Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

اے امیر المؤمنین اپنے ساتھی کو لڑکے کی خوش خبری دیجئے

  علی محمد الصلابی

ایک رات سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ گشت لگا رہے تھے، مدینہ کے ایک میدان میں پہنچے تو دیکھا کہ وہاں اونی خیمہ لگا ہوا ہے جو کل نہیں تھا۔ آپؓ اس کے قریب گئے تو اندر سے کراہنے کی آواز آئی، جب کہ باہر ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا۔ آپؓ اس کے قریب گئے اور سلام کیا، پھر پوچھا: تم کون ہو؟ اس نے کہا: میں ایک بدوی ہوں، امیر المؤمنین سے ملنے کے لیے آیا ہوں تاکہ ان کے احسان و کرم سے نوازا جاؤں۔ آپ نے پوچھا: میں گھر میں جو آواز سن رہا ہوں یہ کیسی آواز ہے؟ اس نے کہا: اللہ تم پر رحم کرے، تم کو اس سے کیا مطلب۔ آپ نے کہا: بتاؤ کیا بات ہے؟ اس نے بتایا: میری عورت درد زہ میں مبتلا ہے۔ آپؓ نے پوچھا: کیا اس کے پاس کوئی ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپؓ فوراً گھر آئے اور اپنی بیوی امّ کلثوم بنت علی سے کہا: کیا تم ثواب کمانا چاہتی ہو، اللہ نے اسے خود تم تک پہنچایا ہے؟ انہوں نے پوچھا: کیا بات ہے؟ آپؓ نے بتایا: ایک اجنبی عورت درد زہ میں مبتلا ہے اور اس کے پاس کوئی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا: اگر آپؓ راضی ہیں تو میں ضرور چلوں گی۔ آپؓ نے فرمایا: تو پھر بچے کی ولادت کے وقت کپڑے اور تیل وغیرہ کی جو ضرورت پڑتی ہے اسے لے لو اور ایک ہنڈیا، چربی اور تھوڑا سا غلہ بھی لے آؤ۔ امّ کلثوم سب کچھ لے کر آئیں۔ آپؓ نے کہا: چلو اب چلیں۔ آپؓ نے ہنڈیا اٹھائی اور وہ پیچھے پیچھے چلیں۔ جب آپؓ خیمہ کے پاس پہنچے تو امّ کلثوم سے کہا: عورت کے پاس جاؤ اور خود آ کر آدمی کے پاس بیٹھ گئے، آپؓ نے اس سے کہا: آگ جلاؤ، اس نے آگ جلائی، ہنڈیا آگ کے اوپر رکھی یہاں تک کہ ہنڈیا گرم ہو گئی۔ اتنے میں عورت کو ولادت ہو گئی، تو حضرت عمرؓ کی بیوی نے کہا: اے امیر المؤمنین اپنے ساتھی کو لڑکے کی خوش خبری دیجیے۔ جب بدوی نے امّ کلثوم کی زبان سے ’’امیر المؤمنین‘‘ کا لفظ سنا، تو جیسے ڈر گیا، اور تھوڑا تھوڑا آپؓ سے پیچھے ہٹنے لگا۔ آپؓ نے اس سے کہا: جیسے تھے اسی طرح اپنی جگہ بیٹھے رہو۔ پھر آپؓ ہانڈی اٹھا کر دروازے پر لائے اور اپنی بیوی سے کہا: عورت کو کھلا کر خوب آسودہ کر دو۔ چنانچہ انہوں نے اسی طرح کیا، پھر ہنڈیا کو اندر سے نکال کر باہر دروازے پر رکھ دیا، حضرت عمرؓ اٹھے اور اسے لا کر آدمی کے سامنے رکھ دیا اور کہا: کھاؤ تم پوری رات جاگتے رہے ہو اور اپنی بیوی سے کہا: چلو نکلو، اور آدمی سے کہا: جب صبح ہو تو میرے پاس آنا، تمہیں تمہارے فائدہ کی چیزیں دلواؤں گا۔ جب صبح ہوئی تو وہ آیا، تو آپؓ نے اس کے لڑکے کا وظیفہ جاری کیا اور کچھ عطیہ بھی دیا۔ 

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 140)