Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

مغیرہ پر حد زنا قائم نہ کی اور گواہ کو خود تلقین کی.

  زینب بخاری

مغیرہ پر حد زنا قائم نہ کی اور گواہ کو خود تلقین کی. 

جواب اہلسنّت 

یہ جھوٹ اور افتراء کا پلندہ ھے، صحیح بات وہ ھے، جو طبری، امام بخاری، ابن جوزی، شمس الدین سبط ابن جوزی ؒ نے اپنی اپنی کتب تواریخ میں درج کی ہے. کہ مغیرہؓ بصرہ کے امیر تھے، وہاں کچھ لوگوں نے ام جمیل کے ساتھ اس پر زنا کا دعویٰ کرویا اور حضرت عمرؓ کے پاس لکھ بھیجا۔ عمرؓ نے مغیرہؓ اور گواہوں کو طلب فرمایا، گواہی میں ایک گواہ نے کہا میں نے مغیرہ کو عورت کی دو رانوں کے درمیان دیکھا ہے، عمرؓ نے کہا یہ گواہی غیر معتبر ھے، کیا تو یہ گواہی دے گا کہ اس نے عورت کے ساتھ دخول کیا، جس طرح سرما 

دان میں میل ہوتا ہے گواہ نے کہا ہاں میں نے ایسے ہی دیکھا ھے، دوسرے گواہ نے کہا میں پہلے کی طرح گواہی دیتا ہوں عمرؓ نے  فرمایا نہیں یہ گواہی دے کر اس نے  دخول کیا جس طرح مکحلہ میں میل ہو، گواہ نے کہا ہاں تیسرے نے بھی پہلے دو گواہوں کی طرح گواہی دی چوتھے گواہ کو طلب فرمایا، وہ موجود نہ تھا، جب آیا، اس نے جماع کے لئے بیٹھنے اور دیگر و داعی جماع کی شہادت دی، عمرؓ نے پوچھا کیا تو نے ایسے دیکھا جیسے مکحلہ میں میل ھو، اس نے کہا نہیں.

 حضرت عمرؓ نے گواہوں کو اسّی اسّی کوڑے مارنے کا حکم دیا، حد زنا لگانے سے حضرت عمرؓ کا رک جانا بالکل صحیح تھا کیونکہ نصاب شہادت پورا نہیں ھوا، تھا گواہوں کو تلقین کرنا، یہ حضرت عمرؓ پر بہتان محض ہے۔ محمد بن بابویہ قمی فقہ میں روایت کرتا ھے کہ ایک شخص امیر المومنین علیؓ کے پیش ہوا جس نے چوری کا اقرار کیا، جس سے اس پر ہاتھ کا قطع لازم آتا تھا، مگر امیرالمومنین نے ہاتھ قطع نہ فرمایا.

فقیر کے خیال میں امیرالمومنین کو بھی کوئی شبہ پیدا ھو گیا تھا، جس کی وجہ سے حد نہ لگائی ان الحدود تندری بالشہادت