Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

مجاہدین کی عزتوں کی حفاظت

  علی محمد الصلابی

رات میں گشت کرتے ہوئے رعایا کے احوال معلوم کرنے کا ایک نتیجہ یہ بھی سامنے آیا کہ مجاہدین کی عزتوں کی حفاظت کی گئی۔

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ ایک رات مدینہ میں گشت لگا رہے تھے، آپؓ نے ایک شعر سنا جس سے تہمت و بدچلنی کی بو آ رہی تھی، ایک عورت نصف رات میں شراب نوشی اور خوب صورت نوجوان کی قربت کی تمنا کرتی ہے، اس کی تمنا حقیقی رہی ہو یا بطور دل لگی، بہرحال اس نے جو شعر پڑھا اس سے عورت پر شک کی انگلی ضرور اٹھتی تھی۔ اس نے یہ شعر پڑھا تھا:

ہل من سبیل إلی خمر فأشربہا

ہل من سبیل الی نصر بن حجاج

’’کیا شراب کے لیے کوئی راستہ ہے کہ میں اسے نوش کروں اور کیا نصر بن حجاج تک کسی طرح پہنچنا ممکن ہے؟‘‘

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جب یہ سنا تو صبح کے وقت نصر بن حجاج کو طلب کیا، وہ بہت ہی خوب صورت چہرے والا، اور بہترین بالوں والا نوجوان تھا، آپ نے اسے اپنا سر حلق کرانے کا حکم دیا۔ لیکن اس سے اس کی خوبصورتی دوبالا ہو گئی تو آپ نے اسے پگڑی باندھنے کا حکم دے دیا لیکن اب وہ بہت ہی خوب صورت لگنے لگا، تو آپ نے اس کی ذات کو عورتوں کے لیے باعثِ فتنہ ہونے کے خوف سے اور مجاہدین کی عزت کی حفاظت کے پیشِ نظر اسے بصرہ بھیج دیا۔ 

(مناقب أمیر المومنین، ابن الجوزی: صفحہ 91)

سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کا یہ عمل ہمیں سیاست عامہ میں آپؓ کی بالغ نظری اور مصلحت عامہ کو مقدم رکھنے میں آپؓ کی بے نظیر حکمتِ عملی کا پتا دیتا ہے۔ چنانچہ ایک طرف نصر کی خوب صورتی اور ان کا اپنے حسن و جمال کے بارے میں خصوصی اہتمام کرنا اور دوسری طرف مسلم مجاہدین کا اپنی بیوی سے لمبے عرصہ تک غائب رہنا، مزید برآں مدینہ کی پر امن و پرسکون فضا یہ ایسے اسباب تھے جو فتنہ میں واقع ہونے کا سبب بن سکتے تھے۔ لہٰذا اس موقع پر یہی زیادہ مناسب تھا کہ اس ناز و ادا والے نوجوان کو کسی فوجی شہر میں بھیج دیا جائے تاکہ جنگی مہارت حاصل کرے، یا بہادری کے کارناموں اور لوگوں کی ہمت و جوان مردی کو دیکھ کر فائدہ اٹھائے۔ چنانچہ بصرہ ہی اس وقت فوجی چھاؤنی والا شہر تھا اور وہی شہر اس نوجوان کے علاج کے لیے زیادہ مناسب ٹھہرا۔ 

(اولیات الفاروق: صفحہ 82)

بہرحال جس عورت کے کلام کو حضرت عمرؓ نے سنا تھا وہ اس تفصیل کو جان کر خوفزدہ ہوئی کہ کہیں آپؓ جلد بازی میں کوئی نامناسب اقدام نہ کر جائیں، اس لیے کہ اس نے آپؓ کے پاس چپکے سے چند اشعار پر مشتمل ایک خط بھیجا، وہ اشعار یہ ہیں:

قل للإمام الذی تخشی بوادرہ

مالی وللخمر أو نصر بن حجاج

’’اس امام کو معلوم ہونا چاہیے کہ جس کی گرفت کی عجلت کا خوف ہے، میرا شراب اور نصر بن حجاج سے کیا تعلق؟‘‘

