دلیل القرآن: صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین المصلحین (اصلاح کرنے والے)
نقیہ کاظمیدلیل القرآن: صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین الْمُصْلِحِينَ (اصلاح کرنے والے)
وَالَّذِيۡنَ يُمَسِّكُوۡنَ بِالۡـكِتٰبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ اِنَّا لَا نُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ۞
(سورۃ: الاعراف: آیت، 170)
ترجمہ: اور جو لوگ کتاب کو مضبوطی سے تھامتے ہیں، اور نماز قائم کرتے ہیں تو ہم ایسے اصلاح کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔
تشریح: وَالَّذِيْنَ يُمَسِّكُوْنَ بالْكِتٰبِ الخ۔
(سورۃ: الاعراف: آیت، 170)
ترجمہ: کتاب کو مضبوطی سے پکڑنے سے مراد اس پر عمل کرنا ہے اور نماز بھی اگرچہ اس میں شامل تھی مگر اس کو خصوصاً اس لیے ذکر فرمایا کہ یہ دین کا بنیادی ستون ہے۔
رسول اللہﷺ نے فرمایا:
إِنَّ بَیْنَ الرَّجُلِ وَ بَیْنَ الشِّرْکِ وَالْکُفْرِ تَرْکَ الصَّلَاۃِ۔
(مسلم، الإیمان، باب بیان اطلاق اسم الکفر: 82، عن جابرؓ)
ترجمہ: یقیناً آدمی کے درمیان اور شرک و کفر کے درمیان نماز کا ترک ہے گویا نماز نہیں تو کتاب سے تمسک بھی نہیں۔
مصلحین کا اجر ضائع نہیں ہوتا:
اس آیت میں عام قانون بیان فرما دیا کہ جو شخص اللہ کی کتاب کو مضبوطی سے پکڑے گا یعنی اس پر عمل کرے گا اللہ تعالیٰ اس کا اجر ضائع نہیں فرمائے گا۔ البتہ طرز بیان ایسا اختیار فرمایا ہے جس میں اجرھم کے بجائے۔
اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ۞
(سورۃ: الاعراف: آیت، 170)
فرمایا جس سے یہ واضح ہوگیا کہ کتاب اللہ کا مضبوطی سے پکڑنا جب ہی ہو سکتا ہے جب کہ ایمان کی بھی اصلاح ہو یعنی ایمان خالص ہو نفاق سے بری ہو اور وہ ایمان ہو جو اللہ تعالیٰ کے یہاں معتبر ہے۔ اگر بعض انبیاء علیہم السلام پر ایمان ہو اور بعض پر نہ ہو تو وہ ایمان اللہ کے یہاں معتبر نہیں ہے اور ایسا شخص مصلح بھی نہیں لہٰذا مستحق اجر بھی نہیں، کتاب کو مضبوط پکڑنے کے ساتھ قائم کرنے کا بھی تذکرہ فرمایا کیونکہ نماز ایمان کے بعد سب سے بڑی عبادت ہے۔
معلوم ہوا کہ تمسک بالکتاب کے ساتھ بالخصوص نماز کو قائم کرنے کا اہتمام بھی لازم ہے۔ نماز کو شرائط اور آداب کا لحاظ رکھتے ہوئے پابندی سے پڑھیں۔ اگر نماز کی اصلاح ہوگئی تو زندگی کے دوسرے اعمال کی بھی اصلاح ہو جائے گی۔
کما قال تعالیٰ:اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنۡهٰى عَنِ الۡفَحۡشَآءِ وَالۡمُنۡكَرِ الخ۔
(سورۃ العنکبوت: آیت، 45)