Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

انجنیئر محمد علی مرزا امام ابو حنیفہؒ کے بارے میں کہتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ’’ ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ اگر ہم حضرت علی رضي الله عنہ کے زمانے میں ہوتے تو حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضي الله عنہ کے خلاف حضرت علی کی حمایت میں قتال کرتے، جنگ لڑتے۔۔۔۔۔ ‘

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

انجنیئر محمد علی مرزا کا دھوکا

¹ـ انجنیئر محمد علی مرزا امام ابو حنیفہؒ کے بارے میں کہتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا  ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ اگر ہم حضرت علیؓ کے زمانے میں ہوتے تو سیدنا امیر معاویہ بن ابی سفیانؓ کے خلاف حضرت علیؓ کی حمایت میں قتال کرتے، جنگ لڑتے۔

تبصرہ

اس کو انجینیئر محمد علی مرزا  نے امام أبو شكور محمد بن عبد السيد بن شعيب الكشي السالمي الحنفي (المتوفى:360هـ) کی کتاب ’’التمهيد في بيان التوحيد‘‘ سے نقل کیا ہے۔

تمہید ابو شکور سالمی (اردو)، صفحہ:370-371، التمهيد في بيان التوحيد (عربی) صفحہ: 183 

امام أبو شكور  نے اس کو امام ابو حنیفہؒ سے بغیر کسی سند کے روایت کیا ہے اور بے سند روایت مردود ہوتی ہے۔

 اب ہمارا سوال ہے انجینیئر محمد علی مرزا اور ان کے مقلدین سے کہ اس کی سند ڈھونڈ کر دکھا دو اور صحیح سند کے ساتھ  اس کو امام ابو حنیفہؒ سے ثابت کرو؟

انجینیئر محمد علی مرزا کے جھوٹ کی انتہا تو دیکھو کہتے ہیں کہ میں نے امام ابو حنیفہؒ سے ثابت کیا۔۔؟

²ـانجینیئر محمد علی مرزا  نے دوسرا حوالہ أبو محمد عبد الله بن محمد الحارثي (المتوفى:340هـ) کی کتاب

’’كشف الآثار الشريفة في مناقب الإمام أبي حنيفة‘‘

سے نقل کیا ہے۔جس کی پوری سند یہ ہے:

 ’’ حدثت عن حم بن نوح البلخي قال سمعت سلم بن سالم قال سمعت بكير بن معروف يقول سمعت أبا حنيفة۔۔۔۔۔۔۔‘‘

 تبصرہ

اس کی سند میں  سَلْمُ بنُ سَالِمٍ البَلْخِيُّ أَبُو مُحَمَّدٍ
ضعیف ہے:
¹ـ قَالَ أَحْمَدُ بنُ حَنْبَلٍ: سلم بن سالم يعني البلخي ليس بذاك في الحديث كأنه ضعفه۔[العلل ومعرفة الرجال لأحمد (3/ 144)]
²_وَقَالَ ابْنُ مَعِيْنٍ: سلم بن سالم البلخى ليس بشئ. [الجرح والتعديل
(8/ 268)]
³ـوقال ابا زرعة: لا يكتب حديثه، كان مرجئا وكان لا - وأومى بيده إلى فيه - يعنى لا يصدق.[الجرح والتعديل
(8/ 268)]

⁴ـ وقال أبو حاتم: سلم بن سالم ضعيف الحديث وترك حديثه، ولم يقرأه علينا.[الجرح والتعديل
(8/ 268)]
⁵ـ وقال ابن المبارك:اتق حيات سلم بن سالم لا تلسعك.وذكر عنده حديث لسلم بن سالم فقال: هذا من عقارب سلم.[الجرح والتعديل (8/ 268)]
⁶ـ وَقَالَ النَّسَائِيُّ: ضَعِيْفٌ.[الكامل في ضعفاء الرجال
(5/ 348)]
⁷ـ وقال ابو داود: ليس بشئ.كان مرجئا.أحمد لم يكتب عنه.
[سؤالات الآجري (2/ 298)]
⁸ـ وقَالَ ابْنُ سَعْدٍ: وكان مرجئا ضعيفا في الحديث ولكنه كان صارما يأمر بالمعروف۔
[الطبقات الكبرى ابن سعد (6/ 199)]
⁹ـ وقال السعدي: سلم بن سالم البلخي غير ثقة۔[الكامل في ضعفاء الرجال
(5/ 348)]
¹⁰ـ وقال جوزجانى:سلم بن سالم البلخي غير ثقة۔
[أحوال الرجال للجوزجانى (صفحہ: 24)]
¹¹ـ و ذكره الدارقطني في((الضعفاء والمتروكين)) (262)
¹²ـ و ذكره العقيلي في((الضعفاء الكبير)) (3/ 164)
¹³ـ و ذكره ذهبي في((المغني في الضعفاء)) (صفحہ: 129)
¹⁴ـ وقال ابن الجوزي: هذا حديث لا يصح قال يحيى سلم بن سالم ليس حديثه بشيء وكان ابن المبارك يكذبه وقال ابو زرعه لا يكتب حديثه وقال السعدي غير ثقة۔
[العلل المتناهية لابن الجوزي (3/ 526)]
¹⁵ـ وقال الخليلي: اجمعوا على ضعفه۔ [لسان الميزان لأحمد العسقلاني (3/ 47)]
¹⁶ـ وقال ابن حجر : وقد اتفق المحدثون على تضعيف رواياته۔[لسان الميزان لأحمد العسقلاني
(3/ 47)]
¹⁷ـ وقال السيوطي: سلم بن سالم كذاب۔[اللآلئ المصنوعة في الأحاديث الموضوعة(3/ 370)]

خلاصہ: جو کچھ بھی انجینیئر محمد علی مرزا نے کہا ہے اس بارے میں امام ابو حنیفہؒ سے کچھ بھی ثابت نہیں ہے۔اصل میں محمد علی مرزا کو سیدنا معاویہ بن ابی سفیانؓ  کے بارے میں اپنے بغض  کا اظہار کرنا ہوتا ہے، اس کو بس سیدنا امیر معاویہؓ کے خلاف کچھ ملنا چاہیے، چاہے وہ صحیح ہو یا غلط اس کو کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔

والله یہ بغض ہے والله یہ بغض ہے