إنی عنیت أبا حفص بغیرہما

شرب الحلیب وطرف فاتر ساجی

’’اے ابوحفص میں نے شعر میں ان دونوں کو نہیں مراد لیا ہے بلکہ دودھ کا پینا اور پرسکون آنکھ مراد لیا۔‘‘

إن الہوی زمہ التقوی فقیّدہ

حتی اقرّ بالجام وإسراج

’’خواہشات نفس کو تقویٰ نے باندھ دیا ہے، اور اسے قید کر دیا ہے، یہاں تک کہ اسے خوب کس دیا ہے لگام اور زین سے۔‘‘

لا تعجل الظن حقًا لا تُبینہ

إن السبیل سبیل الخائف الراجي

’’گمان کو بلا تحقیق حق سمجھنے میں آپ جلدی نہ کریں اللہ سے خوف و امید رکھنے والے کے راستے پر گامزن ہوں۔‘‘

خط پا کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عورت سے کہلوایا کہ تمہارے بارے میں اچھے اخلاق کی خبر ملی ہے، میں نے تمہاری وجہ سے نصر کو یہاں سے نہیں نکالا ہے بلکہ میں نے سنا ہے کہ وہ عورتوں میں جاتے تھے، سو میں ان عورتوں سے مامون نہیں ہوں۔ یہ کہہ کر آپؓ رو پڑے اور کہا: اللہ کا شکر ہے جس نے شہوتوں کو قید کر دیا اور اسے لگام دی، اور زین کے ساتھ کس کے باندھ دیا۔ 

(مناقب أمیر المومنین: ابن الجوزی: صفحہ 92)

اس کے بعد حضرت عمرؓ نے بصرہ کے اپنے گورنر کو ایک خط تحریر کیا، آپؓ کا کارندہ وہاں خط لے کر گیا اور کئی دنوں کے قیام کے بعد لوگوں میں اعلان کروایا کہ مسلمانوں کی ڈاک جانے والی ہے، لہٰذا جسے ضرورت ہو وہ امیر المؤمنین کو خط لکھ دے، چنانچہ نصر بن حجاج نے ایک خط لکھ کر دوسرے کئی خطوط کے درمیان رکھ دیا۔ خط کا مضمون یہ تھا:

      بسم اللہ الرحمن الرحیم 

اللہ کے بندے عمر، امیر المؤمنین کے نام!

سلام اللہ علیک، حمد وصلاۃ کے بعد!

لعمری لئن سیرتنی أو فضحتنی

وما نلتہ منی علیک حرام

’’قسم ہے اللہ کی، اگر آپ نے مجھے جلا وطن کیا یا رسوا کیا، اور جو کچھ بھی میرے ساتھ کیا سب آپ پر حرام ہے۔‘‘

فأصبحت منفیا علی غیر ریبۃ

وقد کان لی بالمکتین مقام

’’میں بغیر کسی تہمت کے جلا وطن کر دیا گیا، حالانکہ مکہ و مدینہ میں میرے لیے ٹھہرنے کی جگہ تھی۔‘‘

أ إن غنت الزلفاء یومًا بمنیۃ

و بعض أمانی النساء غرام

’’کیا اگر کسی دن شعر کی کسی دیوانی نے اپنی آرزو کو ترنم سے گا دیا، حالانکہ عورتوں کی بعض آرزوئیں باعث ہلاکت ہوتی ہیں۔‘‘

ظننت بی الظن الذی لیس بعدہ

بقاء فما لی فی الندی کلام

’’تو آپ نے میرے بارے میں اتنا غلط گمان کرلیا جس کے بعد وطن میں بقا ممکن نہیں رہی، اب دور رہنے میں مجھے بھی کوئی اعتراض نہیں ہے۔‘‘

و یمنعنی مما تظن تکرمی

و آباء صدق سالفون کرام

’’اور آپ نے جو کچھ بھی گمان کیا، اسے ماننے سے میری شرافت اور میرے آبا ؤ اجداد جو معزز بزرگان میں سے تھے ان کی صداقت و دیانت کی سابقہ روایت یکسر انکار کرتی ہے۔‘‘

