوں نیز بیواؤں کے لیے بہت ہی تکلیف دہ ہوتی ہے، جیسے کہ حاطب بن ابی بلتعہ کے لیے فاروقی توجیہ میں یہ چیز واضح ہے جو ایک درہم میں صرف دو مد بیچتے تھے، تو آپ نے کہا: تم ہمارے دروازوں، گھروں اور بازاروں سے خریدتے ہو اور ہمارے ہی درمیان رہتے ہو، پھر جس طرح چاہتے ہو فروخت کرتے ہو۔ تم ایک درہم میں ایک صاع یعنی چار مد بیچو، نیز محتاجوں اور بیواؤں کا حق مارے جانے کی بات آپؓ کے اس فرمان سے بھی ظاہر ہے جسے آپؓ نے بازار میں احتکار کرنے والوں سے فرمایا تھا کہ اللہ ہمارے پاس روزی بھیجتا ہے، یہاں تک کہ جب لانے والا ہمارے بازار میں آ گیا تو کچھ لوگوں نے بڑھ کر اسے خرید لیا اور بیواؤں و مسکینوں کو نظر انداز کر کے اس کو ذخیرہ کر لیا، یہاں تک کہ جب باہر کے تاجر مال بیچ کر چلے گئے تو جس طرح چاہا قیمت لگا کر فروخت کر دیا، آپؓ نے ان لوگوں پر سخت نکیر فرمائی۔
(موسوعۃ فقہ عمر بن الخطاب: قلعجی: صفحہ 29)
آپؓ تاجروں اور خریداروں کی ضرورت و حفاظت کے پیشِ نظر بوقت ضرورت ضروری سامان کی قیمت بھی متعین کر دیتے تھے۔ ایک آدمی بازار میں تیل فروخت کرنے آیا اور عام تاجروں کی قیمت سے زیادہ قیمت پر بیچنے لگا، حضرت عمرؓ نے اس سے کہا: یا تو بازار کی عام قیمت میں بیچو یا ہمارے بازار سے چلے جاؤ۔ ہم تمہیں کم قیمت پر مجبور نہیں کرتے، آپؓ نے اسے بازار سے دور بھگا دیا۔
(تاریخ المدینۃ المنورۃ: جلد 2 صفحہ 749، موسوعۃ فقہ عمر: صفحہ 177)