شیر خوار بچوں کو جلدی دودھ چھڑانے کی ممانعت
علی محمد الصلابیحضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے غلام اسلم سے روایت ہے کہ مدینہ سے باہر تاجروں کا ایک قافلہ آیا اور انہوں نے عیدگاہ میں پڑاؤ ڈالا۔ سیدنا عمرؓ نے عبدالرحمٰن بن عوفؓ سے کہا: کیا آج رات ان کی نگرانی و پہرہ داری میں تم ہمارا ساتھ دو گے؟ انہوں نے کہا: ہاں ضرور ساتھ دوں گا۔ چنانچہ دونوں نے نگرانی کرتے ہوئے شب بیداری کی اور باری باری نماز پڑھتے رہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے قافلہ سے ایک بچہ کے رونے کی آواز سنی، آپؓ اس کے پاس گئے اور اس کی ماں سے کہا: اللہ سے ڈر اور اپنے بچے پر رحم کر، اتنا کہہ کر آپ اپنی جگہ واپس لوٹ آئے۔ رات کے آخری حصہ میں آپ نے پھر بچے کے رونے کی آواز سنی، آپ اس کی ماں کے پاس آئے اور کہا: تیری بربادی ہو، تو بہت بری ماں ہے۔ کیا بات ہے میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہارا بچہ پوری رات روتا رہا؟ اس نے کہا: اے اللہ کے بندے، میں اس کا دودھ چھڑانا چاہتی ہوں لیکن وہ نہیں چھوڑتا۔ آپ نے پوچھا: تم ایسا کیوں کر رہی ہو؟ اس نے کہا: اس لیے کہ حضرت عمرؓ بچے کا وظیفہ اسی وقت جاری کرتے ہیں جب وہ دودھ پینا چھوڑ دے، آپؓ نے یہ قانون بنایا تھا کہ ہر اس بچے کو وظیفہ دیا جائے جو دودھ پینا چھوڑ چکا ہو آپؓ نے پوچھا: تمہارے اس لڑکے کی کتنی عمر ہے؟ اس نے کہا: اتنے اتنے مہینے کا ہے۔ تو آپؓ نے فرمایا: تیرا برا ہو، اسے دودھ چھڑانے میں جلدی نہ کر اور جب آپؓ نے فجر کی نماز اس طرح مکمل کی کہ رونے کی وجہ سے آپ کی قرأت صاف سنائی نہیں دیتی تھی تو نماز کے بعد فرمایا کہ بربادی ہے عمر کی! اس نے کتنے مسلمان بچوں کا قتل کر ڈالا، پھر آپؓ نے اعلان کرنے والے سے اعلان کروایا: اپنے بچوں کا دودھ چھڑانے میں جلدی نہ کرو، ہم مسلمان بچے کا وظیفہ اس کی تاریخ پیدائش ہی سے مقرر کر دیتے ہیں اور پھر پوری حکومت میں یہی فرمان بھیج دیا۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 140)
سبحان اللہ! کیا ہی خوب صورت واقعہ ہے اور کتنا عظیم انصاف۔ پھر اس واقعہ کے بعد ہر مسلم بچے کا نام پیدائش کے وقت ہی عطیات کے رجسٹر میں درج کیا جانے لگا اور اسے مسلمانوں کے بیت المال سے وظیفہ ملنے لگا۔ اس لیے کہ بیت المال میں تمام مسلمانوں کا حق ہے اور جو بیت المال کا نگران و ذمہ دار ہو وہ اس کا امین ہے۔ اس کے لیے بیت المال میں بے جا تصرف کرنا جائز نہیں اور نہ ہی کسی مستحق کو اس کے حق سے روکنا جائز ہے۔