و یمنعہا مما تظن صلاتہا

و حال لہا فی قومہا و صیام

’’اور جو کچھ آپ اس کے بارے میں سوچتے ہیں، اس کی پابندی نماز و روزہ اور اس کی قوم میں اس کا اچھا مقام ہے۔‘‘

فہذان حالات فہل انت راجعی

فقد جبّ منی کاہل و سنام

’’یہ ہم دونوں کی حالت ہے، تو کیا آپ مجھے لوٹنے کی اجازت دیں گے۔ جب کہ میرا مونڈھا اور کوہان کاٹ دیا گیا۔ (یعنی میں بہت پریشان ہوں۔)‘‘

إمام الہدی لا تبتل الطرد مسلمًا

لہ حرمۃ معروفۃ و زمام

’’اے ہدایت کے امام! کسی مسلمان کو جلا وطنی کی آزمائش میں مت مبتلا کیجیے، اس کا احترام آپؓ کو معلوم ہے اور اس کا اپنا مقام ہے۔‘‘

یہ خط پڑھنے کے بعد حضرت عمرؓ نے فرمایا: حاکمِ وقت اب تو اس کی اجازت نہیں دے سکتا۔ بہرحال نصر بن حجاج حضرت عمر فاروقؓ کی وفات کے بعد ہی مدینہ لوٹ سکے۔ 

(مناقب أمیر المومنین: ابن الجوزی: صفحہ 92، 93)

حضرت عمر فاروقؓ ایک مرتبہ رات کو گشت کر رہے تھے تو اسی سے ملتا جلتا ایک دوسرا واقعہ آپؓ کے ساتھ پیش آیا، آپؓ مدینہ میں گشت کر رہے تھے تو سنا کہ چند عورتیں آپس میں باتیں کر رہی تھیں اور پوچھ رہی تھیں کہ مدینہ کا سب سے خوب صورت نوجوان کون ہے؟ ان میں سے ایک نے کہا: ابو ذؤیب ہے۔ حضرت عمرؓ نے صبح کے وقت ابوذؤیب کو طلب کیا، واقعتاً وہ کافی خوب صورت تھے۔ آپؓ نے فرمایا: سنو! یقیناً تم عورتوں پر بہت اثر انداز ہونے والے ہو، جاؤ یہاں سے چلے جاؤ، یہاں میرے ساتھ کبھی نہ رہنا۔ نوجوان نے کہا: اگر آپ مجھے بھگانا ہی چاہتے ہیں تو مجھے میرے چچا زاد بھائی نصر بن حجاج کے پاس جانے کی اجازت دیجیے۔ دونوں کا تعلق قبیلہ بنو سلیم سے تھا، آپؓ نے اسے اس کے چچا زاد بھائی کے پاس بھیج دیا۔ 

(الشیخان بروایت بلاذری: صفحہ 211، 212)

سچ یہ ہے کہ امتِ مسلمہ کے بگاڑ کے اندیشوں نے حضرت عمرؓ کو اس اقدام پر مجبور کیا تھا، آپ کی کامل و قوی شخصیت جو لوگوں کی مختلف صلاحیتوں کو پہچاننے کی مہارت رکھتی تھی، اس نے حکمت و دور اندیشی پر مبنی ایسے کئی اقدام کیے، گویا فاروقی عہد خلافت اسلامی فوج تیار کرنے اور جہاد کی طاقت رکھنے والوں کو جہاد کے لیے بھیجنے کا زرّیں عہد تھا۔

یہ کیسے ہوسکتا کہ سیدنا عمرؓ مذکورہ دونوں نوجوانوں کی موجودگی کو مدینہ میں گوارا کرتے، حالانکہ انہیں جہاد میں شرکت کی کوئی مجبوری نہ تھی۔ لہٰذا انہیں شعر گوئی اور عورتوں کے درمیان بیٹھنے کے لیے مہلت دینے سے بہتر یہی تھا کہ ان کو مدینہ سے باہر ہی بھیج دیا جائے۔ 

(أولیات الفاروق: صفحہ 83)