فوجیوں کے لیے ان کی بیویوں سے جدائی کی مدت مقرر کرنا
علی محمد الصلابیحضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے راتوں میں گشت کا ایک نتیجہ یہ بھی سامنے آیا کہ ایک مرتبہ آپؓ مدینہ کی گلی کوچوں میں گشت کر رہے تھے، دورانِ گشت آپ نے ایک عورت سے درد بھرے یہ اشعار سنے:
تطاول ہٰذا اللیل تسری کواکبہ
وارقنی أَن لا ضجیع ألاعبہ
’’یہ رات پھیلتی چلی گئی، اس کے ستارے جگمگاتے ہوئے چل رہے ہیں، اس چیز نے میری نیند اڑا دی کہ یہاں کوئی ہم بستر نہیں جس سے میں کھیل کر دل بہلا سکوں۔‘‘
ألاعبہ طورا وطورا کأنما
بدا قمرًا فی ظلمۃ اللیل حاجبہ
’’لمحہ لمحہ میں اس سے کھیلوں، جیسے رات کے اندھیرے میں بادل کے افق سے چاند نکل کر آنکھ مچولی کرتا ہے۔‘‘
یسر بہ من کان یلہو بقربہ
لطیف الحشا لا تجتویہ أقاربہ
’’اس سے نزدیک رہ کر جو اس سے کھیلتا ہے اسے خوشی ہوتی ہے، نرم و نازک پسلیوں والا اس کے خویش و اقارب اسے ناپسند نہیں کرتے۔‘‘
فواللّٰه لولا اللّٰه لا شیء غیرہ
لحرک من ہذا السریر جوانبہ
’’اللہ کی قسم! اگر اللہ کا خوف نہ ہوتا، اس کے سوا کسی کا خوف نہیں، تو اس چارپائی کے پائے حرکت میں ہوتے۔‘‘
ولکننی أخشی رقیبًا موکلًا
بأنفسنا لا یفتر الدہر کاتبہ
(محض الصواب: جلد 1 صفحہ 388، اس روایت کی سند میں انقطاع ہے)
’’لیکن میں ایک نگراں کار سے ڈرتی ہوں جو ہمارے اوپر مسلط ہے اور کبھی کسی وقت اس کا لکھنے والا نہیں تھکتا۔‘‘
سیدنا عمرؓ نے یہ سن کر فرمایا: اللہ تجھ پر رحم کرے، پھر آپؓ نے اس کے پاس کپڑے اور گھریلو اخراجات بھجوائے اور اس کے شوہر کے پاس خط بھجوایا کہ اپنی بیوی کے پاس آ جائے۔
(مناقب أمیر المومنین: ابن الجوزی: صفحہ 89)
اور ایک روایت میں آیا ہے کہ پھر حضرت عمرؓ اپنی صاحبزادی حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر گئے، انہوں نے پوچھا: امیر المؤمنین! اس وقت آپ کو آنے کی کیا ضرورت پڑ گئی؟ آپ نے کہا: اے میری بیٹی! عورت اپنے شوہر کی جدائی کب تک برداشت کر سکتی ہے؟ انہوں نے بتایا کہ مہینہ، دو مہینہ اور زیادہ سے زیادہ تین مہینہ تک، چوتھے مہینہ میں صبر کا پیمانہ لبریز ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد حضرت عمرؓ نے یہ حکم نافذ کر دیا کہ مجاہدین کو ان کے اہلِ و عیال سے چار مہینوں سے زیادہ نہ روکا جائے۔
(مناقب أمیر المومنین: ابن الجوزی: صفحہ 89 أولیات الفاروق: صفحہ 289)
یہ ہے ایک مجاہد کے لیے اس کی بیوی سے جدائی کی مدت متعین کرنے کی فاروقی سیاست، جس کی کسی نے بھی مخالفت نہیں کی۔
(أولیات الفاروق: صفحہ 289)
رہے وہ فوجی جنہوں نے مدت کی پابندی نہ کی ان کے لیے حضرت عمرؓ نے غیر موجودگی کی مدت کی تحدید سے پہلے ہی ایک نظام وضع کر دیا، چنانچہ جب آپؓ کو ان لوگوں کی تعداد معلوم ہو گئی جو لمبے عرصے تک اپنی بیویوں سے دور رہے اور غیر موجودگی کی حالت میں انہیں نان ونفقہ بھی نہ دیا تو آپؓ نے ایسے لوگوں کو نامزد کر کے فوجیوں کے کمانڈروں کے نام خط لکھا کہ ان لوگوں کو فوراً طلب کیا جائے اور انہیں یہ حکم سنا دیا جائے یا تو اپنی بیویوں کے پاس واپس لوٹیں یا ان کے مکمل اخراجات کا انتظام کر کے بھیجیں، یا انہیں طلاق دے دیں۔ ہاں اگر طلاق دیتے ہیں تو گزشتہ ایام کا نفقہ بھی دینا ہو گا۔
(أولیات الفاروق: صفحہ 170)