کیا تم قیامت کے دن میری طرف سے میرا بوجھ اٹھاؤ گے؟
علی محمد الصلابیسیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے غلام اسلم سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمرؓ ’’حرہ واقم‘‘(حرہ جلے ہوئے سیاہ رنگ کے پتھروں کی زمین، مدینہ طیبہ ایسے ہی دو حروں کے درمیان واقع ہے ایک کا نام حرہ واقم اور دوسرے کا نام حرہ دبرہ ہے) تک گئے، میں بھی آپؓ کے ساتھ تھا، جب ہم لوگ ’’صرار‘‘(مدینہ سے تین میل کی دوری پر واقع ہے۔) پہنچے تو ہمیں آگ کے شعلے دکھائی دئیے۔ آپؓ نے فرمایا: اے اسلم! میرا خیال ہے کہ یہاں کوئی قافلہ ٹھہرا ہے، رات اور سردی کی وجہ سے وہ یہیں مقیم ہے، آؤ چلیں دیکھیں، ہم تیزی سے چل کر وہاں پہنچے، جب قافلہ والوں کے قریب ہوئے تو دیکھا کہ ایک عورت ہے اور اس کے ساتھ کچھ بچے ہیں اور آگ پر ہنڈیا رکھی ہوئی ہے، اور بچے اس کے اردگرد بیٹھے زور زور سے رو رہے ہیں۔ حضرت عمرؓ نے وہاں پہنچ کر کہا:اے روشنی والو! السلام علیکم۔آپ نے’’اے آگ والو!‘‘ کہنا ناپسند کیا، عورت نے جواب دیا: وعلیکم السلام۔ آپ نے پوچھا: کیا میں قریب آ سکتا ہوں؟ عورت نے کہا: اگر کسی خیر کا ارادہ ہے تو آؤ ورنہ کوئی ضرورت نہیں۔ آپؓ اس کے قریب گئے اور کہا: آپ لوگ یہاں کیسے؟ اس نے بتایا کہ ٹھنڈ اور رات ہو جانے کی وجہ سے ہم یہیں ٹھہر گئے۔ آپؓ نے پوچھا: یہ بچے کیوں رو رہے ہیں؟ اس نے کہا: بھوک سے۔ آپؓ نے پوچھا: اس ہنڈیا میں کیا ہے؟ اس نے کہا: صرف پانی ہے، ان کا دل بہلا رہی ہوں تاکہ سو جائیں۔ اللہ ہی ہمارے اور عمر کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ آپؓ نے فرمایا: یقیناً اللہ تم پر رحم کرے، لیکن عمر کو تمہاری کیا خبر؟ اس نے کہا: وہ ہمارا حاکم ہے اور ہم سے غافل ہے۔ اسلم کا بیان ہے کہ پھر آپ میری طرف متوجہ ہوئے اور کہا: ہمیں چلنا چاہیے، ہم وہاں سے نکلے اور تیزی سے چلتے ہوئے آٹے کے گودام میں پہنچے، آپؓ نے ایک بوری آٹا نکالا اور تھیلے میں چربی، اور کہا: اسے میرے اوپر لاد دو، میں نے کہا: میں آپ کی طرف سے اسے اٹھاتا ہوں۔ آپؓ نے فرمایا: تیری ماں نہ رہے۔ کیا قیامت کے دن بھی تم میری طرف سے میرا بوجھ اٹھاؤ گے۔ اسلم کا کہنا ہے کہ پھر میں نے بوری وغیرہ آپؓ کو اٹھوا دی۔ آپؓ اسے لے کر اس عورت کے پاس گئے میں بھی آپؓ کے ساتھ گیا، ہم بہت تیز چل رہے تھے، آپؓ نے عورت کے پاس بوری اتاری اور اس سے تھوڑا سا آٹا نکال کر عورت کو دیا اور کہا: تم اس پر نمک چھڑکو میں تمہارے لیے ’’حریرہ‘‘ بنا دیتا ہوں۔ پھر آپ ہنڈیا کے نیچے آگ پھونکنے لگے، میں نے دیکھا کہ دھواں آپ کی داڑھی کے درمیان سے نکل رہا تھا۔ اس طرح آپ نے سب بچوں کے لیے کھانا پکا دیا اور ہنڈیا آگ سے اتار دی اور کہا: مجھے کوئی پلیٹ و پیالہ وغیرہ دو، وہ عورت ایک بڑا پیالہ لے کر آئی، آپؓ نے حریرہ اس میں الٹ دیا اور عورت سے کہنے لگے، تم بچوں کو کھلاؤ اور میں اسے ٹھنڈا کرتا ہوں۔ آپ کھانا ٹھنڈا کرتے رہے یہاں تک کہ سب بچے شکم سیر ہو گئے اور جو کھانا بچا اسے عورت کے پاس چھوڑ کر چلنے کے لیے اٹھے، میں بھی آپؓ کے ساتھ اٹھا۔ عورت کہنے لگی: جزاک اللہ خیراً، اللہ تم کو بہتر بدلہ عطا فرمائے۔ تمہی امیر المؤمنین بننے کے حق دار تھے۔ آپؓ نے فرمایا: اچھی بات کہو، جب تم امیر المؤمنین کے پاس آؤ گی تو ان شاء اللہ وہاں مجھے پاؤ گی، پھر آپؓ وہاں سے ہٹ کر تھوڑا سا دور ہو گئے اور پھر ان کے سامنے جا کر بیٹھ گئے تو میں نے آپؓ سے پوچھا: کیا اور بھی کوئی کام ہے؟ آپؓ خاموش رہے اور مجھے جواب نہ دیا، یہاں تک کہ بچوں کو میں نے دیکھا کہ وہ لیٹ گئے اور سو گئے، پھر آپؓ اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے اٹھے، اور میری طرف متوجہ ہو کر کہا: اے اسلم! بھوک نے ان کو جگا رکھا تھااور رلایا تھا تو میں نے چاہا کہ اس وقت تک یہاں سے واپس نہ جاؤں جب تک کہ انہیں اب جس حالت میں دیکھ رہا ہوں اس حالت میں دیکھ نہ لوں۔
(الکامل فی التاریخ: جلد 2 صفحہ 214، الطبری: جلد 5 صفحہ 200)
حافظ ابراہیم نے اس واقعہ کی اس طرح منظر کشی کی ہے:
ومن رآہ أمام القِدر منبطحاً
والنار تأخذ منہ وہو یذکیہا
’’اور جس شخص نے آپؓ کو ہنڈیا کے آگے اس حال میں جھکا ہوا دیکھا ہو گا کہ آگ آپؓ کی طرف لپک رہی تھی اور آپؓ اسے پھونک رہے تھے۔‘‘
وقد تخلل فی اثناء لحیتہ
منہا الدخان وفوہ غاب فی فیہا
’’آگ سے نکلتا ہوا وہ دھواں آپؓ کی داڑھی میں گھس رہا تھا اور آپؓ کا منہ اسی میں غائب ہوا جا رہا تھا۔‘‘
رأی ہناک أمیر المومنین علی
حال تروع ۔ لعمر اللّٰه ۔ رائیہا
’’(دیکھنے والے نے) اس وقت امیر المؤمنین کو ایسی حالت میں دیکھا ہو گا جو اسے حیرت میں ڈال دے۔‘‘
یستقبل خوف النار فی عذہ
والعین من خشیۃ اللّٰه سالت مآقیہا
(العشرۃ المبشرون بالجنۃ: العفیفی: صفحہ 173)
’’وہ کل جہنم کی آگ کے خوف سے دنیا کی آگ کا استقبال کر رہے تھے اور خوفِ الہٰی سے آنکھیں آنسو بہا رہی تھیں۔‘‘