Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام
زبان تبدیل کریں:

دھوکہ نمبر 22

  شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ

دھوکہ نمبر 22

صحابہ کرام رضوان ﷲ علیہم اجمعین کی برائیاں اور مذہب اہل سنت کا بطلان ایسی کتابوں سے نقل کرتے ہیں جو نہایت کم یاب اور نادر الوجود ہوتی ہیں حالانکہ ان کتابوں میں اس جھوٹ کا دور دور تک ذکر نہیں ہوتا . لیکن چونکہ یہ کتابیں ہر جگہ ہر ایک کو دستیاب نہیں، اس لئے اکثر ان نقلی حوالوں کو دیکھنے والے شک و شبہ میں پڑ جاتے ہیں۔ اور وہ اس سوچ میں پڑ جاتے ہیں کہ اگر یہ نقل صحیح ہے تو اہل سنت کی مشہور روایات اور اس روایت میں تطبیق و موافقت کیسے ہو گی۔ حالانکہ ان بیچاروں کی یہ سوچ اور فکرمندی بے کار اور فضول ہے، یہ نہیں سوچتے کہ اگر بالفرض نقل صحیح بھی ہو تو موافقت اور تطبیق کی ضرورت اس وقت پڑتی ہے جب کہ دونوں روایتیں شہرت، صحت ماخذ وضاحت معنیٰ اور عدالت رواۃ میں برابر، وہم مرتبہ ہوں۔ اور جب یہ امور ان مشہور روایات کے مقابلہ میں جن کا ماخذ معلوم اور جن کی دلالت واضح ہے اس موہوم و بے اصل نقل میں ناپید ہیں تو تطبیق کی ضرورت ہی کہاں رہی ۔ غرض یہ شیعہ، اہل سنت پر الزام لگانے کے لئے جو حوالے لاتے ہیں وہ ایسی ہی نادر الوجود کتابوں سے لاتے ہیں۔ اور اگر بالفرض وہ کتب دستیاب بھی ہوں تو ہم کہیں گے کہ مصنف نے اپنی کتاب کی ہر بات کی صحت کی پابندی نہیں کی بلکہ اس نے اچھا اور برا سب اس میں جمع کر دیا ہے ۔ اور اس پر نظر ثانی کا موقعہ دیا ہے، کہ چھان پھٹک کر اچھی بات لے لی جائے اور بری کو نکال کر پھینک دیا جائے ۔ آرد بیلی مصنف کشف الغمہ، اور حلی، مصنف الفین اسی قسم کی کتابوں سے نقل پر نقل کرتے چلے گئے اور بزعم خود سمجھتے ہیں کہ ہم نے پالا مار لیا ہے۔

اسی طرح ابن طاوس بھی اپنی تصانیف میں اسی قسم کے بے اصل نقلوں کے انبار پر انبار لگاتا چلا گیا ہے اور سمجھتا ہے کہ اس نے واقعی اہل سنت کو ملزم ثابت کر دیا ۔