Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

اللہ کی قسم میں ایسی نہیں ہوں کہ مجلس میں اس کی بات مانوں اور تنہائی میں نافرمانی کروں

  علی محمد الصلابی

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے غلام اسلم سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمرؓ مدینہ میں گشت لگا رہے تھے اور میں آپؓ کے ساتھ تھا۔ آپؓ باتیں کر رہے تھے اچانک خاموش ہو گئے، آدھی رات کا وقت تھا، آپؓ ایک دیوار کے کنارے ٹیک لگا کر کھڑے ہو گئے، آپؓ نے سنا کہ ایک عورت اپنی لڑکی سے کہہ رہی ہے: اے بیٹی اٹھو اور دودھ میں پانی ملا دو۔ بیٹی نے کہا: اے امی جان! کیا امیر المؤمنین کے فرمان کی خبر آپ کو نہیں ہے؟ اس نے کہا: ان کا کیا فرمان ہے؟ بیٹی نے بتایا کہ انہوں نے اپنے منادی سے اعلان کروا دیا ہے کہ دودھ میں پانی نہ ملایا جائے۔ ماں نے بیٹی سے کہا: اے بیٹی! اٹھو اور اس میں پانی ملا دو۔ یہاں تمہیں نہ تو عمر دیکھ رہے ہیں اور نہ ان کا منادی۔ لڑکی نے کہا: واللہ! میں ایسی نہیں ہوں کہ مجلس میں ان کی اطاعت کروں اور تنہائی میں اس کی نافرمانی کروں اور حضرت عمرؓ یہ سب سن رہے تھے آپ نے اسلم سے کہا: اے اسلم اس دروازے پر نشان لگا دو، اور اس جگہ کو اچھی طرح پہچان لو۔ پھر آپؓ گشت کرنے لگے۔ جب صبح ہوئی تو کہا: اے اسلم! رات والی اس جگہ پر جاؤ اور کہنے والی اور جس سے کہہ رہی تھی دونوں کا پتہ چلاؤ اور معلوم کرو کہ کیا دونوں شوہر والی ہیں؟ اسلم کا بیان ہے کہ میں اس جگہ آیا اور معلوم کیا تو پتہ چلا کہ لڑکی غیر شادی شدہ ہے اور اس کی ماں کا شوہر زندہ نہیں ہے۔ میں حضرت عمرؓ کے پاس آیا اور ان کو صورت حال سے آگاہ کیا۔ آپؓ نے اپنے لڑکوں کو بلایا اور کہا: کیا کسی کو عورت کی ضرورت ہے کہ میں اس کی شادی کر دوں؟ اگر تمہارے باپ کو اب عورتوں کی کچھ بھی خواہش باقی ہوتی تو اس لڑکی سے شادی کرنے میں ان سے کوئی آگے نہ بڑھ پاتا۔ یہ سن کر عبداللہ نے کہا: میرے پاس بیوی ہے۔ عبدالرحمٰن نے کہا: میرے پاس بھی بیوی ہے۔ عاصم نے کہا: اے اباجان! میرے پاس بیوی نہیں ہے، اس سے میری شادی کر دیجیے۔ آپؓ نے لڑکی کو بلا بھیجا اور اس سے عاصم کی شادی کر دی۔ ان سے اس لڑکی کے ایک بچی پیدا ہوئی، اور پھر عاصم کے ایک نواسی پیدا ہوئی، اور پھر نواسی سے ایک لڑکی ہوئی اور اس سے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کی پیدائش ہوئی۔ 

(مناقب أمیر المومنین: ابن الجوزی: صفحہ 89، 90)

ابن الہادی کا کہنا ہے کہ بعض محققین نے کہا کہ یہ روایت اسی طرح واقع ہے، حالانکہ یہ غلط ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ اس لڑکی سے عاصم کی ایک بچی پیدا ہوئی اور پھر اس بچی سے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کی ولادت ہوئی۔ 

(محض الصواب: جلد 1 صفحہ 391 )

خلاصہ بحث یہ کہ اس طرح حضرت عمرؓ بذاتِ خود رعایا کے احوال معلوم کرنے کی کوشش کرتے اور راتوں کو گشت لگاتے اور اللہ کی رضا جوئی اور ثواب کی خاطر رعایا کے حق میں اپنی ذمہ داریاں نبھاتے۔ قومی و ملکی صورتِ حال سے واقفیت کا یہ جذبۂ خالص صرف دارالحکومت تک محدود نہ تھا، بلکہ آپؓ کی توجہ اور نگرانی کا دائرہ اسلامی مملکت کے چپے چپے تک وسیع تھا، جیسا کہ آپ عنقریب ان شاء اللہ آئندہ صفحات میں ملاحظہ کریں گے۔