لوگوں کو محنت کا حکم دینا اور کمانے پر ابھارنا
علی محمد الصلابیحضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ لوگوں کو محنت کرنے اور اپنی روزی روٹی کمانے پر ابھارتے رہتے تھے۔ محمد بن سیرینؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے مغرب کی نماز حضرت عمرؓ کے ساتھ پڑھی، تو آپ میرے پاس آئے، میرے پاس کپڑے کی ایک چھوٹی گٹھڑی تھی، آپ نے پوچھا: تمہارے سامنے یہ کیا ہے؟ میں نے کہا: کپڑے کی گٹھڑی ہے، اس بازار میں اسے لے جاتا ہوں اور خرید و فروخت کرتا ہوں۔ آپؓ نے فرمایا: اے قریش کے لوگو! یہ اور اس طرح کی دوسری چیزیں تجارت کے مقابلے میں تم پر ہرگز غالب نہ ہونی چاہیے۔ اس لیے کہ تجارت ایک تہائی حکمرانی ہے۔
حسن سے روایت ہے کہ حضرت عمرؓ نے فرمایا: جو شخص کسی چیز کی تین مرتبہ تجارت کرے اور کامیاب نہ ہو تو اس کے علاوہ دوسری تجارت شروع کرے۔
(نظام الحکومۃ النبویۃ: جلد 2 صفحہ 20 )
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کسی نہ کسی چیز کا ہنر سیکھ لو، ممکن ہے کہ تمہارے ہنر کا کوئی ضرورت مند ہو جائے۔
(نظام الحکومۃ النبویۃ: جلد 2 صفحہ 20)
اور فرمایا: اگر یہ لین دین نہ ہوتے تو تم دوسروں کے دست نگر محتاج ہوتے۔
(نظام الحکومۃ النبویۃ: جلد 2 صفحہ 20 )
اور فرمایا: ایسی کمائی جس میں اگرچہ بعض قباحتیں (قباحتوں کا مطلب یہ ہے کہ لوگ اسے معیوب سمجھتے ہوں حالانکہ وہ پیشہ حلال ہو۔مترجم) ہوں، لوگوں سے مانگنے اور گداگری سے بہتر ہے۔
(نظام الحکومۃ النبویۃ: جلد 2 صفحہ 20 )
ایک مرتبہ آپؓ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اونٹ خریدے تو بڑا اور موٹا دیکھ کر خریدے، پس اگر اس کے انتخاب میں غلطی ہو گئی تو بازار اس کے ساتھ غلطی نہیں کرے گا اور کہا: اے محتاجوں کی جماعت! اپنے سروں کو اٹھاؤ اور تجارت کرو، راستہ کھلا ہوا ہے، لوگوں پر بوجھ نہ بنو۔
(نظام الحکومۃ النبویۃ: جلد 2 صفحہ 20)
اور آپؓ نے فرمایا: تم میں سے کوئی طلب رزق سے عاجز آ کر بیٹھ نہ جائے اور کہنے لگے: اے اللہ مجھے روزی دے دے، حالانکہ اسے معلوم ہے کہ آسمان سونا اور چاندی نہیں برساتا، بلکہ اللہ تعالیٰ لوگوں کو ایک دوسرے کے ہاتھ سے روزی دیتا ہے۔ پھر آپؓ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی:
فَاِذَا قُضِيَتِ الصَّلٰوةُ فَانْتَشِرُوۡا فِى الۡاَرۡضِ وَابۡتَغُوۡا مِنۡ فَضۡلِ اللّٰهِ وَاذۡكُرُوا اللّٰهَ كَثِيۡرًا لَّعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ۞ (سورۃ الجمعة: آیت 10)
(فرائد الکلام: صفحہ 129، تنبیہ الغافلین: السمرقندی: صفحہ 211)
ترجمہ:’’پھر جب نماز پوری کر لی جائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کے فضل سے حصہ تلاش کرو اور اللہ کو بہت یاد کرو، تاکہ تم فلاح پاؤ۔‘‘
اگر آپ کسی اچھے اور تندرست نوجوان کو دیکھتے تو اس سے پوچھتے کہ کیا تمہارا کوئی پیشہ و مشغلہ ہے؟ اگر جواب ملتا کہ نہیں، تو فرماتے: یہ میری نگاہوں سے گر گیا۔
(نظام الحکومۃ النبویۃ: جلد 2 صفحہ 20)
اور آپ نے فرمایا: جہاد فی سبیل اللہ کے علاوہ کسی دوسری جگہ اگر میری موت آئے تو میری دلی خواہش ہے کہ میں اس حال میں مروں کہ میں اپنی سواری پر اللہ کے فضل کی تلاش میں نکلا ہوا ہوں۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی:
وَاٰخَرُوۡنَ يَضۡرِبُوۡنَ فِى الۡاَرۡضِ يَبۡتَغُوۡنَ مِنۡ فَضۡلِ اللّٰهِ ۞ (سورۃ المزمل: آیت 20)
(نظام الحکومۃ النبویۃ: جلد 2 صفحہ 20 )
ترجمہ’’وہ اللہ جانتا ہے کہ بعض دوسرے زمین میں چل پھر کر اللہ تعالیٰ کا فضل یعنی روزی بھی تلاش کریں گے۔‘‘